اخلاقیات میں ’’اے گریڈ‘‘ چاہئے!

Yasir Pirzadaآج کل نالائق سٹوڈنٹ ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ،جدھر دیکھو ایک سے ایک علامہ دکھائی دیتا ہے ،ایف ایس سی کے نمبر پوچھو تو جواب نو سو سے کم نہیں آتا،داخلہ میڈیکل میں چاہئے یا انجینئرنگ میں ،اس سے کم تو موت ہے ،بعض اوقات تو یوں لگتا ہے جیسے اس ملک میں میڈیکل یا انجینئر نگ کے علاوہ کسی شعبے میں داخلہ لیناقابل دست ندازی جرم ہے ۔قوم کے یہ ہونہار سپوت گذشتہ چند برسوںسے امتحانات میں اتنے زیادہ نمبر لے رہے ہیں کہ خوشی کی بجائے فکر لاحق ہو گئی ہے، وہ دن دور نہیں جب ممتحن انہیں گیارہ سو میں سے بارہ سو نمبر دیا کریں گے!پنجا ب حکومت ایسے لائق فائق بچوں کو دامادوں کی طرح ٹریٹ کرتی ہے اور ہر سال ان کے اعزاز میں تقاریب برپا کر کے انہیں انعام و اکرام سے نوازا جاتاہے، ایسی ہی ایک تقریب میں ایک ریکارڈ ساز نوجوان کی تقریر سننے کا مجھے اتفاق ہوا ،جوش خطابت میں وہ نوجوان چرچل کو امریکہ کا صدر بنا گیا،میں سمجھا شاید غلطی سے زبان پھسل گئی ،تاہم بعد میں جب اس سے گفتگو ہوئی تو پتہ چلا کہ موصوف صدق د ل سے چرچل کو امریکہ کا صدر سمجھتے ہیں، مزید کچھ دیر گفتگو رہتی تو شاید موصوف باراک اوبامہ کو باراک اوسامہ بنا دیتے ۔قوم کا وہ سپوت یقیناً آج کل کسی میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ہوگا اور ایک دن ڈاکٹر بن کر اپنا ہسپتال روشن کرے گا۔
بطور والدین ہماری ساری توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ او لیول میں کتنے Asلے گا ،اس کے نمبر 90%سے زیادہ کیسے آئیں گے (کم کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا)،پری انجینئرنگ میں داخلہ کیسے ہوگا،ڈاکٹر نہ بن پایا تو زندگی میں کیا کرے گا،ایم بی اے نہ کیا تو ملازمت کیسے ملے گی، سول سروس میں نہ آیا تو ناک کٹ جائے گی، مقابلے کے اس دور میں کہیں سفاک دنیا اسے روندتی ہوئی آگے نہ نکل جائے! کوئی بھی اپنے بچے کو مصور، محقق، لکھاری ،موسیقار،ریاضی دان،فلسفی یا تاریخ دان بننے کا مشورہ نہیں دیتا اور نہ ہی اس سے پوچھتا ہے کہ اس کا رجحان کس شعبے کی طرف ہے !وہی دو چار شعبے ،وہی بھیڑ چال، جس بھیڑ کے نمبر زیادہ وہی چال میں آگے ۔مگر زندگی بھیڑ چال کا نام نہیں ،بقول ہمارے ایک استاد،یہ ایک میرا تھن ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ آخر میں ریس کون جیتا ہے!زندگی کی دوڑ فقط ایف ایس سی کے نمبروں سے نہیں جیتی جاتی ،اس کے لئے عشق کے امتحان میں اے گریڈ لینا ضروری ہے !
ہمارے ہاں زیادہ تر والدین اپنے بچوں کی رسمی تعلیم کے بارے میں اس قدر سخت گیر ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ اگر امتحان میں اے پلس گریڈ کے بغیر گھر میں گھسے تو انہیں ٹینشن سے ساری رات نیند نہیں آتی ،مگر کیایہی والدین اپنے بچوں کی تربیت کے بارے میں بھی اتنے ہی فکر مند ہوتے ہیں ؟اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے ،آپ نے آخری دفعہ تمیز دار بچہ کس کے گھر میں دیکھا تھا؟ پچھلی مرتبہ جب آپ اپنی سہیلی کے گھر گئیں تھی تو کیا اس کی بیٹی ، جس نے او لیول میں لگ بھگ ڈیڑھ درجن کے قریب Asلئے تھے ، نے آپ کو مناسب انداز میں سلام کیا تھا؟آپ کے دوست کے جس بیٹے نے ایف ایس سی میں ہزاروں نمبر لئے ہیں ،کیا اس نے نصابی کتب کے علاوہ کبھی کوئی ادبی نوعیت کی کتاب پڑھنے کی زحمت کی ؟رسمی تعلیم سے ہٹ کر ہمارا اپنے بچوں سے گفتگو کا موضوع کیا ہوتا ہے ، تہذیب، معاشرت اورادب آداب کے بارے میں ہم ان سے کتنی گفتگو کرتے ہیں ؟اپنے بچوں کی تربیت کے بارے ہم کتنے سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ کسی بھی سنیما ہال میں جا کر لگایا جا سکتا ہے جہاں کوئی بھارتی فلم دکھائی جا رہی ہو،والدین اپنے بچے بچیوں کے ساتھ ودیا بالن کی ڈرٹی پکچر اس قدر اطمینان سے بیٹھ کر دیکھتے ہیں گویا ان کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں !ان والدین کے نزدیک بچوں کا اگر کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے تو وہ صرف یہ کہ ان کا اے پلس گریڈ نہیں آیا۔پچھلے بیس تیس برسوں میں ان اے گریڈرز کی جو فصل پک کر تیار ہوئی ہے اس کی تربیت کا عملی نمونہ آپ باآسانی سوشل میڈیا پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہونے والے یہ نوجوان دن رات فیس بک اور ٹویٹر پر اپنے مخالف نقطہ نظر کے حامل شخص کو جس طر ح گالیوں سے نوازتے ہیں اس سے یوں محسوس ہوتا ہے گویا ایف ایس سی کے بعد انہوں نے پری انجینئرنگ میں نہیں بلکہ pre-abusingمیں داخلہ لیا تھا۔یہ وہی طبقہ ہے جو پڑھ لکھ کر اندرون و بیرون ملک مناسب عہدوں پر فائز ہے، یہ وہی نسل ہے جس کے والدین نے رسمی تعلیم کے لئے تو ان کی جان عذا ب میں ڈالی رکھی تاہم تربیت کا کچھ خیال نہ کیا ،یہ وہی نوجوان ہیں جو اپنے علاوہ کسی کو محب وطن اور ایماندار نہیں سمجھتے ،ان کا خیال ہے کہ ملک کی محبت کا مروڑ صرف انہیںاٹھتا ہے ،ان کے نزدیک جو بات درست ہے صرف وہی حتمی سچائی ہے اور اگر کوئی ان کی ’’سچائی ‘‘ سے اختلاف کرے تو وہ سی آئی اے کا ایجنٹ اور بکائو مال ہے ۔ان لوگوں کے منہ سے ایسے جملے سن کی ہنسی بھی آتی ہے کیونکہ ایف ایس سی میں پریکٹیکل کے نمبر لگوانے سے لے کر ملازمت کے حصول کے لئے تجربے کا جھوٹا سرٹیفکیٹ بنوانے تک یہ اے گریڈرز ہر کام بلا کھٹکے کرتے ہیں ،مگر سوشل میڈیا پر ان کا رویہ یوں ہوتا ہے جیسے(نعوذ باللہ) یہ پیغمبری کے مرتبے پر فائز ہوں ۔تاہم اصل قصور ان کا نہیں بلکہ ان کے والدین کا ہے جو کبھی یہ سوچ ہی نہیں سکے کہ زندگی سکول کالج کا امتحان پاس کرنے کے علاوہ بھی کوئی مقصد رکھتی ہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ تمام لائق طلبا تربیت سے عاری ہوتے ہیں یا نالائق سٹوڈنٹ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ ہوتے ہیں ۔اصل میں زیادہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جورسمی تعلیم کے میدان میں قابلیت کے جھنڈے گاڑتے ہیں، کسی نالائق سے کیا گلہ کہ وہ بیچارہ تو انگریزی میں فیل ہوتا ہے اور اسلامیات میں بمشکل پاس،اور جاہل شخص سے کوئی اخلاق کی کیا امید رکھے !اخلاقی گراوٹ کا یہ المیہ صرف سکولوں اور کالجوں کے فارغ التحصیل نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ مدرسوں سے تعلیم یافتہ نوجوان تو ان سے بھی دو قدم آگے بڑ ھ کر تشدد پر یقین رکھتے ہیں اور سہارا مذہب کا لیتے ہیں ۔ذرا تصور کیجئے کہ ایک باریش نوجوان جو کسی قابل احترام مدرسے کا پڑھا ہو،اپنے مخالف نقطہ نظر کو دلیل سے جواب دینے کی بجائے ایسی گالیوں سے نوازے کہ یہود و ہنود بھی شرما جائیں تو کیا اس سے اسلام کا نام روشن ہوگا!
کسی بچے کاامتحانات میں پوزیشن حاصل کرنا ،اے گریڈ لینا ،امتیازی نمبروں سے پاس ہونا ،یقینا یہ سب مثبت باتیں ہیں جن پر والدین بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ان کا بچہ فقط ’’ریٹ ریس‘‘ میں ہی جیت سکتا ہے یا زندگی کی دوڑ میں بھی اس کی کامیابی کا کوئی امکان ہے !اے گریڈ نوجوانوں کو زندگی کس گریڈ میں پاس کرتی ہے، اس کا فیصلہ کسی بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن میں نہیں ہوتا، اس کا فیصلہ تاریخ کرتی ہے ۔دنیا میں کسی بھی بڑے آدمی کو اس کے ایف ایس سی کے نمبروں یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں پر کشش ملازمت کی وجہ سے یاد نہیں رکھا جاتا ،بلکہ دنیا اسے بڑا آدمی مانتی ہے جو اخلاقی پستی کے زمانے میں’’ غیر جانبدار‘‘ رہنے کی بجائے اپنے ضمیر کے مطابق کسی ایشو پر واضح اور دوٹوک موقف اختیا ر کرے ۔اے گریڈ لینے والوں کی چونکہ یہ تربیت نہیں ہوتی اس لئے وہ ایسے لوگوں کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس گالیوں کی شکل میں نکالتے ہیں اور ثواب دارین کماتے ہیں ۔خدا اس ملک کو او لیول میں اے گریڈرز دینے کی بجائے اخلاقیات میں اے گریڈرز عطا کرے ،آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *