ہری ہری نہ بول سکھی۔۔۔ میں تو ہری پور میں ہاری

WISI BABAتحریک انصاف سے حساب برابر کرنے کے لئے مسلم لیگ (ن) کو ہری پور میں ضمنی الیکشن سے اچھا موقع دستیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ خیبر پختون خوا میں سیاسی دلچسپی کھو دینے کے باوجود ہری پور کی اس سیٹ پر مسلم لیگ (ن) اب بھی ایک تگڑے پارٹی ووٹ کی مالک ہے۔
ہری پور کی قومی اسمبلی کی نشست پر اصل حریف دو ہی ہیں سابق صدر ایوب خان فیملی کے ترین خانوں کا مقابلہ خانپور کے راجگان سے مقابلہ رہتا ہے۔ کوٹ نجیب اللہ کے گجر سردار بھی ضلع کا اہم سیاسی خاندان ہیں۔ ترین اور گجر سردار مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ لے کر راجگان کو مقابلے ہراتے رہے ہیں۔
گوہر ایوب نے نوازشریف کی جلاوطنی کے بعد ق لیگ میں شمولیت اختیار کی اور انکے صاحبزادے عمر ایوب قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔ نوازشریف نے یہ بے وفائی دل میں رکھی اور دو ہزار آٹھ کے الیکشن میں کوٹ نجیب اللہ کے سردار مشتاق کے زریعے قومی سیٹ جیت کر ریحانہ کے ترینوں سے اپنا حساب برابر کیا۔ گوہر ایوب خان نے کسی نہ کسی طرح نوازشریف کو رام کیا اور دو ہزار تیرہ میں اپنے صاحبزادے عمر ایوب کے لئے دوبارہ ٹکٹ حاصل کر لیا۔ ٹکٹ میں اس تبدیلی کی وجہ سے سردار مشتاق نے پارٹی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
پی ٹی آئی کے راجہ عامر زمان ذاتی مقبولیت میں اپنے حریف ترین خانوں اور گجر سرداروں پر برتری رکھتے ہیں۔ ضلع ناظم رہنے کی وجہ سے انکے وارڈ کی سطح پر پورے حلقے میں بہت مضبوط روابط بھی ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں وہ معمولی اکثریت سے الیکشن جیت گئے تھے۔ عدالتوں میں عمر ایوب سے لڑتے گھلتے جیتتے ہارتے رہے۔ آخر کار ضمنی الیکشن کرانے کا حتمی اعلان اعلی ترین عدالت سے ہوا۔
اس اعلان نے مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک نادر موقع فراہم کیا جس کا اس نے بھرپور فائدہ اٹھا کر پی ٹی آئی کو اس صوبے میں ایک بڑی اور بری شکست دی جہاں صوبائی حکومت بھی پی ٹی آئی ہی کی ہے۔ اس جیت کو یقینی بنانے کے لئے مسلم لیگ (ن) نے اپنی سیاسی مہارت کا بہترین استعمال کیا۔ سب سے پہلے اپنا امیدوار بدلا گیا۔ عمر ایوب کو ٹکٹ دینے سے انکار کیا گیا تو انہیں اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے والدہ کی بیماری کا بہانہ کرنا پڑا حالانکہ وہ الیکشن مہم میں سرگرم دکھائی دئیے۔
بابر نواز خان کو مسلم لیگ ن کی جانب سے میدان میں اتارا گیا جو ضمنی الیکشنوں میں بطور آزاد امیدوار ہزاروں ووٹ لے کر اپنی مقبولیت ثابت کر چکے تھے ان کے ایک چچا پہلے ہی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں۔ وزیر اعظم نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے حلقے کے تمام اہم خاندانوں کو وزیر اعظم ہاؤس طلب کیا۔ سابق ن لیگی ایم این اے سردار مشتاق کو دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شامل کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ہری پور سے تمام سابق ٹکٹ ہولڈروں کو جو ہر وقت آپس میں برسرپیکار رہتے ہیں بلا کر واضح کر دیا گیا کہ شکست کسی صورت قابل قبول نہیں اور جس ٹکٹ ہولڈر کے حلقے سے کم ووٹ ملے، اس کی خیر نہیں۔
ن لیگیوں کو بروقت یہ بھی یاد آ گیا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار راجہ عامر زمان کے چھوٹے بھائی راجہ فیصل زمان مسلم لیگ (ن) کے ہی صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں ان کو بھی بلا کر پیار محبت سے اپنے بھائی کے خلاف سرگرم کر دیا گیا۔ اپنے تمام لیڈر حضرات پر نظر رکھنے کے لئے نواز شریف نے اپنے پولیٹکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی کو بھی حلقے میں ہی ڈیرے ڈال کر لیڈر حضرات کی نگرانی پر لگا دیا۔ اسی پر بس نہیں کی۔ ہری پور کی سب سے بڑی گجر برادری کو راغب کرنے کے لئے گجر برادری کی اہم شخصیت سابق ڈپٹی سپیکر چوھدری جعفر اقبال کو بھی ہری پور میں قیام کی ہدایت کی گئی۔
اتنا کچھ کر کے بھی نوازشریف مطمئن نہ ہوئے تو لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود بھی ٹہلتے ہوئے ہری پور کے قریب سے ہو آئے اور وہاں یہ اعلان کیا کہ ہزارہ موٹر وے ہری پور سے گزرے گا اور تین کی بجائے چار لین ہو گا۔
راجہ عامر زمان مسلم لیگ (ن) کے ان سب حربوں سے بھی بچ جاتے اور سیٹ بھی بچا لیتے لیکن ریحام خان کی لانچنگ کے لئے اس الیکشن کا انتخاب پی ٹی آئی کی ایک سیاسی غلطی ثابت ہوئی اور پارٹی مخالفین کپتان کو موروثی سیاست کے خلاف اس کے نعرے یاد کرا کے عروسی سیاست کے طعنے دیتے رہے۔ پی ٹی آئی کے لئے اس ہار میں سبق ہیں جو نظر انداز کئے جا سکتے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کو اس جیت نے بھرپور طریقے سے نئی توانائی دے دی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *