ماتحت عدلیہ کے چند حقائق

aslam awanخیبر پختونخوا میں ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سشن ججز کے امتحانات میں شریک ہونے والے 596 امیدواروں میں سے کوئی ایک بھی پاس نہیں ہو سکا، ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ نتائج کے مطابق کوئی امیدوار کامیابی کے لئے مطلوب 60 فی صد نمبر حاصل نہیں کر سکا، اسی رزلٹ نے سول ججوں کی اس رنجش کو مزید گہرا کر دیا جس کا اظہار اس رٹ درخواست میں کیا گیا جس میں ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سشن ججز کے بھرتی رولزکو بنیادی حقوق کے منافی اور آئین کے ارٹیکل199 سے متصادم ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اے ڈی جے کے امتحانات سے دو روز قبل ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے ایڈیشنل سشن ججز کی براہ راست بھرتی کے امتحانات میں شریک ہونے کے لئے سول ججز کی رٹ درخواست کو دائرہ سماعت سے باہر ٹریبونل سے رجوع کر نے کی ہدایت کے ساتھ خارج کر دیا۔

تاہم فاضل عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں کیس کے میرٹس پہ بحث کے دوران نہایت وقیع نکات اٹھائے۔ پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ جوڈیشل آفیسرز سول سرونٹ رولز کے تابع ہیں یا جوڈیشل سروسز کے قواعد و ضوابط کے تابع ہیں؟ آرٹیکل 212 کے تحت صوبائی اسمبلی کی قراداد کے ذریعے بنائے گئے ایڈمنسٹرٹیو ٹربیونل، جو بجائے خود اس اتھارٹی کے ماتحت ہوں جس کے خلاف سائل درخواست لے جائے گا،جوڈیشل آفیسرز کو انصاف کی فراہمی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں؟ کیا سیشن ججز جیسی حساس پوسٹوں پہ کوٹہ سسٹم کے تحت بھرتیوں کا نظام قرین انصاف ہے؟ کیا ہم کوٹہ سسٹم کے ذریعے بہترین کی تلاش کا مقصد پا سکتے ہیں؟ کیا وکلاء جوڈیشل سٹرکچر کا جزو ہیں،اگر ہیں تو انکی حیثیت کو کیسے متعین کیا جائے گا؟ ایک جوڈیشل آفیسر کی ملازمت کو ترقی کے فطری عمل سے الگ کر کے منجمد رکھنے کے مضمرات کیا ہو سکتے ہیں؟ ہمارے نظام عدل کا مستقبل ایسے ہی چند سوالات سے متعلق ہے۔ ان امور کا تصفیہ ہی اس پیچیدہ، وسعت پذیر اور متضاد عوامل کے تال میل سے توازن پانے والے نظام عدل کو ٹوٹ پھوٹ سے بچا سکتا ہے۔ سول ججز کی رٹ درخواست کا استرداد بظاہر معمول کا عمل تھا جسے قواعد و ضوابط کی بھول بھلیوں کے بے لچک وظائف کے ذریعے نمٹا دیا گیا تاہم معاملہ کی گہرائی میں جھانکا جائے تو یہ امر نظام عدل کے ان عمیق تضادات کی غماضی کرتا ہے جسے پُر شکوہ مظاہر نے چھپا رکھا ہے ،
ان الجھے ہوئے، متضاد اور کثیرالجہت انسانی معاملات کو صرف منجمد قوانین سے نہیں بلکہ ججز کی ذہنی لچک اور دانائی ہی سے سلجھایا جا سکتا ہے، فرانسس بیکن نے کہا تھا کہ ’جج کو قانون کی سخت گیری اور بے لچک کیفیت کا ادراک ہونا چاہیے‘۔ اگر منصف اپنے ذہن میں لچک پیدا نہ کر سکیں تو یہ مربوط قوانین عدل کے بارے میں ہماری فہم کو واضح کرنے کی بجائے اسے مزید مبہم بنا دیں گے۔ یہ کوئی غیر اہم بات نہیں کہ جوڈیشل سسٹم کا ایک موثر جز بجائے خود حصول انصاف کا متلاشی بن کے زنجیر عدل ہلا رہا ہے، اگر ماتحت عدلیہ کے تحفظات دور کرنے میں تساہل سے کام لیا گیا تو سطح کے نیچے پنپنے والا اضطراب باہر آ کر مشکلات کا سبب بن سکتا ہے، جوڈیشل آفیسرز کو تقسیم اختیارات کی توجیہ کے ذریعے یہ باور کرانا ممکن نہیں کہ آئین کے موسس نے مقنّنہ، انتظامیہ اور عدلیہ کی حدود و اختیار اور دائرہ عمل کا تعین کر دیا،قانون سازی پارلمنٹ ، پالیسیز کی تشکیل اور نفاذ کااختیار انتظامیہ اور قانون کی تشریح عدلیہ کی ذمہ داری ٹھہری،لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ وہ سیمابی حقائق ہیں جو وقت و حالات کے ساتھ تغیر پذیر رہتے ہیں۔
بلاشبہ ہمیں اپنی مجبوریوں کو سمجھنے کی ضرورت پڑے گی کہ کسی باشعور اور منظم طبقہ سے ان سہولیات و مراعات کا واپس لینا دشوار ہوتا ہے جو انہوں نے زور بازو سے حاصل کی ہوں، بالخصوص جب پرائم پوسٹوں پہ تعیناتی کے کوٹہ کا محافظ وکلا جیسا ناگزیر عنصر ہو تو صورت حال اور بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے،البتہ یہ سوال پھر بھی اہم ہے کہ ججوں کے عہدے عدل و انصاف کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کی بنیاد پہ پُر ہوں گی یا پھر سسٹم سے وابستہ ایک موثر طبقہ کی دل جوئی کا سامان بنیں گی؟ اگر نظام عدل کو بہترین رجال کار کی فراہمی مقصود ہے تو کوٹہ بیکار ہے اور اگر ضرورت جوڈیشل سسٹم کو متوازن بنانے کے لئے اصولوں اور طریقہ کار میں سمجھوتہ ہے تو پھر کوٹہ ایک اضطراری ضرورت ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ اختیارات ومراعات کی موجودہ تقسیم حالات کے جبر کا نتیجہ ہے جسے تبدیل کرنا آسان نہیں ہو گا ۔
یہی جبریت ایک نئے کلچر کی اساس بھی بن رہی ہے جس میں مقام و مراتب اور مراعات کی تقسیم کے تعین کا پیمانہ اصولوں پہ نہیں، کشمکش ضدین پر منحصر ہو گا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ آزادی کے بعد ہمیں نو آبادیاتی دور کا مضبوط عدالتی ڈھانچہ، معتبر جج اور پاکیزہ روایات ورثہ میں ملیں،ایک ایسا نظام جو سیاسی مصلحتوں اور انتظامی تقاضوں سے ماوراء شفاف عدالتی عمل کا ضامن تھا،جو اگرچہ مقبول نہیں تھا لیکن اسے رائے عامہ کا حقیقی اعتماد حاصل تھا،ججز اپنے طرز عمل میں محتاط اور مراعات و اختیارات پر قانع تھے کیونکہ وہ میسر وسائل کے اندر جینے کا ڈھنگ سیکھ چکے تھے،معاشرے میں اب بھی ایسے لوگ زندہ ہوں گے جنہوں نے اس قابل اعتبار سسٹم کے مظاہر کو قریب سے دیکھا اور اس سے استفادہ کیا ہو گا۔ ابتدائی ایام کے جسٹس ایم آر کیانی اورکارنیلس کے حسن کردار کی مثالیں آج بھی ہماری دیو مالائی داستانوں کا جز ہیں ۔گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے جسٹس میاں عبد الرشید کو کسی سرکاری تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ بھجوایا تو انہوں نے یہ کہہ کے دعوت نامہ واپس کر دیا کہ میری عدالت میں سرکار کے خلاف متعددکیسز زیر سماعت ہیں،ایک فریق کے ساتھ قربت انصاف کے تقاضوں کو گزند پہنچا سکتی ہے۔ہندوستان کے ہردل عزیز وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کسی کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمدعلی چھاگلہ کو سفارش کی تو انہوں نے فیصلہ میں لکھوادیا ’اس کیس میں مجھے ایسی شخصیت نے اپروچ کیا جو وزیر اعظم کے درجہ سے کم نہ تھی‘ فیصلہ سنانے سے قبل مسٹر نہرو کو رپورٹ مل گئی، انہوں نے دوبارہ رابطہ کر کے معذرت کے ساتھ سفارش واپس لے لی، لیکن جسٹس چھاگلہ نے اس پسپائی کو بھی فیصلہ کا حصہ بنا دیا،جسٹس چھاگلہ جب ریٹائرڈ ہوئے تو مسٹر نہرو نے انہیں ہندوستان کا وزیر خارجہ تعینات کر دیا۔ اعلیٰ عدلیہ کا فرض اولین بنیادی حقوق کا تحفظ اور فرد کو ریاستی استبداد سے تحفظ دلانا تھا لیکن بدقسمتی سے یہاں آمروں کی سیاسی مجبوریوں نے اس استوار عدالتی نظام کو نظریہ ضرورت میں تحلیل کر کے عدلیہ کی بلندترین اخلاقی پوزیشن کو شکوہِ اقتدار کا حصہ بنا لیاجس سے بنیادی حقوق کے تحفظ کا یہ جائز وسیلہ اپنی حکمتوں کے خم و پیچ میں الجھ کے غیر مؤثر ہوتا گیا،جج مقبول اور سائلین خوفزدہ ہوتے گئے۔اب عدالتی فعالیت کے ساتھ جو نیا کلچر پروان چڑھ رہا ہے اس کی اقدار کا تعین آئین نہیں، کشمکش ضدین کریں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *