I asked for it

A_U_Qasmi_convertedعطاء الحق قاسمی

کالم لکھتے ہوئے اگرچہ ایک عرصہ ہوگیا ہے لیکن آج جس موضوع پر قلم اٹھارہا ہوں اس پر دل میں خاصی شرمندگی سی محسوس ہورہی ہے کہ آخر اپنےدانشور دوستوں کو منہ دکھانا ہے، میں دراصل تھوڑا سا وہمی شخص ہوں چنانچہ بہت سے امور کے حوالے سے شک میں مبتلا رہتا ہوں، مثلاً مجھے اس میں قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا جاچکا ہے مگر مجھے ہر وقت کچھ کھد بد سے لگی رہتی ہے۔ امریکہ نے اپنے مخالف حکمرانوں کو گرفتار کرنے سے موت کے گھاٹ اتارنے تک کے تمام مناظر پوری دنیا کو ٹی وی چینلز کے ذریعے دکھائے، حتیٰ کہ صدام حسین کے بے بسی کی حالت میں غار سے گرفتار ہوتے، ا س کا پورا منہ کھلوا کر بظاہر اس کے دانتوں کا معائنہ کرتے بھی دکھایا گیا، چنانچہ میری یہ خواہش تھی کہ اسامہ کی گرفتاری اور پھر اس کو سمندر میں پھینکتے بھی اگر دکھا دیتے تو میرے جیسے وہمی شخص کو امریکہ اور اپنے ان سارے دوستوں کے سامنے شرمندہ تو ہونا پڑتا جو اس بات کا برا مانتے ہیں کہ یار جب تمہیں کہہ جو دیا کہ امریکہ جو کہتا ہے وہ ٹھیک کہتا ہے تو تم کیوں اتنے بے اعتبارے ہوگئے ہو کہ امریکہ کے علاوہ ہماری تصدیق پر بھی تم مطمئن نظر نہیں آتے۔
اگر بات صرف یہیں تک محدود ہوتی تو میں یہ کالم کبھی نہ لکھتا، میری شرمندگی کی وجوہ اور بھی بہت ساری ہیں مثلاً مجھے سوفیصد یقین ہے کہ9/ 11کا سانحہ نہ صرف ہوا ہے بلکہ اس میں بے شمار بے گناہ امریکی پوری سفاکی کے ساتھ ہلاک بھی کئے گئے ،میرا یہ بھی خیال ہے کہ اس میں (پاکستان نہیں) کچھ مسلمان ملکوں کے جنونی بھی شامل تھے لیکن میں اپنے دانشور دوستوں کے ساتھ اس امر کا اظہار بوجہ شرمندگی نہیں کرپاتا کہ اتنا منظم منصوبہ کسی اندرونی ایجنسی کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ میں نے اپنے دانشور دوستوں سے پہلی بار ایک لفظConspiracy theory(سازشی نظریہ) سنا اور اب اس ترکیب کا اطلاق ہر اس واقعہ خبر یا افواہ پر کیا جاتا ہے جو امریکہ کے خلاف جاتی ہو، پاکستان میں جو دہشت گردی ’’ظالمان‘‘ کررہے ہیں اس سے زیادہ پاکستان دشمنی ،اسلام دشمنی اور انسان دشمنی ممکن نہیںلیکن اگر کہا جائے کہ اس کے پیچھے کچھ بیرونی قوتیں بھی موجود ہیں جو اسے فوراً کانسپرنسی تھیوری قرار دے کر کہنے والے کو جھاڑ پلادی جاتی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمیں دوسروں پر الزام دھرنے کی بجائے اپنے گھر کی خبر لینا چاہئے، سو فیصد درست بات لیکن گھر کی خبر لینے کے لئے بھی گھر کے باہر کے لوگوں سے بات کرنا پڑتی ہے جو ان بلائوں کو اسلحہ اور پیسہ فراہم کرتے ہیں، اگر کوئی کہے کہ بلوچستان کے ساتھ ہم لوگوں نے بے پناہ ظلم کیا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے جواب وہاں کے حالات کی خرابی کی صورت میں نظر آرہا ہے، بلوچ رہنمائوں سے براہ راست بات کرنے کے علاوہ ان طاقتوں کو بھی وہ سارے ثبوت اور شواہد سے آگاہ کرنا چاہئے جو شوریدہ سروں کی پشت پناہی کے حوالے سے پارلیمنٹ اور اہم شخصیتوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو اس پر بھی میرے دانشور دوست وہی تھیوری درمیان میں لے آتے ہیں جو کثرت استعمال سے آہستہ آہستہ اپنا اثر کھوتی چلی جارہی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہمارے یہ دوست امریکہ کی ہر بات میں کیڑے نکالتے تھے، دنیا میں کوئی واقعہ ہوتا یہ اس کی ذمہ داری امریکہ پر ڈالتے، امریکہ کسی کے خلاف کوئی اقدام کرتا ، یہ اپنا وزن ہمیشہ’’مظلوم‘‘ کے پلڑے میں ڈالتے۔ امریکہ کسی ملک پر حملہ کرتا یہ اس ملک کے کاندھے کے ساتھ کاندھا ملا کر کھڑے ہوجاتے۔ مزاحمتی شاعری ہوتی ،افسانے لکھے جاتے اور جلسے جلوس بھی ہوتے۔
لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب کانسپرنسی تھیوری ایجاد نہیں ہوئی تھی ،جب سے سوویت یونین ٹوٹا ہے دنیا بھر کے حریت پسندوں سے میرے حریت پسند دوستوں کی کٹی ہوگئی ہے۔ اسامہ بن لادن ایک کھرب پتی شخص تھا، وہ اگر چاہتا تو دوسرے عرب شہزادوں کی طرح یاقوت اور مرجان کے محلوں میں رہتا، اس کے حرم میں دنیا بھر کی حسین عورتیں جھرمٹ کی صورت میں اس کے گرد ہوتیں، وہ لاس ویگاس کے جوا خانوں میں کروڑوں ڈالر ہارتا اور خوش و خرم وہاں سے لوٹتا لیکن جب امریکہ نے اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کیں تو نازو نعم میں پلا ہوا یہ شہزادہ افغانستان کی غاروں میں غیر ملکی فوجوں کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی صف میں آن کھڑا ہوا۔ دنیا بھر کے مزاحمت کاروں کے لئے ہمارے دل میں بے پناہ احترام کے جذبات ہیں لیکن میرے دانشور دوستوں نے اسامہ کے نام کو گالی بنادیا ہے۔ اس نے کسی پاکستانی کو نہیں مارا ، 9/ 11کے سانحہ میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اس کی جنگ صرف امریکی غاصبوں کے ساتھ تھی، میں اپنے دانشور دوستوں کے سامنے بہت شرمندگی کے ساتھ یہ اقرار کررہا ہوں کہ میں اسامہ بن کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ کاش اسامہ بن لادن نے بھی کوئی این جی او بنائی ہوتی جس میں کام کرنے والوں کی ماہانہ تنخواہ پانچ سات ہزار ڈالر ہوتی، آج وہ بھی ولن نہیں ہیرو ہوتا۔
مجھے بہت افسوس سے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ میں جو کچھ نہیں کہنا چاہتا تھا وہ سب کچھ کہہ دیا۔ اب مجھے ایک نئی کانسپرنسی تھیوری کا انتظار ہے مگر یہ تھیوری ایسی ہوگی جسے کانسپرنسی نہیں، مبنی برحقیقت قرار دیا جائے گا، مگر مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ پنگا میں نے خود لیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *