بہاولپور کا تاریخی کلا دھاری مندر

Bahawalpur 01بہاولپور شہر کے طول و عرض میں متعدد قدیم عمارات ، محلات ، عبادت گاہیں اور کھنڈرات آج بھی عہدِ رفتہ کی یاد دلاتے ہیں۔ غیر مسلموں کی عبادت گاہیں اس علاقے کی بین المذاہب ہم آہنگی کی روایات کی امین ہیں ۔ بہاولپور شہر میں فرید گیٹ میں داخل ہو کر ہم شاہی بازار سے گذرتے ہوئے قدیم محلہ ’پھٹوں والی گلی ‘ تک پہنچ سکتے ہیں ۔اور یہیں تقریباََ تین سو برس قدیم شری نانی دیوکلا دھاری جی مہاراج مندر ہے۔جو اب کلا دھاری مندر کے نام سے مشہور ہے ۔یہ عمارت اپنے فنِ تعمیر، نقش و نگار خصوصاََ لکڑی کے ڈھانچے اور اس پرکندہ مورتیوں کے باعث ایک خاص قسم کی جداگانہ حیثیت کی حامل ہے۔مندر کا مرکزی دروازہ لکڑی کا تھا جس پر نقش و نگار اور وشنوقبیلے کو ماننے والوں کے دیوتاؤں کی تصاویرکندہ تھیں ۔تاہم اب یہ دروازہ بہاولپور کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔
آج کل مندر میں میونسپل کارپوریشن بہاولپور کے زیر انتظام ایک پرائمری اسکول قائم ہے۔مندر کا کنٹرول محکمہ متروک وقف املاک کے پاس ہے جس نے مندر کی بالائی منزل کرائے پر دی ہوئی ہے ۔ تاریخی اہمیت کے حامل اس مندر کو محفوظ کرنے کے لیے وسیع فنڈز درکار ہیں جن کی عدم دستیابی کے باعث مندر کی عمارت شکست و ریخت کا شکار ہے ا ور بہاولپور میں عجائب گھر ہونے کے باوجود مندر کی نایاب اشیاء کو لاہور 03کے عجائب گھر میں منتقل کر دیا گیاہے۔مندر کی پر شکوہ عمارت تا حال فن تعمیر کی وجہ سے بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔اور اگر محکمہ آثار قدیمہ اور اوقاف مناسب توجہ دے تو تاریخ کی اس یاداشت کو محفوظ کیا جا سکتاہے۔لیکن شاید ہم بھول گئے ہیں کہ جو قومیں اپنی تاریخ بھلا دیتی ہیں تاریخ انہیں بھلا دیتی ہے۔

IMG_20131211_104928

B 8

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *