سیاسی عمل کو موقع دینے کی ضرورت

aslam awanپارلیمانی سیاست کو ترک کر کے مزاحمت کی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرنے والی ایم کیو ایم کو اجتماعی سیاسی وجود سے کاٹ پھینکنے کی بجائے جمہوری سسٹم سے جوڑے رکھنے کی قومی قیادت کی خواہش کتنی بارآور ہو گی اس کا دارو مدار طاقتوروں کے ایما پر ہو گا۔ تاہم سیاست میں رواداری اور باہمی انحصار کے فروغ میں ذہنی بلوغت کی وہ علامتیں دکھائی دے رہی ہیں جو تضادات میں ہم آہنگی پیدا کر کے ہمارے فکری ارتقا کا زینہ بنیں گی۔ قومی قیادت نے جمہوری سسٹم کے خلاف عمران خان کی جارحیت کو تحمل وبرداشت کی نرماہٹ سے کند کر کے جہاں مملکت کو ردعمل کے مضمرات سے بچایا،وہاں پرامن طریقوں سے تلخیوں اور نفرتوں کو کم کرنے اور اصلاح احوال کا ڈھنگ بھی سیکھ لیا،یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جس نے ہمارے سیاسی کلچر کو صبر و استقامت کی اخلاقی قوت سے روشناس کرانے کے علاوہ یہ باور کرایا کہ بقا کا راز حریت و آزادی کی ان اقدار میں مضمر ہے جنہیں ہم خود بیدردی سے مسخ کرتے رہے،بدقسمتی سے مقدس آمروں نے اس خود مختار مملکت سے اس آزادی اور حریت کو نکال پھینکا جوکبھی قرون اولی کے مسلمانوں کے لئے دیانت و کردار کا معیار سمجھی جاتی تھی،طویل آمریتوں نے سماجی علوم اور ابلاغی تمدن میں بھی ایسی فدویانہ ذہنیت کو پروان چڑھایا جو آزادی وجمہوریت جیسی ضروری و مفید چیزوں کو ادنی و حقیر سمجھنے لگی اور ان چیزوں کی تعریف میں رطب السان ہو گئی جو غیر معمولی اور حیرت انگیز ہوتی ہیں۔ میڈیا کے شہسوار آج بھی ان فرضی حقائق کو جنگی ترانوں کی دھنوں میں میدان فارسیلیا کے بیان کی طرح پیش کرتے ہیں جو عوام کو خوفزدہ رکھنے کے لئے تخلیق کئے جاتے ہیں۔
اس بدلے ہوئے ماحول میں امید تھی کہ ایم کیو ایم کے ناراض بھائیوں کو منانے اور حکومتی مذاکرات کار مولانا فضل الرحمن کی مساعی کو نتجہ خیز بنانے کے لئے حکمراں گروہ چند قدم مزید آگے بڑھے گا لیکن حکومت اْسی پہلے رابطہ کو کافی سمجھ کے بیٹھ گئی، شاید حکومتی صلاح کاروں نے متحارب گروہوں کے ذہنی جمود اور مدافعت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا،اسی لئے وزیراعظم کا سردمہری سے مزّین اعتماد مولانا کی کارآمد پیش رفت کو لاحاصل بنانے کا سبب بن رہا ہے،مولانا فضل الرحمٰن جیسے معتبر اور جہاں دیدہ سیاستدان کا نائن زیرو جا کے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کو مذاکرات کے ذریعے معاملات سلجھانے پہ آمادہ کر لینے کو ،حکومت،ذرا سی انکساری اور تھوڑی سی دیانت سے کامیاب بنا سکتی تھی مگر افسوس کہ سہمے ہوئے وزیراعظم اس معاملہ میں سردمہری کا تاثر قائم رکھ کے اپنی کمزوری کو چھپانے میں سرگرداں ہیں حالانکہ متحدہ قومی موومنٹ اپنے کچھ جائز مطالبات کی پذیرائی کے ساتھ قومی دھارے میں واپس آنے کو تیار تھی،مفاہمت کے لئے ایم کیو ایم کی طرف سے جو 19 شرائط پیش کی گئی ہیں ان میں کراچی آپریشن کے لئے مانیٹرنگ ٹیم کے قیام کا مطالبہ قابل عمل اور لاجیکل تھا۔ قومی سلامتی سے جڑے اس حساس معاملہ میں اہل دانش اور میڈیا نے بھی حکومت کی مدد کرنے کی بجائے جس سنگ دلی کے ساتھ فریقین اور مفاہمت کار کی تذلیل کو شعار بنایا وہ پیشہ واران اخلاقیات کی حدود سے ماورا اور احساس ذمہ داری سے عاری رویہ تھا،جس نے نفرتوں کی خلیج بڑھا کے دیوار سے لگائے جانے والے طبقات میں مایوسی کی شدت مزید بڑھا دی،شاید اسی لئے ایم کیو ایم کو پارلیمانی سیاست سے علیحدگی کے فیصلہ کی ایک بار پھر توثیق کر کے مزاحمت کی راہ اختیار کرنے کا عندیہ دینا پڑا۔
ایک شریف انسان کی مانند مولانا فضل الرحمٰن نے تو خاموشی اختیار کر لی تاہم انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو اپنا فرض ادا کرنے کی یادہانی ضرور کرائی،ایم کیو ایم کو قومی دھارے میں واپس لانا مشکل کام نہیں مگر پی ٹی آئی کے لئے پرجوش دکھائی دینے والے اپوزیشن لیڈر کی اس معاملہ میں بے حسی محل نظر ہے،حکومت اب بھی مذاکرات کی میز پہ بیٹھ کر ایم کیو ایم کے چند جائز مطالبات تسلیم کر کے اصلاح احوال کی راہیں نکال سکتی ہے لیکن حکمرانوں کے گریزپا رویے معمول کے اس سیاسی عمل کو بحران میں بدلنے کا جواز بن رہے ہیں۔ اس وقت قومی سیاست میں کارفرما سیاستدانوں کی اکثریت نہ صرف مصائب کا درست ادراک رکھتی ہے بلکہ مسائل کی انتہائی پیچیدہ گتھیاں سلجھانے کی صلاحیت سے بھی بہرور ہے، اب صرف انہیں سر اٹھا کے جینے کی روایت قائم کرنا ہو گی۔
بلاشبہ معاشرتی وظائف کی بو قلمونی میں پنپنے والے متضاد معاملات کی حرکیات کے اندر تربیت پانے والے سیاستدانوں کے دل وسعت ادراک اور ذہنی لچک کی اس روشنی سے معمور ہوتے ہیں جو زندگی کی ہمہ گیری اور تضادات سے لبریز حالتوں میں توازن پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا ہر سیاست دان ہمہ وقت جوابدہی کے احساس سے مغلوب رہنے کے علاوہ اس اعتماد کو قائم رکھنے میں سرگرداں رہتا ہے جو سیاسی مینڈیٹ کی صورت میں انہیں ایوان اقتدار تک پہنچاتا ہے، یہی وہ ذمہ دارانہ ذہنی کیفیت ہے جو اختیارات کی قوت کو اخلاق کے دائروں میں محدود رکھنے کا وسیلہ اور نشۂ اقتدار کو حد سے بڑھنے سے روکتی ہے۔ جمہوریت عقل اجتماعی کو بروئے کار لا نے کے طریقوں اور عوام کے دیئے ہوئے مینڈیٹ کے احترام کی روایات میں فروغ پاتی ہے اور یہی حقائق کے اثبات کا درست طریقہ بھی ہے،اس لئے بندوق کی طاقت سے اقتدار تک رسائی پانے والوں اور ایک جائز عوامی مینڈیٹ لے کر سریرآرائے اقتدار ہونے والوں کی سوچ اور طرز عمل میں فرق ہونا چاہیے۔
ایم کیو ایم کو کراچی کے عوام نے جو مینڈیت دیا وہ اتنا ہی قابل احترام ہو گا جتنا نواز شریف کو پنجاب سے ملنے والا سیاسی مینڈیت معتبر ہے،اسی لئے تو دونوں یکساں سوچتے ہیں۔ سیاست سمندر کی مانند اگرچہ اپنی سطح کو ہموار رکھتی ہے تاہم اس کی سطح کے نیچے ہر وقت کئی تلاطم خیز طوفاں برپا رہتے ہیں، اس لئے رشید گوڈیل پہ قاتلانہ حملہ کو بھی کراچی کے سیاسی رویوں کے اندر رکھ کے سمجھنے کی ضرورت پڑے گی، ان طلسماتی معاملات کو سلجھانے کے لئے طاقت کی نہیں۔ سیاست کے ان فطری وظائف کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے جن میں ذہانت کی لچک موجود ہو اور جو عجز و انکسار سے مزین ہوں۔ طاقت کے اندھے استعمال کی بجائے خوف و ترغیب کے اصولوں کو استعمال کر کے برگشتہ گروہوں کو درست سمت پہ لایا جا سکتا ہے تاہم اس میں قیادت کو سیاسی مفادات سے رضاکارانہ دستبرداری اور قربانی کا لہو شامل کرنا پڑے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *