غزالی بمقابلہ ابن رشد

Yasir Pirzadaآج سے تقریباًنو سو سال قبل امام غزالیؒ نے ایک کتاب لکھی ،کتاب کا نام تھا ’’تہا فۃالفلاسفہ‘‘(The Incoherence of the Philosophers)۔یہ کتاب امام غزالیؒ کی بہترین کتاب سمجھی جاتی ہے ،اس کتاب میں امام غزالی ؒنے فلسفے کی دھجیاں اڑا دیں اور ثابت کیا کہ فلسفے کی مدد سے مذہب کی حقانیت ثابت نہیں کی جا سکتی، امام غزالی ؒکا کہنا تھا کہ مذہب اور فلسفے میں کوئی ہم آہنگی نہیں لہٰذا جو مسلمان فلسفی ،فلسفے کی رو سے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ درحقیقت لا دین ہیں ۔اس ضمن میں امام غزالیؒ نے فلسفیوں کے استدلال کی بنیادی خامیوں کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کی منطق کے پرخچے اڑا دئیے اور اپنے علم ،مطالعہ اور ذہانت کی بدولت یہ ثابت کیا کہ ابدیت کے بارے میں ان کا اعتقاد درست نہیں ،ارواح اور اساطیری اجسام کے بار ے میں ان کے نظریات صریحاً گمراہ کن ہیں، فلسفیوں کا نظریۂ علت و معلول درست ہے اور نہ ہی وہ روح کی ابدیت کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اور مزید یہ کہ خدا کے وجود سے متعلق ان کے دلائل نقائص سے پاک نہیں۔اس قسم کے بیس نکات کو زیر بحث لاتے ہوئے امام غزالی ؒفلسفیوں کے خلاف تین الزامات لگاتے ہوئے انہیں لا دین ہونے کا مرتکب پاتے ہیں۔پہلا، کائنات کی ابدیت، دوسرا، زمان و مکاں کے بارے میں خدا کے علم سے انکار اور تیسرا،حیات بعد از موت سے انکار۔
امام غزالیؒ کا ماننا تھا کہ خدا اس کائنات کو عدم سے وجود میں لے کر آیا اور ماضی کے ایک لمحے میں تخلیق کیا اور ماضی کا وہ لمحہ حال سے ایک متعین فاصلے پر ہے ،لا محدود نہیں ہے ۔خدا مادے کے ساتھ ساتھ وقت کا بھی خالق ہے جس کا ایک معین آغاز تھا لہٰذا وقت لامتناہی نہیں ہو سکتا۔امام غزالیؒ کی فلسفیوں سے بنیادی اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے خیال میں فلاسفہ کے دلائل منطقی اعتبار سے درست نہیں تھے اپنے نظریات کو سچا ثابت کرنے کی غرض سے فلسفیوں نے بعض جگہوں پر اپنے ہی دلائل کی نفی کرتے ہوئے متضاد باتیں کہی تھیں۔ امام غزالیؒ کے خیال میں فلسفیوں نے جن مفروضوں کی بنیاد پر اپنے عقائد کی عمارت کھڑی کی وہ مفروضے ہی سراسر غلط تھے۔ امام غزالیؒ نے ثابت کیا کہ ان مفروضوں کی منطقی اعتبار سے تشریح کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ وحی کے ذریعے سے اپنے آپ آشکار ہوتے ہیں ۔ مسلم فلسفیوں نے ان مفروضوں کو من و عن اس لئے تسلیم کر لیا تھا کیونکہ ان کے پیچھے ارسطو کی دیوقامت شخصیت کھڑی تھی جبکہ امام غزالیؒ نے پہلی مرتبہ اس فلسفے کی کمزوریوںکا پول کھول کر رکھ دیا ( اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ارسطو کا فلسفہ غلط ثابت ہو گیا)۔
یہاں امام غزالیؒ کی اس شاہکار کتاب کا احاطہ کیا جا سکتاہے اور نہ ہی ان نکات پر بحث کی جا سکتی ہے جن کی مدد سے امام غزالیؒ نے مسلمان فلسفیوں کو لاجوا ب کر دیا تھا، البتہ سو سال سے بھی کم عرصے میں ایک مسلمان فلسفی ایسا پیدا ہوا جس نے نہ صرف امام غزالیؒ کو چیلنج کیا بلکہ ان کی ’’تہا فۃالفلاسفہ‘‘ کا مدلل اور تفصیلی جواب کتا ب کی شکل میں ہی دیا ۔اس عظیم مسلمان فلسفی کا نام ابن رشد تھا اور اس کی کتاب تھی ’’تہا فۃ التہا فۃ‘‘(The Incoherence of the Incoherence)۔دراصل فلسفیوں کے خلاف امام غزالی کی چارج شیٹ اس قدر سخت تھی کہ اگر وہ تمام الزامات درست مان لئے جاتے تو مسلم فلسفیوں کو موت کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا تاوقتیکہ وہ اپنے ان خیالات سے دستبردار نہ ہو جاتے ۔لہٰذا یہ ضروری تھا کہ امام غزالیؒ کے الزامات کا علمی انداز میں جواب دیا جاتا اور یہ بیڑا ابن رشد نے اٹھایا۔
ابن رشد نے سب سے پہلے یہ ثابت کیا کہ فلسفے کا علم انسان کے وجود سے تعلق رکھتا ہے اور یہی تعلق بعد ازاں اسے خالق کے بارے میں علم حاصل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔اس ضمن میں ابن رشد قرآن سے دلیل لاتے ہوئے کہتا ہے کہ قرآن کئی مواقع پر انسان کو غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ابن رشد کے مطابق مذہب اور فلسفے میں کوئی تضاد نہیں ،دونوں ہی سچائی کی طرف لے جاتے ہیں۔ ابن رشد کے مطابق مذہب کی بنیاد تین اصولوں پر ہے ،خدا کا وجود،نبوت اور حیات بعد از موت۔انہی تین اصولوں کو ابن رشد نے بے حد تفصیل سے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ فلسفہ قطعاً مذہب سے متصادم نہیں اور اپنی اس کوشش میں ابن رشد نے جا بجا قرآن کے حوالے دئیے ہیں ۔ابن رشد نے خدا کے وجود، اس کی صفات،کائنات کی ’’دانشمندانہ‘‘ تخلیق ،انسان اور خدا کے تعلق اورعلت و معلول جیسے دقیق مسائل پر بھی اپنی رائے دی جو صدیوں سے انسان کے لئے معمہ بنے ہوئے ہیں۔ابن رشد قدرت پر کامل ایمان رکھتا تھا ،اس کا ماننا تھا کہ کائنات کی ہر حرکت میں ایک باقاعدگی ہے جسے صرف علت و معلول سے ہی سمجھا جا سکتا ہے ۔اس سے مراد ایک ایسی مادی دنیا ہے جہاں دو اصول کار فرما ہیں، ایک،اشیاء کا دوام،دوسرا،قانون علت۔
غزالیؒ ان دونوں اصولوں کو نہیں مانتے۔اشیاء کے دوام سے متعلق وہ فلسفیوںکا تقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیںکہ ’’اگر کوئی شخص اپنی کتاب گھر بھول آئے تو عین ممکن ہے واپسی پر اس کی کتا ب کی شکل ہی تبدیل ہو جائے ...... پتھر سونے میں تبدیل ہو سکتا ہے اور سونا پتھر میں، اور جب اس شخص سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ کہے گا کہ میں نہیں جانتا کہ اس وقت میرے گھر میں کیا ہے !‘‘غزالیؒ کہتا ہے کہ یہ ماننے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ خدا کے لئے ہر عمل ممکن ہے ،اس ضمن میں وہ حضرت ابراہیم ؑکے معجزے کی مثال دیتے ہوئے کہتا ہے کہ خدا نے ان کے لئے آگ کو ٹھنڈا کر دیا ہے کیونکہ وہ اس پر قادر تھا۔دوسری طرف ابن رشد کا کہنا ہے کہ معجزات کی سچائی کو چیلنج کیا جا سکتا ہے او ر نہ ہی فلسفی معجزات کا جائزہ لے سکتے ہیں ،اسلام کا معجزہ اس بات میں مضمر نہیں کہ کیسے ایک لاٹھی اژدھے میں تبدیل ہو سکتی ہے بلکہ اسلام کا اصل معجزہ قرآن ہے......اور یہ معجزہ دیگر تمام معجزوں سے افضل ہے ۔
مسلمانوں کے لئے سب سے قابل فخر بات یہ ہے کہ الکندی،الفارابی اور ابن سینا جیسے فلسفیوں نے پہلی مرتبہ مذہب کی افادیت گھٹائے بغیر، سائنس کو اس کا صحیح مقام دیا کیونکہ یہ تمام عظیم مفکر فلسفی ہی نہیں سائنس دان بھی تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سچے مسلمان تھے ۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مذہب کی تعبیر اپنی سائنسی اور فلسفیانہ علم کی روشنی میں کی۔ ابن رشد اور امام غزالیؒ نے مذہب اور فلسفے کے حوالے سے جو عالمانہ بحث کی اس کی نظیر پوری مسلم تاریخ میں نہیں ملتی۔تاہم امام غزالیؒ نے مذہب کے جذباتی دفاع میں غیر ارادی طور پر آنے والے مسلمانوں کے لئے فکر و تدبر کا دروازہ بند کر دیااور مسلمان آہستہ آہستہ سائنس سے دور ہوتے گئے ۔دوسری طرف ابن رشد نے سائنس کا دفاع کیا اور یورپ نے ابن رشد کے بتائے ہوئے راستے کو اپنایا۔یہی وجہ ہے کہ ابن رشد کو مشرق سے زیادہ مغرب میں پڑھا جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی عربی کتب کو جلا دیا گیا ،ملک بدر کیا گیا اوراس کے ’’باغیانہ‘‘ افکار کی وجہ سے سزا سنائی گئی۔ اندلس اور مراکش میں اس کے خلاف احکامات جاری کئے گئے کہ ’’خطرناک‘‘ علوم سے متعلق تمام کتب جلا دی جائیں تاہم ابن رشد کے خلاف یہ پروپیگنڈا اس وقت تھما جب المنصور مراکش واپس آیا اور اسے معافی دلوائی۔لیکن اس وقت تک مسلم امہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا۔مذہب مشرق میں جیت چکا تھا اور سائنس مغرب میں ۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر مسلمان، مذہب اور سائنس ،دونوں کی جنگ جیت جاتے ،جیسے ابن رشد کا ماننا تھا،کم از کم آج ہمیں ذلت کے یہ دن تو نہ دیکھنے پڑتے ۔
نوٹ:اس کالم میں درج حقائق ’’احمد فائود ال احوانی‘‘ کے مقالے ’’ابن رشد‘‘ اور ’’ایم سعید شیخ‘‘ کے مقالے ’’الغزالی ‘‘ جو History of Muslim Philosophyمیں شائع ہوئے،سے لئے گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *