پرانے تصادم کے نئے منظر

aslam awanپنجاب میں قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں ٹربیونل کے فیصلوں کے بعد حکمران جماعت اور پی ٹی آئی کے درمیان تلخی بڑھ گئی ہے۔ عمران خان نے موقع شناس سیاستدان کی مانند سپیکر ایاز صادق کے حلقہ این اے 122 میں ری الیکشن کے فیصلہ کو اپنی سیاسی ہزیمت کا نقاب، ابہام اوران ناکامیوں کے ازالہ کا وسیلہ بنانے کی کوشش کی،جن کا سامنا انہیں گزشتہ سال اگست کے لانگ مارچ اور اسلام آباد کے طویل دھرنوں سے عبرتناک پسپائی کی صورت میں کرنا پڑا تھا،بعدازاں منظم انتخابی دھاندلی کے الزامات کے تصفیہ کے لئے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کے فیصلہ نے ان کی جدوجہد کو لاحاصل ثابت کر کے سیاسی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔اب انتخابی ٹربیونل کے تازہ فیصلہ کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں عمران خان نے2013ء کے الیکشن میں منظم دھاندلی کے اپنے فرسودہ الزامات کو دھرانے کے علاوہ پنجاب الیکشن کمیشن کے ممبران کے استعفوں کے ناقابل فہم مطالبہ اورحکومت کے خلاف دوبار سڑکوں پہ نکلنے کی دھمکی دے کر ایک بار پھر اپنی جماعت کے مستقبل اور سیاسی ساکھ کو داؤ پہ لگا دیا۔
پچھلے سال اگست میں سڑکوں پہ نکلنے کی بجائے عمران اگر آخری لمحات میں حکومت سے معاہدہ کر کے اپنے سیاسی ڈیٹرنٹ کو بچا کر نفسیاتی غلبہ قائم رکھتے تو نواز حکومت اب تک ازخود تحلیل ہو چکی ہوتی لیکن غلط ٹائم پہ صحیح فیصلہ کر کے انہوں نے جہاں اپنی استعداد ذہنی کو عیاں اورمصنوعی سیاسی قوت کا بھرم کھول دیا وہاں مشکلات میں پھنسی مسلم لیگ کو نئی توانائی بھی عطا کر دی،فریب کاری، جنگ کی مانند ہے اگر یہ جلد اپنے مقاصد حاصل کر لے تو ٹھیک وگرنہ تاخیر اس کے اصلی عزائم بے نقاب کر دیتی ہے،اس لئے عمران کے لئے دوبارہ ویسے حالات اور ماحول پیدا کرنا ممکن نہیں رہا۔اب تو عمران کے جارحانہ طرز عمل پر حکمراں جماعت اسی رفتار سے ردعمل دے گی جس شدت سے پی ٹی آئی پیش دستی کرے گی،پہلے مرحلہ میں نواز لیگ نے ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف عدالتوں میں جانے کی بجائے ری الیکشن میں کودنے کا فیصلہ کر کے دو دو ہاتھ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے،اس سے قبل لیگی رہنما دانیال عزیز نے پریس کانفرنس میں نہایت سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف تماشہ بند کر کے حقائق تسلیم کرے،عمران خان ایسے نفسیاتی مریض کی طرح ہیں جو ہسپتال کے وارڈ سے بھاگ کر گلی محلوں میں نعرے لگانا شروع کر دے،دھرنے دینا جمہوریت کے خلاف سازش تھی،جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف شکست و ریخت سے نکل نہیں پائی اور زندہ رہنے کے لئے نت نئے پروپیگنڈہ کا سہارا چاہتی ہے،دھاندلی کے خلاف چارہ جوئی کا طریقہ کار موجود ہے،پی ٹی آئی آئینی طریقہ کار اختیار کرے،چیئرمین نادرا کا تقرر تحریک انصاف کی مشاورت سے ہوا،عمران نے پہلے ان کی تعریف کی۔
مسلم لیگی اراکین اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری،مائزہ حمید اور مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں دانیال عزیز نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخواہ میں تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن پکڑ لی ہے،کے پی کے میں بجلی کے نظام سے خون کی ہولی کھیلی گئی، ہائیڈل بجلی کے لئے مختص تیس ارب میں سے چھبیس ارب روپے سٹہ میں ہار دیئے گئے، دستاویزات گواہ ہیں کہ تحریک انصاف نے بااثر لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بجلی کے لئے مختص رقم سٹاک مارکیٹ جوا میں ہار دی،اس کے باوجود تحریک انصاف والے خود کو پارسا اور باقی سب کو چور سمجھتے ہیں،اس طرز عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا،تحریک انصاف کے مطالبات آئین کے منافی اور جمہوریت کی توہین کے مترادف ہیں‘‘۔
لگتا ہے حکمران گروہ عمران کی لن ترانیوں کو کسی فیصلہ کن لڑائی کے لئے بروئے کار لانے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے،اس وقت سندھ کی دونوں بڑی جماعتوں،پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے علاوہ خیبر پختونخوا کی اے این پی اور جے یو آئی(ف) سیاسی محاصرہ اور احتسابی شکنجہ میں تڑپ رہی ہیں، ہر گزرتے دن میں ان کے لئے باعزت نجات کی راہیں مسدود ہوتی نظر آتی ہیں،عوام میں گہرا اثر و نفوذ رکھنے والی ان پرانی سیاسی جماعتوں کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا،بدقسمتی سے ہمارا فعال میڈیا،جو فاتح کی حوصلہ افزائی اور شکست خوردہ کی تضحیک کو فرض عین سمجھتا ہے،مزاحمت کے ان شعلوں کو بھڑکانے کے لئے پوری قوت کے ساتھ مقہور سیاستدانوں کی پیٹھ پہ تنقید کے تازیانے برسا کے انہیں اشتعال دلانے میں مشغول ہے، نواز لیگ کی قیادت جانتی ہے کہ یہی وہ لمحہ ہے جسے مقتدرہ اور محاصرہ میں آئے ہوئے سیاستدانوں کے درمیان فیصلہ کن لڑائی میں بدلا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ بار کی سابق صدر اور حقوق انسانی کی چیمپئن عاصمہ جہانگیر کی فعالیت اور سول سوسائٹی کے رہنماوں کا بدلتا ہوا لہجہ،مہم جوئی کے خوگر نوازشریف کے عزائم کو اکسا رہا ہے، ایوان اقتدار کی سرگوشیوں سے خطرات کی بو آ رہی ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کوئی مشترکہ خطرہ سیاسی دانوں کو رفتہ رفتہ کسی غیر مرئی اتحاد کی زنجیر میں پروتا دکھائی دیتا ہے اور سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پہ قومی اسمبلی میں پی پی پی کے اپوزیشن لیڈر کا ردعمل اسی رجحان کی غماضی کرتا تھا،خورشید شاہ نے آصف زرداری کے خلاف کسی ممکنہ کاروائی کے خلاف مزاحمت کا عندیہ دیتے ہوئے ریاست کے اندر ریاست کو برداشت نہ کرنے کا اعادہ بھی کیا،پیپلز پارٹی کے کچھ احباب آصف علی زرداری کو دبئی سے واپس آ کے احتساب کا سامنا کرنے کا مشورہ دے کر تصادم کی طرف لانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
قمر زمان کائرہ اور شری رحمان کا حکومت سے نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں وضاحت مانگنا بھی آنکھیں دکھانے کے مترادف تھا،وزیر اعلی قائم علی شاہ کی طرف سے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کو سندھ پر وفاق کا حملہ قرار دیکر نیب اورایف آئی اے کو دو دنوں میں صوبہ سندھ سے نکل جانے کا حکم ایک تباہ کن سیاسی کشمکش کی تیاری کا اشارہ ہے۔کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف فوجی آپریشن اور دہشتگردی سے جڑی مالی بد عنوانیوں کی ’’تحقیقات‘‘نے سیاسی ماحول میں گھٹن بڑھا دی اور پی ٹی آئی کے سوا ملک کی تمام قابل ذکر سیاسی جماعتیں کو اسی مبینہ خطرہ کے خلاف منظم مزاحمت کی ضرورت باہم صف آرا کر رہی ہے،سیاستدانوں اور مقتدرہ کے مابین 68 سال تک سطح کے نیچے برپا رہنے والی مہیب کشمکش اب سطح کے اوپر آ کے قومی سلامتی کے لئے ناقابل یقین خطرات پیدا کر سکتی ہے،ہمارے پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ سیاستدانوں کو مٹانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی،سیاسی نظام کی اصلاح جنگی بنیادوں پہ نہیں بلکہ ایسے تدریجی عمل سے ممکن ہو گی جسے طاقت نہیں حالات کا جبر سدھارتا ہے،ایسے جیسے وقت کی سرکش لہروں نے ایک دوسرے کے خون کی پیاسی جماعتوں کو میثاق جمہوریت کرنے پہ مجبور کیا اور اب تقدیر انہیں قوت کے مرکز کے خلاف صف آراء ہونے کے لئے سہارا فراہم کر رہی ہے،ارسطو نے کہا تھا کہ سیاست اچھے انسان تخلیق نہیں کرتی بلکہ میّسر مواد سے کام چلاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *