نواز شریف کے خلاف سازش

anwersonملک کے کئی انگریزی اخباروں میں وزیرِ اعلی پنجاب کا ایک مضمون ستمبر 2011 کے پہلے ہفتے میں شایع ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا ‘اس سال فروری میں، پیپکو کا ایک نیا پاور پلانٹ نندی پور میں شروع ہو جانا تھا جس سے صنعتی، زراعتی اور گھریلو صارفین کو 450 میگاواٹ بجلی فراہم ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے، وفاقی حکومت کی بے عملی کے نتیجے میں اس کی تکمیل میں دو سال سے زیادہ کی تاخیر ہو گئی اور صارفین کو وہ بجلی نہ مل سکی جس کی انھیں انتہائی ضرورت تھی۔
جنوری 2008 میں، پیپکو نے اس منصوبے کے لیے چین کی ڈونگ فینگ الیکٹرک نامی کمپنی کے ساتھ 10 فی صد پیشگی ادائی کے ساتھ 329 ملین ڈالر (23 ارب روپے) کے معاہدے پر دستخط کیے۔ وزارت خزانہ نے خود مختار ضمانت بھی جاری کر دی۔ ڈونگ فینگ نے قرضہ دینے والوں کا کنسورشیم بنا کر مشینری کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کھول دیا۔ 2010 کے وسط تک بجلی گھر کا زیادہ تر کام مکمل ہو چکا تھا۔ ٹربائن اپنی جگہ پر لگ چکے تھے۔ توقع تھی کہ منصوبہ 2011 کے اوائل میں شیڈول کے مطابق مکمل ہو جائے گا۔ لیکن خلافِ معمول وزارت قانون و انصاف خود مختار ضمانت اور مالیاتی معاہدوں کو لے کر بیٹھ گئی اور درکار قانونی تحفظ فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قرض دہندگان نے سرمائے کی فراہمی روک دی۔ پورٹ پر کھلے آسمان کے تلے پڑی مشینری کو اٹھانے کی اجازت نہیں ملی اور پلانٹ پر کام رک گیا۔ مشینری نہ اٹھانے کی وجہ سے پورٹ کا ہرجانہ بڑھتے بڑھتے 70 کروڑ روپے تک جا پہنچا ایک سال سے زیادہ عرصے تک بندرگاہ پر پڑی رہنے والی یہ مشینری نااہلی، غفلت اور کرپشن کا منھ بولتا ثبوت ہے۔
اسی سال میں چیچوکی ملیاں میں 352 ملین ڈالر تقریباً 31 ارب روپے کے اخراجات سے، 450 میگاواٹ کا ایسا ہی ایک اور منصوبہ شروع کیا گیا، اس منصوبے میں نہ صرف کمپنی وہی ڈونگ فینگ تھی بلکہ سرمائے کے لیے کنسورشیم بھی وہی تھا، اس میں بھی پیپکو نے 10 فی صد پیشگی ادائی کی اور شیڈول کے مطابق منصوبے کو فروری 2012 میں مکمل ہونا تھا۔ تاہم نندی پور کے تجربے کو دیکھتے ہوئے کنسورشیم نے اس وقت تک لیٹر آف کریڈت کھولنے سے انکار کر دیا جب تک کہ تمام مطلوبہ قانونی اور مالیاتی منظوریاں نہیں ہو جاتیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس منصوبے میں بھی دو سال کی تاخیر ہو گئی۔ دو سال کی تاخیر، کرنسیوں کی قیمتوں (شرحِ تبادلہ) میں تبدیلیوں اور ہرجانوں کی مد میں ٹھیکیداروں کے دعووں اور اضافی مالیاتی اخراجات کے نتیجہ میں اخراجات میں 200 ملیں ڈالر یا 18 ارب روپے کے لگ بھگ اضافہ ہو گیا۔ اگر یہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جاتے تو ان سے جو صنعتی بہتری آتی، لوگوں کو جو روزگار ملتا اور جو دشواریاں ختم ہوتیں ان کا معاملہ اور نقصانات اس کے علاوہ ہیں’۔
جون 2013 میں نواز شریف نے تیسری بار وزارتِ عظمی کا حلف اٹھایا۔ جولائی 2013 میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ایک بار پھر چین گئے اور ڈونگ فینگ الیکٹرک کو پھر سے پاکستان آنے اور نندی پور پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کے لیے آمادہ کر لیا۔ منصوبے کی لاگت سے 23 ارب سے 57ارب روپے ہو گئی جب کہ منصوبہ 65 فیصدمکمل ہوچکا تھا۔ 30 مئی 2015 کو وزیراعظم نواز شریف نے منصوبے کے پہلے 95 میگاواٹ کے یونٹ کا افتتاح کیا۔ یہ بتاتے ہوئے کہ اس یونٹ کو سات ماہ کی قلیل مدت میں پورا کیا گیا ہے یہ بھلا دیا گیا کہ 65 فیصد کام تو خود وزیر اعلی پنجاب کے اپنے دعووں کے مطابق مکمل ہو چکا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ اس وقت فرنس آئل پر چلایا جائے گا لیکن اگلے برس جون تک اسے قدرتی گیس، ایل این جی پر منتقل کر دیا جائے گا اور دسمبر تک یہ منصوبہ مکمل یعنی 425 میگا واٹ بجلی فراہم کرنا شروع کر دے گا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد محمود نے بھی اس کی تائید کی اور یہ بھی بتایا کہ ابھی یونٹ فرنس آئل پر چلایا جا رہا ہے۔ لیکن ہوا یہ یونٹ دو روز بعد ہی بند ہو گیا۔
نندی پور منصوبہ جو 23 ارب روپے سے شروع ہوا تھا57 ارب روپے کی لاگت تک جا پہنچا۔ اس کا سبب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اس نے جو کیا وہ سب سامنے ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی سیاست کر رہی ہو اور نہ چاہتی ہو کہ شہباز شریف کے دور میں پنجاب بجلی کے مسائل سے نجات پائے۔ اس لیے وہ دونوں منصوبوں میں رکاوٹ ڈالتی رہی ہو (کہتے ہیں اب یہ معاملہ بھی نیب کے پاس ہے) ن لیگ نے اس معاملے الیکشن اشو کے طور بھی استعمال کیا اور کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں جن انتخابی نتائج کا سامنا کرنا پڑا ان کا ایک سبب ان منصوبوں کے بارے میں پیپلز پارٹی کی پالیسی بھی ایک سبب تھی لیکن اب تو شریف برادران کو پنجاب ہی نہیں، وفاق بھی حاصل ہے اور یہ بات بھی دو سال پرانی ہو چکی ہے اب کیا ہو گیا ہے کہ یہ منصوبہ کام شروع نہیں کر سکا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ پہلے یونٹ کو ڈیزل پر چلایا گیا تھا، یقین تو نہیں آتا کہ یہ منصوبہ ایسا ہمہ جہت ہے کہ چاہیں تو ڈیزل پر کرلیں، چاہیں تو فرنس آئل پر لے جائیں اور دل چاہے تو ایل این جی پر۔
سنا ہے کہ وقت پر پروجیکٹ مکمل نہ کرا سکنے اور پہلے یونٹ کے چل کر بند ہو جانے پر پروجیکٹ کے منیجنگ ڈائرکٹر کو اظہار وجوہ کا نوٹس دے دیا گیا ہے۔ اسی دوران پروجیکٹ کے آڈٹ کی بھی بات ہوئی ہے۔ لیکن منصوبے کو دوبارہ شروع کرتے ہوئے جہاں اخراجات اور مجموعی لاگت پر نظر ثانی کر کے اضافہ کیا گیا تھا وہاں مدتِ تکمیل پر بات اور شرائط بھی تو طے کی گئی ہوں گی؟ اگر نہیں تو ضرور ڈونگ فینگ کمپنی میں کوئی ایسی اہم خصوصیت ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسی کمپنی کی ایک شاخ نے پاکستان ریلوے کو 69 ناکارہ انجن سپلائی کیے تھے۔ پہلے نندی پور اور پھر چیچو کی ملیاں کا منصوبہ دیا گیا۔
مجھے لگتا ہے کہ شریف برادران کے خلاف ضرور کوئی سازش ہو رہی ہے لیکن یہ سازش کون کر رہا ہے۔ سارا کام تو خود شہباز شریف اور بظاہر وزیراعظم کے انتہائی قابلِ اعتماد وزیروں کے ہاتھ میں ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *