آرٹیکل چھ کا اطلاق ججز پر بھی ہونی چاہیے: یوسف رضا گیلانی

aaaaa

پاکستان کے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عدالت سےاستثنیٰ مانگنے  کے بجائے گرفتار ہونا پسند کریں گے۔

انہوں نے کل بروز جمعہ مورخہ 5 جولائی کو ہائی کورٹ کے وکلاء سے خطاب کے دوران کہا کہ پانج جولائی کا دن، سیاہ ترین دن ہے کیونکہ 1977ء میں آج ہی کے روز پیپلز پارٹی کی حکومت کا تختہ اُلٹایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو صدر آصف علی زرداری  اور نہ ہی اپنے لیے عدالت سے استثنیٰ کا مطالبہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ استثنیٰ مانگنے کی اصولاً ضرورت نہیں ہے، کیونکہ آئین کے تحت صدر اور وزیراعظم کو استثنیٰ حاصل ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کے تحت  مجھے استثنیٰ فراہم کریں یا اگر وہ مجھے گرفتار کرتے ہیں تو میں عدالت کے اس فیصلے کو تسلیم کرلوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے بھی اختیارات مانگے نہیں تھے  اور عدالیہ نے  انہیں بخوشی قبول کیا تھا۔ سابق وزیر اعظم  کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے وردی  میں رہتے ہوئے آئین میں ترامیم کی  اور اختیارات حاصل کیے۔

ان کا   کہنا تھا  کہ پرویز مشرف کا ٹرائل  ہونا چائیے  کیونکہ انہوں نے 1999ء میں ایک ایسی حکومت کو ختم  کر کے  اقتدار پر قبضہ کیا جو  عوام کے ووٹوں سے  منتخب ہوئی تھی۔

یوسف رضا گیلانی  کا کہنا تھا کہ مشرف  کے  ساتھ کسی  قسم کی بھی ہمدردی  نہیں کی جانی چاہئے  اور آئین  کے آرٹیکل چھ کے تحت  قانونی کارروائی کی جانی چاہئیے۔

انہوں  نے  یہ  بھی کیا کہ آرٹیکل  چھ کا اطلاق ان ججوں پر بھی ہونا چاہیئے جو نااہل ہیں۔

انہوں  نے  کہا  گزشتہ   پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں  میں میرے  حق میں قرارداد منظور ہوئیں جبکہ اس وقت کی قومی اسمبلی  کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بھی میرے  حق میں فیصلہ دیا تھا۔

سابق  وزیر اعظم نے کہا کہ اگر میں  وزیراعظم  کی حثیت سے غیر قانونی اور غیر  آئینی  کام کیا ہے  تو اگر  میں فوج، نیوی، ائیر چیف  یا  آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر کےعہدے پر مقرر ہوتا تو   پھر کون  بہادر  اس  کو  غیر قانونی قرار دیتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *