محمد بن قاسم اور پاکستان

Timojan Mirzaکچھ عرصہ سے قابل احترام اور با علم دوستوں کا ایک مکالمہ نظر سے گزر رہا ہے جس میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستانی بچوں کو تاریخ کے کون سے پہلو سے روشناس کرایا جانا چاہیے اور معاشرے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بات تو کافی واضح ہے کہ پاکستان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ایک عام مثال دی جائے تو پاکستان اور بھارت میں عام تاثر کے مطابق فرق مذہب کا ہی ہے جبکہ پاکستان بنا ہی اس لئے تھا کہ مسلمانوں کا ایک ملک قائم کیا جائے۔ یہ بات تو پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ جناب پاکستان تو بن چکا اور اس میں ہونے والی تبدیلیاں بھی ملاحظہ ہو گئیں جبکہ آج کل تحقیق سے شغف رکھنے والے لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں زیادہ تر تخریب ہی کی طرف گئیں۔ یہ بھی عام طور پر سب ہی جانتے ہیں کہ ان تخریبی عوامل میں بڑا کردار نوجوان اور کچے ذہن کے لوگوں کا مخصوص نظریات رکھنے والوں کے ہاتھوں میں کھیل جانا تھا۔ اس عمل میں ذہن سازی بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور ذہن سازی ظاہر ہے بچپن سے ہی ہوتی ہے جس میں درسی نصاب کے علاوہ بچوں کا مخصوص نظریات سے متاثر ہونا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
اگر ہم پاکستان بننے کے فوری بعد کے حالات دیکھیں تو پاکستان کی شدت سے مخالفت کرنے والے عناصر میں سے بہت سے پاکستان میں آ بسے اور اس بات کے خواہاں ہوئے کہ یہاں پر ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جو ان کی تشریحات کے مطابق سچا اسلامی معاشرہ ہو، وہی تشریحات جن کی بنا پر پاکستان کے خالق جناب قائد اعظم محمد علی جناح کافر قرار پائے تھے۔ تنظیمی طور پر یہ عناصر بجا طور پر انتہائی منظم تھے اور کیوں نہ ہوتے، ان کے نظم کا بنیادی وصف ان کا یقین تھا کہ جو بھی وہ کر رہے تھے وہ مذہب کی سچی خدمت تھی اور وہ اللہ کی طرف سے اس بات پر مامور کیے گئے تھے۔ اس بات سے قطع نظر کہ نظریہ پاکستان کس نے پیش کیا، احقر یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ نظریہ پاکستان کو نافذ کرنے کے لئے شدت پسندانہ حدود کا نفاذ کیوں ضروری تھا اور آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں مذہبی تیقن کے ساتھ یہ بٹھانا کیوں ضروری تھا کہ یہ ملک حاصل کرنا ایک مذہبی فریضہ تھا اور یہ کہ اس ملک کے بارے میں ذرا سی بھی تنقید آپ کو جہنم کا حق دار ٹھہرا دے گی۔ اگر کوئی بھی شخص قائد اعظم کے بارے میں بات کرنا چاہے گا تو انہیں انسان نہیں، کسی ما فوق الفطرت مخلوق کے طور پر پیش کیا جائے گا اور اس پر صرف مکالمہ کا خواہش مند شخص بھی گستاخی کا مرتکب ہو گا۔
ہمیں ایک بات مدنظر رکھنا ہو گی کہ بچے کے ذہن میں تو آپ کے خیال کے مطابق کوئی پوچ خیال آئے تو آپ اسے ڈانٹ کر بات ختم کر دیتے ہیں اور تادیب کا خوف اسے پھر یہ سوال کرنے سے روکتا ہے۔ جب وہی بچہ اس سب کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ جناب من، یہ سب ایسا ہی ہے اور اس کے علاوہ اگر کچھ اور سوچنے کی کوشش کی گئی تو وہ آپ کی مذہب سے دوری اور پاکستان سے ایک طرح کی غداری ہو گی تو اس وقت تو وہ ٹھہر جاتا ہے مگر تعلیم کے حصول کے دوران یا اس کے بعد متضاد خیالات رکھنے والے افراد سے اس کا واسطہ تو پڑتا ہی ہے جنہیں وہ اسی پختہ عقیدہ کی مدد سے غلط قرار دے دیتا ہے مگر ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ایسے ملتے ہیں جو باقاعدہ اور مضبوط دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں اور اس وقت یقین کے وہ بت چکنا چور ہونے لگ جاتے ہیں۔ اس سب کے رد عمل میں یا تو وہ متشددانہ ذہنیت کا حامل بن جاتا ہے کہ دوسرے کو سرے سے ہی غلط قرار دے دے لیکن اندر ہی اندر اسے دلیل کی کمی تو محسوس ہوتی ہے یا وہ تھوڑے بہت مطالعہ کی کوشش کرتا ہے اور یقین ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ جو مطالعہ کیا جاتا ہے وہ بھی مدلل نہیں جذباتی سوچ کو جنم دیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ بچپن سے سکھائے گئے خیالات اور تاریخ میں یقین رکھنا ہی بند کر دیتا ہے۔ اس سب عمل میں آپ دو انتہاؤں کو دیکھتے ہیں اور دلیل بھی انتہا کی مختلف جہتیں ثابت کرنے کو ہی دی جاتی ہے۔
مطالعہ پاکستان میں محمد بن قاسم کا ذکر بالکل کیا جانا چاہیے جناب، اس میں کوئی دوسری رائے ہی نہیں لیکن جب آپ یہ بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے ایک مسلمان عورت کی پکار پر یہ سب کیا اور بڑا ہو کر وہ بچہ حجاج کا حقیقی کردار پڑھتا ہے جس میں صرف حکومت کی خواہش میں حجاج نے ایسے اقدامات کیے کہ جن کا ذکر کرتے ہوئے ایک مسلمان حیران ہو جاتا ہے۔ اس کے کردار کی پستی کے لئے تو صرف کعبہ اور زائرین پر دوران حج حملہ کے ساتھ ساتھ عبداللہ ابن زبیر کا مصلوب کیا جانا اور اس کے بعد کا رویہ ہی کافی ہے۔ پھر وہ اس وقت کی تجارتی مخاصمت اور تجارتی راہ داری پر اجارہ داری کے بارے میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ اموی سلطنت کے مزید معاملات کے بارے میں پڑھتا ہے تو یقینی طور پر وہ اس بات کو ماننے سے انکاری ہو جاتا ہے کہ حجاج ایسے کردار کا مالک ہو سکتا تھا۔ مزید یہ کہ اس کا ذہن اس بات کو مانتا ہے کہ اس حملے کے پیچھے تجارت پر اجارہ داری کا معاملہ تو ہو سکتا تھا حجاج کی کسی مظلوم کی پکار کا سننا نہیں۔ راجہ داہر کو بہتر انسان مت ٹھہرائیے کیونکہ وہ تو ایسا تھا ہی نہیں مگر حجاج ایسوں کو بھی اس انداز میں پیش مت کیجئے۔
اسی طرح اور بھی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ ہم تاریخ نہیں رومان پڑھاتے ہیں اور رومان تو جیسا سب جانتے ہیں اندھا ہی ہوتا ہے۔ یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہمیں یا ہمارے بچوں کو اس سب کے بارے میں نہ پڑھایا جائے لیکن خدارا پڑھاتے ہوئے حقیقت سے دور نہ لے جایا جائے تاکہ وہ اس کشاکش سے بچ جائیں جو بالآخر اس کے انتظار میں ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ذہنی طور پر دھچکے کا شکار ہونے والے یا تو ایک طرف یا دوسری طرف کے انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ اگر کوئی تاریخ پڑھنا چاہتا ہے تو وہ اختیاری طور پر پڑھے، بجائے اس کے کہ ناپختہ ذہن میں سب ٹھونسنے کی کوشش کی جائے۔ اگر مطالعہ پاکستان نامی کوئی مضمون پڑھانا مقصد بھی ہے تو بنیادی باتیں بتائی جا سکتی ہیں اسے مذہب سے اس حد تک جوڑ دینا کہ ہر چیز ہی مقدس ہے پریشانی کا ہی سبب بنے گا۔ اگر امریکا میں ان کے جھنڈے کے انداز والے نقوش رکھنے والے زیر جامے ملتے ہیں اور وہاں پہنے جاتے ہیں تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے جھنڈے یا ملک کی عزت نہیں کرتے؟ اگر جنگوں کے معاشی نقطہ نظر سے ہٹ کر دیکھا جائے تو موجودہ زمانے میں انہوں نے ہی اپنے جھنڈے کی لاج سب سے زیادہ رکھی ہے۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان بن چکا اور اب اس کی ترقی کی طرف سفر کے عوامل کو ہی فروغ دینا چاہیے مگر اپنے ہی اکابر کے خیالات کی باطل اور متشددانہ تشریحات کی مدد سے نہیں بلکہ ان کے حقیقی تجزیے اور ان خیالات و نظریات میں موجود خامیوں کو نتھارنے کے عمل سے ایسا کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی طبقہ یا کسی دانشور کا کوئی خیال پاکستان کے وجود یا مستقبل سے اس حد تک متصادم ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے وجود کو ہی غیر ضروری قرار دے دے تو بالکل روکا جائے مگر گلا گھونٹ کر سانس لینے کو مت کہا جائے ورنہ تحریک طالبان پاکستان جیسی تحاریک تو جنم لیتی ہی رہیں گی مگر سرن (سوئٹزر لینڈ)جیسی لیبارٹری نہ بن پائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *