دو سو انسانی ڈھانچے، موت کیسے ہوئی؟

napoleon__skeletons_frankfurtجرمنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمن شہر فرینکفرٹ میں تعمیراتی کام کے دوران نیپولین بوناپارٹ کی فوج کے دو سو فرانسیسی فوجیوں کے ڈھانچے نکالے گئے ہیں۔ فرینکفرٹ شہر کی منصوبہ بندی کے سربراہ اولف کیونٹز کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سنہ 1813 میں روس سے پسپا ہونے والی نیپولین کی گرینڈ آرمی میں شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ فوجی جنگ کے دوران زخمی ہونے یا ’ٹائفس‘ یعنی ایسا بخار جس میں مریض کو بخار کے علاوہ شدید سر درد لاحق ہوتا ہے کے سبب ہلاک ہوئے تھے۔ اولف کیونٹز کے مطابق سنہ 1813 میں فرینکفرٹ کے قریب لڑی جانے والی ان جنگوں میں15 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ ڈھانچے شہر کے مغربی ضلعےروئڈلہیم سے ملے ہیں۔

فرینکفرٹ میں تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ڈائریکٹر آندریا ہیمپل نے بتایا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ انتہائی عجلت میں بہت زیادہ تعداد میں قبریں کھودی گئی تھیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’متاثرین کے تابوتوں کو مشرق سے مغرب کے روایتی انداز کی بجائے جنوب سے شمال کی سمت میں ایک صف میں دفن کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں جلدی میں دفن کیا گیا تھا۔‘ تقریباً 30 سے زائد ڈھانچوں کو نکالا جا چکا ہے اور توقع ہی کہ دیگر کو آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں نکال لیا جائے گا۔

napoleon__skeletonsخیال رہے کہ نپولین کی چھ لاکھ فوجیوں پر مشتمل فوج نے جون 1812 میں حملہ کیا تھا اور ستمبر میں ماسکو پر قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم انھیں شدید جانی نقصان بھی کاسامنا بھی ہوا اور شکست کے بعد واپس لوٹنا پڑا تھا۔ اس بارے میں قیام ہے کہ حملہ کرنے والی فوج کی کل تعداد میں سے صرف 90 ہزار فوجی ہی فرانس واپس لوٹ پائے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *