اجمل کمال صاحب ، عرض یہ ہے کہ۔۔۔

zulfiqar Ali Zulfi (1)اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریز ایک غاصب اور قابض تھا جس نے فارورڈ پالیسی کے تحت بلوچ قوم کو دانستہ پسماندہ رکھا اور اس غیرانسانی پالیسی کو بلاشبہ انگریز کے لے پالک و گماشتہ سرداروں و خانوں کی مکمل مدد و حمایت حاصل رہی۔۔۔بلوچ بلاتکلف ایسے تمام شرمناک و غیر انسانی معاہدوں کو جو آقا و غلام کے جبری رشتے کی پیداوار ہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنے کیلئے تیار ہیں۔۔۔
دوسری جانب اسی اخلاقی جرات کا مظاہرہ پاکستانی اٹیلی جنشیا کو بھی کرنی چاہیے کیونکہ 1948 کو بلوچستان پر پاکستانی قبضہ بھی 1839 کے انگریز سے کچھ مختلف نہ تھا۔۔۔میر یوسف عزیز مگسی , عبدالعزیز کرد , محمد حسین عنقا , میر غوث بخش بزنجو و دیگر کی پر صعوبت اور طویل عوامی جدوجہد کے نتیجے میں جنم لینے والی قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی نے عوامی خواہشات کی ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کی شدید مخالفت کی مگر پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح نے گاجر اور ڈنڈے کی پالیسی اختیار کرکے مکران , خاران اور لسبیلہ کے شخصی حکمرانوں کے ساتھ ساز باز اور قلات پر فوج کشی کرکے بلوچستان کو جبری طور پر پاکستان میں ضم کرلیا حالانکہ 11 اگست 1947 کو مسلم لیگی رہنما محمد علی جناح اور لیاقت علی خان قلات کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرچکے تھے جس کا باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔۔۔.عوامی نمائندوں کے برخلاف بالادست آمروں سے کئے گئے معاہدوں پر بھی انصاف کی نظر ڈالی جانی چاہیے...جب ’قائد اعظم‘ اور ’قائد ملت‘ معاہدوں کی حرمت کے قائل نہ ہوں تو فرنگی سے کیا گلہ؟
ماضی کو مکمل طور پر دفن نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ماضی ہی حال کی بنیاد ہے اور حال مستقبل کا پیش خیمہ۔۔۔میں نے، ثنا بلوچ اور عابد میر نے جس ملک میں آنکھ کھولی وہ یقیناً پاکستان تھا۔ نصابی کتابوں کی رنگین داستانوں میں ملفوف پاکستان ۔۔۔ مگر جہاں ہم نے شعور کی دہلیز پر قدم رکھا وہ اس مصنوعی نصابی دنیا سے یکسر مختلف تھا جہاں ہم نے آنکھ کھولی، یہ پاکستان ایک قابض تھا جس کے ساتھ ایک ظالمانہ ماضی جڑا تھا وہ ماضی جس کا ہر حرف ہمارے اسلاف کے خون سے لکھا گیا ، جس کا پرچم ہمارے اسلاف کی جمہوری جدوجہد کی توہین اور ان کی خواہشات کا گلا گھونٹنے کی علامت ہے ، جس کے ترانے کا ایک مصرع بھی ھمل جیئند و محراب خان کی یاد نہیں دلاتا , جہاں کا دانشور بلوچ کو بلوچی بھائی اور مکرانی کو قوم کہہ کر پکارتا ہے , یہ وہ پاکستان ہے جس کی تشکیل کا خواب تربت و خضدار کے کسی چرواہے یا گوادر و گڈانی کے کسی ماہی گیر بلوچ نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔۔۔کیسے مان لیں حقیقت ؟ یہ تو ایسا ہے جیسے ایک ریپ کا شکار ہونے والے کو مزاحمت کی بجائے حصول لذت کی تجویز دی جائے ۔ اتنا ظالمانہ مطالبہ کیا ہمارا دوہرا استحصال نہیں؟
مجھے یہ ماننے میں کوئی مشکل نہیں کہ محنت کشوں کی طبقاتی تقسیم کا فائدہ بالادست طبقوں کو ہوگا لیکن جب پاکستان کا زیر دست طبقہ قومی حق خودارادیت سے انکاری ہوکر ہزار سالہ قومی شناخت کو اسلام اور پاکستانیت کے مصنوعی و جبری رشتوں پر قربان کرنے کا حکم صادر کرے تو بقول غالب : وہ اپنی خو نہ چھوڑیں ہم اپنی وضع کیوں بدلیں۔۔۔.
مشترکہ جدوجہد کیلئے مشترکہ اہداف اور یکساں مفادات لازمی شرط ہے مگر یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں۔۔۔.
مثلاً پاکستان چین معاہدہ براہ راست ہماری اجتماعی موت کا پروانہ ہے مگر پورے پاکستان میں اس پر بھنگڑے ڈالے جارہے ہیں ، ’جمہوریت پسند‘ سیاسی جماعتیں گزرگاہوں اور نقشوں پر سودے بازی میں مشغول ہیں۔۔۔ دوسری جانب اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے عیدالفطر کے روز جب پورا پاکستان عید کی خوشیاں منارہا تھا تو آواران میں کشت و خون اور وحشت کا بازار گرم کیا جارہا تھا , لاشیں ہفتوں تک بے گور و کفن سڑتی رہیں مگر پاکستانی میڈیا نے یک سطری خبر کے قابل بھی نہ سمجھا ۔ خیر ایک طرف ’شکریہ راحیل شریف‘ کے ڈھول پیٹے جارہے ہیں۔۔۔ ہمارے قاتل پاکستانی شہریوں کے ہیرو اور ہمارے شہید ان کے لئے دہشت گرد۔۔۔ میرا پاکستان کے تمام لبرل دانشوروں و سیاسی کارکنوں کو مشورہ ہے , ایک عاجزانہ مشورہ , وہ ہالی ووڈ کی فلم "بلڈ ڈائمنڈ" ضرور دیکھیں , بلوچستان کے تناظر میں دیکھیں , شاید چین پاکستان دوستی جو ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے ذیادہ گہری ہے کی قیمت کا اندازہ ہوجائے۔۔۔
بلوچ ظلم , جبر , استحصال اور ناانصافی کیخلاف جنگ شروع کرچکے ہیں۔۔۔یہ جنگ انہی قوتوں کے خلاف ہے جنہوں نے غیر انسانی مفادات کے تحفظ کی خاطر مذہبی جنونیت کو پروان چڑھایا ، صنفی امتیاز کو مضبوط کروایا ، محنت کو سرمائے کی باندی بنایا، دانش کو جہل سے مروایا ، اجمل کمال اور وجاہت مسعود کو لہو رلایا۔۔۔ اس جنگ میں ہم اپنا بہت کچھ گنوا چکے ہیں اور اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے مزید قربانی دینے کو بھی تیار ہیں۔۔۔ ہم ایک باوقار اور آزاد قوم کی حیثیت سے جینے کا حق مانگ رہے ہیں , ہم بلوچی اور براھوی زبانوں کو معدومیت سے بچانے کی تگ و دد کررہے ہیں.. پاکستان کے تمام باشعور اور حساس طبقوں کو ہمارے اس جائز حق کا احترام کرنا چاہیے تب جاکر مشترکہ جدوجہد کی راہیں پیدا ہوں گی۔۔۔

Back to Conversion Tool

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *