حکومت نے ٹیم نہ بھیجی تو مذاکرات کی بھیک نہیں مانگیں گے‘ طالبان

Hakeemullah Mehsud might have been killedتحریک طالبان پاکستان نے وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکا سے نہ تو اچھی نہ بری توقعات وابستہ کر رکھی ہیں بلکہ ان کے خیال میں وہاں سے ان کے لئے مزید شر ہی آسکتا ہے۔ انہوں نے ڈرون حملوں کے حوالے سے وزیراعظم کے امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ درا صل پاکستان امریکا سے سفارتی سطح پر مطالبات کرنے تک دلچسپی رکھتا ہے ورنہ اگر پاکستان ان حملوں کو درحقیقت روکنا چاہے تووہ ڈرون حملے بزور طاقت روک سکتا ہے مگر وہ اس کا اختیار نہیں رکھتا۔ جنگ اور نیوز سے ٹیلی فون پر وزیرستان ایجنسی کے کسی نامعلوم مقام سے تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے کہا ابھی تک انہیں نہ تو سرکاری طور پر نہ کسی بیک چینل کے ذریعے سے مذاکرات کے لئے سگنل ملا ہے اور نہ انہیں اس کی زیادہ امید ہی ہے۔ تاہم انہیں یہ امید ضرور ہے کہ حکومت مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ طالبان پر ڈالنے کی کوشش کر ے گی اور میڈیا جو پہلے ہی جانبدار ہے اسے اچھالنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا اگر حکومت کسی مذاکراتی ٹیم کو ہمارے پاس نہیں بھیجے گی تو ہم بات چیت کی بھیک مانگنے اس کے پاس نہیں جائیں گے۔ جہاں تک طالبان کی جانب سے اس بیان کا تعلق ہے کہ وہ آئین پاکستان کے تحت مذاکرات میں حصہ لیں گے یا نہیں ہم نے تو ایسی کوئی بات کی نہیں جو میڈیا ہم سے اگلوا سکے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حکومت کا یہ خیال غلط ہے کہ وہ میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے ہمیں مذاکرات کی میز پر لے آئے گی۔ شاہداللہ شاہد نے کہا ہماری یہ بات کہ مذاکرات کے حوالے سے اور طالبان کے مطالبات ماننے یا نہ ماننے کے حوالے سے حکومت کچھ زیادہ با اختیار نہیں ہے اب درست ثابت ہو رہی ہے اس لئے کہ وزیراعظم امریکی حکام سے شرائط پر اجازت حاصل کرنے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ علماء کی اپیل کے جواب میں طالبان نے جس مثبت ردِ عمل کا مظاہرہ کیا تھا بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی اس لئے کہ علماء کی اپیل کا خود حکومت نے کوئی عملی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ علماء کے وفد نے طالبان قیادت تک رسائی حاصل کر لی یا ان کا کوئی پیغام ان تک پہنچا ہو ۔ دراصل طالبان علماء کے ماضی کے کردار کی وجہ سے کچھ زیادہ پر امید بھی نہیں کیوں کہ بقول ان کے علماء نے کبھی بھی طالبان کے خلاف حکومتی ظالمانہ اقدامات کے خلاف کبھی کوئی کلمہ خیر نہیں کہا۔ جب پاکستانی طالبان ترجمان سے پاکستان کی حکومت کی طرف سے جاری کردہ نئے آرڈیننس کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ہم اس سے بھی سخت قوانین کا مقابلہ کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔ نہ ہمیں کوئی ہمارے راستے سے ہٹا سکا ہے نہ ہٹا سکے گا۔ ہم نہ تو دہشت گرد ہیں نہ ہی ہم نے کبھی مسجدوں اور عوام کو نشانہ بنایا ہے۔ ایسی کارروائیاں دوسرے گروہ ہمیں بدنام کرنے اور ہمارے خلاف آپریشن کو جائز بنانے کے لئے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا تاہم جو لوگ مسلمان ہیں انہیں ایک اسلامی ملک میں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور کرنا اسلام کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ البتہ جو غیر مسلم ہیں انہیں اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی آزادی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے سرکاری اسکولوں کو پہلے بھی نشانہ بنایا ہے او ر آئندہ بھی وہ ایسا ہی کریں گے کیوں کہ یہ اسکول ان کے نظریے کے مطابق لادین عناصر پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ ملک کے اندر جو دینی تعلیم دینے والے مدرسے ہیں ان میں بھی اس حد تک اصلاح کی ضرورت ہے کہ وہاں مادی یعنی فکری تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور تکنیکی تعلیم بھی دی جانی چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *