بلڈوزر

muttiullah janکوئی انسان فرشتہ نہیں ہو سکتا۔ ہر شخص میں کچھ خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔مگر ان دوستوں اور دشمنوں کا کیا کہنا جو انسان کو فرشتہ یا پھر شیطا ن ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے تجزیہ کار بھی فرشتہ نہیں انسان ہوتے ہیں۔ہمارے پیارے ملک پاکستان میں ایسے ماہرین بھی ہیں جو ضرورت پڑنے پردونوں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسکی عمدہ مثال وہ خبریں ، بیانات و تجزیے ہیں جو سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ سے متعلق سامنے آئے ہیں۔بطور سپریم کورٹ رپورٹر جسٹس خواجہ کی عدالتی کارروائی کا عینی شاہد ہوتے ہوئے راقم الحروف ان خبروں اور تجزیوں کے پس منظر کو بخوبی سمجھتا ہے۔یہ محض اتفاق نہیں کہ جسٹس جواد ایس خواجہ کے خلاف وکلاء نمائندوں اور تنظیموں کے بیانات و احتجاج کی وجہ وہ سینئر وکلاء4 ہیں جن کی خدمات بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیراتی کمپنیوں نے حاصل کر رکھی ہیں۔سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے پاس صرف 23دن تھے اور ان کا سامنا ان پہاڑ جیسے فریقین سے تھاجن کا آٹھ سال مدت عہدہ والے افتخار محمد چوہدری بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے۔سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر1میں بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے مقدمات کی سماعت میں وکلاء ، عدلیہ، میڈیا اور ریاستی اداروں نے ایک دوسرے کو خوب بے نقاب کیا۔ ان مقدمات کی سماعت کے دوران محکمہ جنگلات پنجاب کے ایک 72 سالہ سابق افسرملک شفیع نے دل دہلا دینے والے انکشافات کیے۔ان کے مطابق2005ء میں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے بحریہ ٹاؤن کو براہ راست اور ماتحت افسران کی قانونی رائے کے بغیر سادہ کاغذوں پر سرکاری جنگلات میں تعمیراتی کام کی اجازت دی۔اسی طرح لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کوجنرل مشرف کے ایک حکم نامے کے ذریعے یہ مضحکہ خیز اختیار دیا گیا کہ اتھارٹی ایک کمرشل ادارہ ہونے کے باوجود از خود "قانون سازی"بصورت نوٹیفیکیشن کے ذریعے اپنے لئے کسی بھی اراضی کی ملکیت و قبضہ حاصل کر سکے۔ ایک سینئر قانون دان ایڈووکیٹ شاہد حامد نے نقشوں کی مدد سے انکشاف کیا کہ اس "قانونی اختیار"کو استعمال کرتے ہوئے ڈی ایچ اے نے شہر لاہور کی آدھی اراضی پر ملکیتی دعویٰ کر لیا ہے۔معزز ججوں نے یہاں تک سوال اٹھائے کہ آخر اعلیٰ فوجی افسران کے لئے ایک کمرشل ادارے میں خصوصی معاوضے پر کام کرنا قانوناََ کیسے ممکن ہے۔ایسے بہت سے دوسرے حساس انکشافات بھی ہوئے جن کو سن کر معاشرے کی آنکھ اور کان ہونے کا دعویٰ کرنے والے میڈیا کی زبان بھی گنگ ہو گئی۔ کمرہ عدالت میں بیٹھے صحافی حضرات بھی ایک دوسرے سے نظریں چراتے اور اپنے قلم چباتے نظر آئے۔جن سرکاری جنگلات پر ان بڑے کاروباری اداروں کے قبضوں کی خوفناک داستان بیان ہو رہی تھی انہی جنگلات میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے صحافیوں کو اسی وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے رہائشی کالونی کے لئے بھی سینکڑوں ایکڑ زمین الاٹ کی تھی۔یوں تو اور بہت سے انکشافات ہوئے مگر وہ سب کچھ میڈیا پر خصوصاََ ٹیلی ویژن میڈیا پر نہیں آیا۔معلومات کا ایک دریا تھا جس پر تعمیراتی کمپنیوں نے ایک بند تعمیر کر دیا جہاں سے یہ معلومات سوشل میڈیا اور چھوٹے ٹی وی چینلوں کے ذریعے ندی نالوں کی صورت بہتی رہی۔ان حالات میں میڈیا تو کیا 23دن کے چیف جسٹس بھی بے بس نظر آئے۔ یہ وہ چیف جسٹس تھے جنہوں نے اپنے ساتھی ججوں کے دو دو سرکاری پلاٹوں کے برعکس ایک بھی سرکاری پلاٹ لینے سے انکار کیا۔مگر ان کے اس انکار پر ایک سرکاری پلاٹ لینے والے افتخار محمد چوہدری کاجنرل مشرف کے سامنے ایک انکار حاوی رہا۔جسٹس خواجہ نے اپنے ایک اور فیصلے میں پارلیمنٹ کے آنسو بہاتے مگر مچھوں کی عیاری بھانپتے ہوئے فوجی عدالتوں کے خلاف بھی اپنی رائے دی جو بہر حال ایک اختلافی فیصلہ تھامگر بطور چیف جسٹس، جسٹس خواجہ کا مقابلہ صرف لینڈ مافیا سے نہیں بلکہ ان کی وکالت کرنے والے وکلاء مافیا سے بھی تھا۔یوں لگتا تھاکہ فیس دلائل کے لئے نہیں بلکہ جسٹس خواجہ کی مدت عہدہ ختم ہونے تک مقدمات کے التوا کے لئے لی گئی ہے یا پھر مؤ کل کے قانونی دفاع کی بجائے عدلیہ پر ذاتی حملوں کے لئے۔
غریب سائلین کی دسترس سے دور یہ وکلاء اپنی سیاسی و نظریاتی وابستگی کو بھی بھاری بھر کم فیسوں کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتے۔یہ بھی محض اتفاق نہیں کہ تاریخی وکلاء تحریک کے بڑے بڑے نام بھی ان بڑی ہا?سنگ اسکیموں کے مقدمات میں قانونی دلائل سے زیادہ تاریخوں کے حصول اور ججوں پر اعتراضات پر انحصار کرتے رہے۔وکلاء تحریک کے دوران "ریاست ہو گی ماں کے جیسی"نعرے لگانے والے ان وکلاء نے شاید یہ سمجھ لیا تھا کہ" عدالت ہو گی دودھ دینے والی بھینس جیسی"۔ایڈووکیٹ حامد خان کو "ایک طرف اس کا گھر" یعنی بنی گالہ اور " ایک طرف مے کدہ" یعنی جناب افتخار محمد چوہدری، جیسی صورتحال کا سامنا تھا۔یہ ایڈووکیٹ حامد خان ہی تھے جنہوں نے 2010ء میں افتخار محمد چوہدری کے سامنے پیش ہو کر بحریہ ٹاؤن کی نمائندگی کی۔ان کو دیکھ کر اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سیشن جج مظہر منہاس پر مشتمل عدالتی کمیشن کی اس رپورٹ کواٹھا کر ایک سائیڈ پر رکھ دیا تھا۔
اس رپورٹ میں نڈر اور بے باک سیشن جج مظہر منہاس جو اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں،نے ان ہاؤسنگ اسکیموں کے پولیس اور محکمہ مال سے گٹھ جوڑ ، ٹیکس چوری اور شہریوں پر تشدد اور مظالم کے ذریعے زمینوں پر قبضوں سے متعلق دل ہلا دینے والے انکشافات کیے اور پر زور سفارش کی تھی کہ ان ہاؤسنگ اسکیموں کا فوراََ خصوصی آڈٹ کروایا جائے۔جسٹس جواد ایس خواجہ بھی افتخار محمد چوہدری کے ساتھی جج ہوا کرتے تھے مگر خصوصی آڈٹ سے متعلق سیشن جج کی رائے کو اس وقت کوئی اہمیت نہ دی گئی اور پانچ سال بعد جسٹس جواد ایس خواجہ ڈی ایچ اے لاہور کے خصوصی آڈٹ کا ایسا ہی حکم دے کربری الذمہ ہو گئے ہیں۔سال 2010ء میں افتخار محمد چوہدری نے سیشن جج مظہر منہاس کی رپورٹ یہ کہہ کرایک طرف رکھ دی تھی کہ عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ سیشن جج نے اپنے دائرہ کار سے تجاوز تو نہیں کیا۔
ایک انسان اور پوری انسانیت کی قیمت ہمارے معاشرے میں بظاہر اتنی ہی ہے جتنی ایک بڑے وکیل کی فیس۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی عدالت میں معروف قانون دان ایڈووکیٹ ایس ایم ظفر کے فرزند علی ظفر بھی ایک ایسے ہی مقدمے میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت میں کی گئی اپنی ایک غلط بیانی پر ڈٹ جانے کا اعلان کیا جس پر عدالت نے دلائل سننے کے بعد ان کی وکالت کا لائسنس ایک سال کے لئے معطل کر دیا۔اس پر وکلاء تنظیمیں بپھر گئیں۔قانون کے تحت بنائی گئی وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار نے ایک یونین کی مانند چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو الوداعی عشائیہ نہ دینے کا اعلان کیا۔یہ اور بات ہے کہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے بہت پہلے ہی اس وقت سے ان دونوں تنظیموں کی تقاریب میں شرکت سے گریز کر رکھا تھا جب سے ان تنظیموں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو الوداعی عشائیہ دینے سے انکار کیا تھا۔سچی بات تو یہ ہے کہ جناب افتخار محمد چوہدری اور جسٹس جواد ایس خواجہ وکلاء کی ان تنظیموں کی ایسی تربیت کرنے کے خود بھی ذمہ دار ہیں۔افتخار محمد چوہدری نے بطور چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے سپریم کورٹ بار کی وکلاء کو ایک ایک کنال کے پلاٹ دلوانے کے لئے جسٹس جواد ایس خواجہ کے ہمراہ بڑے تندہی سے کیس کی سماعت کی تھی اور اس حوالے سے سی ڈی اے اور ہاؤسنگ منسٹری کے حکام کو کئی بار طلب بھی کیا گیا تھا۔ان دونوں معزز جج صاحبان نے جو بویا ہے وہ کاٹا بھی ہے۔ وکیلوں کے لئے ایک ایک کنال کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کون سے مفاد عامہ میں تھی ؟بہر حال وکلاء تنظیموں کا موجودہ رویہ جسٹس جواد ایس خواجہ کے ان فیصلوں کا بھی رد عمل ہے جن میں انہوں نے وکلاء کے خلاف شہریوں کی ساڑھے سات ہزار شکایات پر بار کونسل کی عدم کارروائی کا نوٹس لیا تھا۔ اسی تناظر میں ایک سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بھی جو "اتفاقاََ"ڈی ایچ اے کے وکیل تھے صدر مملکت کو ایک خط لکھا ہے جو جسٹس خواجہ کی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل ارسال کیا گیا۔ اس خط میں انہوں نے ٹھوس شواہد کی بجائے وکلاء تنظیموں کی قراردادوں اور الزامات کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔بظاہر اس خط کا مقصد جسٹس جواد ایس خواجہ سے اس فیصلے کا حساب بھی چکانا ہے جس میں جسٹس خواجہ نے عرفان قادر کے خلاف بطور اٹارنی جنرل کارروائی کی تھی کہ انہوں نے بطور اٹارنی جنرل بینک آف پنجاب سے متعلق ایک کیس میں یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ ماضی میں بینک آف پنجاب کے بھی وکیل رہے ہیں۔ان حالات میں جسٹس جواد ایس خواجہ کے خلاف مہم کے پیچھے سازشی عناصر و کاروباری اداروں کی شناخت مشکل نہیں۔ ان بڑے بڑے وکلاء نے اپنی بڑی بڑی فیسوں کی خاطر بڑی بڑی وکلاء تنظیموں کو لینڈ مافیا کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے اور عدلیہ کو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے سے بھی روک دیا ہے۔لگتا ہے کہ لینڈ مافیا کے بلڈوزر آئین و قانون کی دیواروں کو روندتے ہوئے قومی سلامتی اور دیگر سرکاری اداروں کے علاوہ اب وکلاء تنظیموں اور عدلیہ کی جانب رواں دواں ہیں۔سابق چیف جسٹس صاحبان افتخار محمد چوہدری اور جواد ایس خواجہ کی شخصیات میں خامیاں ضرور ہوں گی مگر انکی خوبیوں میں عوام میں جو شعور اور حوصلہ پیدا کیا ہے وہ کسی لینڈ مافیا کے بلڈوزر کے مقابلے کے لئے کافی ہونا چاہئیے۔اگر عوام 1965ء کی جنگ میں اپنے سینوں پر بم باندھے بھارتی ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں تو کیا ہمارے ادارے اور عوام لینڈ مافیا کے بلڈوزروں کو قوم کی نظریاتی سرحدیں روندنے کی اجازت دیں گے؟ یقیناًیہ ایک سوال ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *