پاور سیکٹر میں 980 ارب روپے کی خرد برد

powerآڈیٹرجنرل آف پاکستان نے 2014-2013 کی آڈٹ رپورٹ میں وزارت پانی وبجلی کے زیر انتظام چلنے والے ادارے واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) سمیت دیگر پاور کمپنیز کے اکاؤنٹس میں 980 ارب روپے کے غبن اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے صدر سے سفارش کی ہے کہ وہ ان تمام گھپلوں کی تحقیقات کرانے کاحکم دیں۔

آڈیٹرجنرل کا کہنا ہے کہ یہ رقم 4 کھرب روپے کے وفاقی بجٹ برائے 2016-2015 کے ایک چوتھائی کے برابر ہے۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں گزشتہ چند سالوں کے دوران 4 کھرب 2 ارب روپے کا آڈٹ نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے.

صدرمملکت کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق یہ گھپلے اور بے ضابطگیاں واپڈا کے علاوہ بجلی پیدا کرنے والی 4 کمپنیوں، بجلی کی تقسیم کار 10 کمپنیوں اورنیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) میں کیے گئے.

رپورٹ کے مطابق واپڈا میں 3 کھرب 68 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں، بلاضرورت ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے ایک 184 کیسز سامنے آئے، جبکہ 88 دیگر کیسز عدم وصولی اور زائد ادائیگیوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی مالیت 5 کھرب 72 ارب روپے سے زائد ہے.

رپورٹ کے مطابق 18 کیسز حادثات اورغفلت کے ہیں جن کا تخمیہ ساڑھے 19 ارب روپے ہے۔

آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں صدر مملکت ممنون حسین سے سفارش کی ہے کہ وہ ان گھپلوں کی تحقیقات کاحکم دیں۔

آڈیٹرز نے تجویز کیا ہے کہ حکومت واپڈا پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی مقررہ مدت میں تکمیل پر زور دے، جبکہ وزرات پانی و بجلی کے ماتحت اداروں میں، بجلی کے بوجھ اور چوری کی غیر قانونی توسیع کو روکنے اور تحقیقات کو بہتر بنانے کے لیے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *