پاکستانی ادیب کس گھاٹ اترے گا؟

wajahat-masood-blogاب سے چھ دہائیاں پہلے ہم نے پاکستان میں بہت بلند توقعات کے ساتھ قدم رکھا تھا۔ عالمی جنگ کے فوراً بعد کے وہ برس یوں بھی امید سے عبارت تھے۔ مختارمسعود نے ڈاکٹر فضل الرحمن کے خاکے میں ان دنوں کے حوالے سے کیا اچھی بات کہی ۔ ’مسعود میاں، وہ دنیا جو میں نے تیسری دہائی میں پہلی بار دیکھی تھی ، وہ جنگ میں کھیت رہی۔ اب ایک نئی دنیا کی تعمیر کی امید ہے اور پرانی دنیا کے کھنڈر۔ ان کھنڈرات کی سیر کرو اور اس تعمیر میں حصہ لو۔ یہ اتفاق تو خوش نصیب نسلوں کو میسر آتا ہے۔‘
یورپ میں تعمیر نو کا غلغلہ تھا۔ ایشیا اور افریقہ میں قومی آزادی کا عہد شروع ہو رہا تھا۔اشتراکی دنیا مشرقی یورپ اور ہند چینی کے محمل کے سامنے گوش بر آواز تھی۔ ہمارا قصہ تھوڑا مختلف تھا۔ ہم نے ایک ملک حاصل کیا تھا جس کا اس سے پہلے تاریخ میں کوئی ذکر نہیں تھا۔ ہمیں اس ملک کو قوم میں تبدیل کرنا تھا۔ علوم، فنون ، سیاست ، معاشرت ، اداروں اور اقدار غرض ہر سطح پر اس قوم کے خدوخال تراشنا تھے۔ تقسیم ہند کے تناظر میں روایت کے تسلسل اور نئے ملک کے تشخص کی چنوتی گھمبیر تھی۔ توقعات میں ایک رنگ ترقی پسند سوچ کا تھا تو خواہش کا ایک رنگ وہ بھی تھا جس کا اظہار آزادی سے کچھ پہلے حسن عسکری نے کیاتھا۔ ’پاکستان بنے تو فحاشی پر بھی رنگ آئے۔ غلاموں کی تو فحاشی بھی پھسپھسی ہوتی ہے۔ ‘
پاکستان بننے کے فوراً بعد ایک روایت تو یہ شروع ہوئی کہ وائی ایم سی اے کے سٹیج سے اختر شیرانی کو نیچے اتار دیا گیا۔ ایک رنگ کی ترجمانی مولانا صلاح الدین احمد اور حمید احمد خان کے حصے میں آئی۔ ایک شعلہ طور مظفر علی سید کی صورت میں اٹھا۔ ایک محاذ ذوالفقار بخاری نے سنبھالا۔ ایک طرز کی بنا ایم ڈی تاثیر نے رکھی۔ ایک تنازع سعادت حسن منٹو کے ادبی مقام پر شروع ہوا۔ منٹو کو حسن عسکری نے پاکستان کا نمائندہ ادیب کہا تھا اور منٹو کی موت پر اطمینان کا سانس عبدالماجد دریا آبادی نے لیا تھا۔پاکستان میں ادب کی ابتدا اور انتہا سمجھنا ہو تو یہ جاننا کافی ہو گا کہ آخر آخر حسن عسکری ادب کے دیر سے نکل کر عبدالماجد دریا آبادی کے حرم میں داخل ہو گئے تھے۔
محمد حسن عسکری نے پاکستان میں ادب کی موت کا اعلان قیام پاکستان کے پانچ برس بعد ہی کر دیا تھا لیکن اگر پاکستان میں زندہ اور متحرک تمدنی مظہر کے طور پرادب کے انحطاط کو کوئی تقویمی نشان ہی دینا ہو توغالباً اکتوبر 1958ء وہ مقام ہو گا جس کے بعد پاکستان میں ادب کی آبرو بلکہ فنون لطیفہ کا مقام بھی جاتا رہا۔ ایسا نہیں کہ اس کے بعد ادب تخلیق نہیں ہوا تاہم پاکستان میں تمدنی قوتیں اکتوبر 1958ء کے بعد اپنی اہمیت کھو بیٹھیں۔ پاکستان میں اب تک جو ادب تخلیق ہوا، اس کے بہترین نمونے ان مرد اور خواتین ادیبوں کی طرف سے سامنے آئے جو تقسیم ہند سے پہلے اپنا ادبی سفر شروع کر چکے تھے یا انہوں نے برطانوی ہند میں یا پاکستان کے ابتدائی برسوں میں رسمی تعلیم اور اکتساب ہنر کے مرحلے طے کیے تھے۔ یہ کہنا مناسب نہیں ہو گا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے ادیب ابھی کم عمر ہیں اور ان غنچوں کے کھلنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ میرا جی نے اڑتیس برس ، منٹو نے بیالیس سال ،ناصر کاظمی نے سینتالیس برس اورابن انشا نے اکاون برس کی عمر پائی تھی۔ پاکستان میں ادب کی صورت حال یہ ہے کہ بیس کروڑ کی آبادی میں ایک ہزار کا ایڈیشن چھپتا ہے اور بیشتر مصنف کی اپنی جیب سے۔ عام طور سے ایک فنکار کے لیے اپنے ہنر کے آلات پر عبور لازم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ہمارے ہاں گزشتہ پچاس برس میں پیدا ہونے والے ادیب زبان ، روایت اور مہارت کا اعلیٰ معیار پیش نہیں کر رہے۔ اسی طرح ادیب کی اپنے منتخب ہنر میں نئے تجربات، خیالات اور دنیا بھر میں سامنے آنے والے ادب کے بہترین نمونوں سے آشنائی بھی اطمینان بخش نہیں۔
بات یہ ہے کہ ہمارے ادب کو ایک سے زیادہ امراض لاحق ہیں۔ پاکستان میں نظریاتی ریاست کا مفروضہ پایا جاتا ہے۔ نظریاتی ریاست وہ آکاس بیل ہے جو کلاسیکل روسی ادب جیسے تناور شجر کو جکڑتی ہے تو ٹالسٹائی، دوستو وسکی، گوگول، ترگینف اور چیخوف کی روایت ایلیا اہرن برگ اور شولوخوف پر ختم ہوتی ہے۔ نظریاتی ریاست وہ رندہ ہے جو بظاہر تو لکڑی کے ٹکڑوں کو ہموار اورمفید مطلب ٹکڑوں میں تبدیل کرتا ہے لیکن اس عمل میں درخت ٹنڈ منڈ ہو جاتے ہیں۔ مجسمہ پتھر کی سل بن جاتا ہے۔ شعر کی پیچیدگی مہمل ممتنع میں ڈھل جاتی ہے۔ ادب اور قاری کے درمیان سرکاری اہلکار اور خدائی فوج دار آگھستے ہیں۔ ادب زندگی کے امکان کو تسلیم کرنے اور بیان کرنے کا نام ہے۔ نظریاتی ریاست میں سیاست ، مذہب اور جنس کے بیان پر احتساب مسلط کیا جاتا ہے۔ زندگی کے یہ سرچشمے ٹھہرے ہوئے پانی کے تالاب میں بدلتے ہیں توادب بھی مرجھا جاتا ہے۔ نظریاتی ریاست اور ادب میں ایسا تصادم ہے کہ دونوں میں بقائے باہم ممکن نہیں۔ توانا ادب نظریاتی ریاست کا پول کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ نظریاتی ریاست ادب اور فنون کی جڑوں پر کلہاڑا چلاتی ہے۔
پاکستان میں ادب کو لاحق ایک قدیمی بحران ہماری روایت اور نصب العین کی شناخت سے تعلق رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنا لنگر کہاں ڈالنا ہے۔ بحیرہ عرب میں یا بحیرہ اوقیانوس میں۔ ہمارے ادب کی کھیتی میں پانی دریائے سندھ سے آئے گا یا گنگا جمنا کے گھاٹ سے ۔ ہمیں مختلف روایات کے امتزاج سے ایسا ادب تخلیق کرنا ہے جسے پاکستانی ادب کہا جا سکے لیکن جو کسی احساس کمتری کے بغیر دنیا بھر کے بہترین ادب کے مقابل رکھا جا سکے۔ پاکستانی ادب کو معاشرے میں موجود داخلی انتشار سے بھی نمٹنا ہے۔تعلیم اور نصاب کے مسائل اپنی جگہ ہیں ، ادبی جرائد اور لائبریریوں کا احوال اپنی جگہ۔ ایک بحران پاکستان کے تاثر کا بھی ہے۔ ادیب قوم کا چہرہ ہوتا ہے۔ جب ہم نے اس چہرے کو مسخ کر دیا تو قوم کی پہچان بھی بگڑنا تھی۔ یہ تاثر بیرون ملک ہی نہیں، اندرون ملک بھی بگڑا ہے۔ پاکستان کے ادیبوں کو ایک مسئلہ یہ بھی پیش ہے کہ بین الاقوامی سطح پر موجود زبان کے بحران اور خود اپنی زبانوں میں کیسے ارتباط پیدا کیا جائے۔ پاکستانی زبانیں لسانی اعتبار سے یورپی قبیلے سے تعلق رکھنے والی مشرقی زبانیں ہیں جن پر عرب،وسطی ایشیا اور ہندوستانی اثرات بھی موجود ہیں۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ خالص لسانی بنیادوں سے قطع نظر خیال اور طرز احساس کی سطح پر ہم مغربی روایت سے بہت حد تک کٹ گئے ہیں۔ ایسے میں ایک امکان تو یہ ہے کہ ہم سمٹ کر خالص مقامیت کی نذر ہو جائیں اور دوسرا امکان یہ ہے کہ ہم اپنی لسانی روایت میں موجود مختلف سرچشموں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے بیان کو وہ داخلی توانائی فراہم کریں کہ ہمارا ادب پاکستانی ادب ہوتے ہوئے بھی عالمی سطح پر ہمارا اظہار بن سکے۔
موجودہ پاکستان میں یونانی ڈرامے کے جملہ عناصر موجود ہیں۔ کشمکش بھی موجود ہے اور المیے کی اساسی خامی بھی موجود ہے۔ ایک بیانیہ جنگ کا ہے اور ایک امن کا۔ایک بیانیہ آزادی کا ہے اور ایک جبر کا۔ ایک بیانیہ مساوات کا ہے اور ایک بیانیہ امتیاز کا۔ پاکستانی ادیب کے سامنے ایک راستہ علم کا ہے اور ایک راستہ عقیدے کا۔ اسے اس انکسار کو بیان کرنا ہے جو علم سے پیدا ہوتا ہے یا اس رعونت کو زبان دینا ہے جو عقیدے سے جنم لیتی ہے۔ ادیب کو پیداوار کا رزمیہ بیان کرنا ہے یا مال غنیمت ، خیرات اور استحصال کا قصیدہ لکھنا ہے۔ ادیب کو استخراج اور انجذاب میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔ ہمیں تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا تخصص نکھارنا ہے یا ہمیں اخراج، بے گانگی اور لاتعلقی کی راہ اپنا کر تنہائی ، کس مپرسی اور غیر متعلق ہونے کا عذاب لکھنا ہے۔ ادیب کو محبت اور معنویت کی طرف لے جانے والی جنسی آزادی اور جنسی پابندیوں سے جنم لینے والی کج روی میں انتخاب کرنا ہے۔ ہمارے ادیب کو مسیحا کے خواب اور مسلسل مشقت کی کٹھنائی میں انتخاب کرنا ہے۔ مسیحا کا خواب خیال، لفظ اور فعل کے انتشار کی طرف لے کے جاتا ہے۔ دوسری طرف مشقت کا بل کھاتا راستہ ڈھانچوں ، اداروں اور عمل کے تسلسل سے ٹھنڈے پانیوں کے چشمے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ادیب کے سامنے بنیادی انتخاب یہ ہے کہ آسانی سے قبول کیا جانے والا جھوٹ لکھے یا بظاہر ناپسندیدہ سچ بیان کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *