آپریشن کی جہت کا تعین ضروری ہے

najamحالیہ دنوں آصف علی زرداری کے دست ِراست ڈاکٹر عاصم حسین کی کراچی میں ہونے والی گرفتاری نے سیاسی نظام کو تناﺅ اور کشمکش کا شکار کردیا ۔ڈاکٹر عاصم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ زرداری صاحب اور الطاف حسین صاحب، دونوں کے راز داں ہیں۔ اس لیے ان کی گرفتاری پر ان دونوں رہنماﺅں کا پریشان ہونا فطری بات ہے۔ان دونوں کے لیے یہ بات مزید پریشان کا باعث ہے کہ ڈاکٹر عاصم جیسے شخص کو ایف آئی اے یا نیب نے خاموشی سے گرفتارکرلیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی اور جرائم کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے عزم میں وفاقی حکومت اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ فوج اس آپریشن کادائرہ دور دور تک وسیع کرنا چاہتی ہے ۔ اس ضمن میں سیاسی طور پر بااثر افراد کو بھی خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ جب رینجرز نے سندھ حکومت کے درمیانے درجے کے سرکاری افسران پر ہاتھ ڈالا تو زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور سوتیلے بھائی، اویس مظفر کے ساتھ ملک سے جلدی میںچلے جانے والوںمیں ڈاکٹر عاصم بھی شامل تھے۔ اُس وقت افواہیں تھیں کہ رینجرز کی حراست میںعزیر بلوچ بہت سی کہانیاں سنارہا ہے۔ جب وزیر ِ اعلیٰ سندھ نے نواز شریف سے احتجاج کیا اور یقین دہانی چاہی کہ پی پی پی کے سرکردہ رہنماﺅں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا تو ڈاکٹر عاصم اور فریال تالپور وطن واپس آگئے۔ اب ایسی یقین دہانیوں کا دور گزرچکا، اورآرمی چیف نے سختی سے وارننگ دی ہے کہ ”جوبھی ہوجائے“ دہشت گردی اور بدعنوانی کے خلاف کراچی آپریشن جاری رہے گا۔ یہ بیان جنرل راحیل شریف اور وزیر ِاعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والی حالیہ طویل میٹنگ کے بعد دیا گیا۔ اس سے پہلے مسٹر زرداری نے یہ کہہ کرنواز شریف پر تنقید کی توپوں کی دہانے کھول دیے تھے کہ وہ پھر ”انتقامی سیاست کے دور “ کی طر ف لوٹ رہے ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ اب اگر حکومت کو عمران خان کے کسی حملے کا سامنا کرنا پڑا تو پی پی پی، پی ایم ایل (ن) حکومت کی حمایت نہیں کرے گی۔ اس وقت اپنے دو سابق وزرائے اعظم، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف، پر قائم ہونے والے بدعنوانی کے مقدمات کی وجہ سے پی پی پی پہلے ہی زخم خوردہ ہے۔ یہ دونوں رہنما نیب کی طرف سے گرفتاری سے بچنے کے لیے ادھر اُدھر بھاگے پھر رہے ہیں۔ کبھی وہ ایک کیس میں ضمانت کراتے ہیں اور ایک اور کیس سامنے آجاتا ہے۔ وہ قبل از گرفتاری ضمانتیں کراتے کراتے گھائل ہوچکے ہیں۔
اس دوران فوج کو دہشت گردوں اور کراچی کے شدت پسند عناصر کے خلاف کامیاب آپریشن میں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے کراچی عشروں کے بعد پرامن اور کم خوفزدہ دکھائی دیتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سندھ کی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کے عمل کو بھی عوام میں پذیرائی حاصل ہے۔پاکستان کا مڈل کلاس طبقہ سیاست دانوں کی بدعنوانی سے سخت نالاں تھا۔ یہ تاثر عمران خان کی بھرپو ر مہم نے مزید گہرا کردیا کہ دونوں مرکزی جماعتیںبدعنوانی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ یہ سب ٹھیک ، لیکن ایک احساس جاگزیں ہورہا ہے کہ بعض کیسز میں مبہم روابط کی بنا کر دھشت گردی کو بدعنوانی سے منسلک کرکے دونوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فوج اپنی آئینی حدود سے تجاوز تو نہیں کررہی؟مثال کے طور پر کچھ عرصہ پہلے ڈی جی رینجرز سے منسوب ایک دعویٰ سامنے آیا تھا کہ کراچی میں بدعنوانی سے اکٹھے کیے جانے والے 230 بلین روپے دہشت گردی میں استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم بعد میں اس بات کی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی کی حساس اداروں نے اس رقم کا تخمینہ کیسے لگایا اور کس طرح پتہ چلا کہ یہ رقم دہشت گردی میں استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح کئی دن گزرنے کے باوجود ڈاکٹر عاصم کے دہشت گردی کے ساتھ روابط ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔دوسری طرف سیاست دانوں کے بارے میں منفی تاثر ابھارنے کے لیے میڈیا کو نہایت موثر طریقے سے استعمال لیا جارہا ہے۔ تاثر دیا جارہا ہے کہ عوام کے وسیع حلقے موجودہ جمہوری نظام سے بدظن ہیں۔ آرمی چیف کی تصاویر اخبارات کے پہلے صفحات پر نمایاںا نداز میں لگا کر اُنہیں پاکستان کے واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اپریشن شروع کرنے پرجنرل راحیل شریف تحسین کے مستحق ہیں۔ اس سے پہلے فوجی کمان اور سیاست دان قاتلوں اور دہشت گردوں کے سامنے بے عملی، سستی اور غفلت کی تصویر بنے صلح جوئی کی طرف مائل تھے۔ تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اب کچھ مقدس گائے بچنے نہ پائیںرونہ اپریشن کے ثمرات دھندلا جائیں گے۔ اس دوران کچھ باتیں پریشان کن بھی ہیں۔ مرکزی سیاسی جماعتوں کی مبینہ بدعنوانی اور دہشت گردی کے درمیان روابط کو ثابت نہیں کیا گیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے فوج دو طرح کے خطرات مول لے رہی ہے۔ پہلا یہ کہ اگر یہ حکمران جماعت پر ہاتھ نہیں ڈالتی تو اس پرآپریشن میں جانبداری برتنے کا الزام لگے گا اور آصف زرداری کے الزام ”انتقامی سیاست“ میں جان پڑتی محسوس ہوگی۔ یہی بیانیہ الطاف حسین کا بھی ہے۔ لیکن اگرفوج حکمران جماعت پر بھی ہاتھ ڈالتی ہے، تو اس کا وفاقی حکومت کے ساتھ براہ ِراست ٹکراﺅ ہوجائے گا۔ اس سے نظام درہم برہم ہونے کے خطرے سے دوچار دکھائی دے گا۔ اگرفوج کے ایجنڈے میں بدعنوانی مرکزی موضوع بن کررہ گیا توپھر لوگ یہ پوچھنا شروع کردیںگے کہ یہ پہلے اپنا گھر درست کیوں نہیں کرتی؟ اگر رائے عامہ یہ ہے کہ کچھ فوج افسران بھی بدعنوانی کے مرتکب ہیں اور گزرے ہوئے عشروں میں ان کی مثالیں بہت زیادہ ہیں تو پھر ان پر ھبی ہاتھ ڈالنا پڑے گا۔ جس طرح دوجنرلوں کی اربوں کی خورد برد میں ”سرزنش“ کی گئی ہے، اس طرح کی سزا سے کوئی بھی متاثر نہیں ہوگا۔ میڈیا کے کچھ حلقوں میں اس ”کڑی اور مثالی سزا“ کو سراہا گیا تھا، لیکن عوام کے نزدیک سزا کا کچھ اور معیار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مقصد کو واضح رکھا جائے۔ اس وقت سول ملٹری اختیارات کا توازن بری طرح برہم دکھائی دیتا ہے۔ سازش کی تھیوریاں پھیلانے والی فیکٹریاں فعال ہوچکی ہیں۔ اب اگر کسی وجہ سے سیاسی عمل کو معطل کردیا گیا تو گزشتہ ایک عشرے کے دوران ہونے والے معاشی اور جمہوری فوائد ضائع ہوجائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *