پاکستان میں خواجہ سرا ؤں کے حقوق

arshad sulahriاسلامی تعلیمات اور مسلم معاشرے میں خواجہ سرا ،زنخوں ،زنانوں کو بھی بطور مسلمان وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو عام مسلمان کو حاصل ہیں لیکن حقیقی دنیا میں ایسا نہیں ہو رہا۔ پاکستان میں مذہبی دباؤ اور سماجی ناہمواری کے باعث عام انسان ذلت کی گہرائیوں میں زندہ رہنے پر مجبور ہے۔ تین کروڑ سے زائد لوگ ایسے ہیں جو تاریک راہوں کے مسافر ہیں جنہیں اپنے اور اپنے متعلقین کے پیٹ کی آگ بجانے کے لئے خود آگ میں جلنا پڑتا ہے۔ جن میں سرفہرست خواجہ سرا ، زنخے یا زنانے ، ہم جنس پسند اور سیکس ورکرز شامل ہیں۔ راقم کی ذاتی تحقیق کے مطابق مذکورہ لوگوں میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے شوق سے خود کو تاریک راہوں کے سپرد کیا ہے۔ ہر ایک کے پیچھے انتہائی مجبوری ہے اور ایسے حالات ہیں کہ سن کر انسانی روح کانپ جاتی ہے۔ مثلاًراولپنڈی میں ایک نوجوان سکس ورکر (جے)نے بتایا کہ اس کا باپ نہیں ہے، ماں بیمار ہے اور دو بہنیں معذور ہیں۔ وہ ایک کمپنی میں جاب کرتا ہے لیکن تنخواہ سے ضروریات پوری نہیں ہوتیں ، رات کو باہر نکلتا ہو ں۔ کبھی تین سو اور کبھی پانچ سو مل جاتے ہیں ، کلائنٹ اچھا ہو تو زیادہ بھی دے دیتا ہے۔ جے نے بتایا کہ بعض اوقات لوگ بہت برْا سلوک کرتے ہیں، کئی کئی روز تک جسمانی تکلیف باقی رہتی ہے۔ جے نے بتایا کہ رات کی کمائی سے بہت سہارا مل جاتا ہے ، ماں کی دوا بھی خرید لیتا ہوں۔ البتہ خواجہ سرا وں کے دکھ الگ ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں سے الگ رہتے ہیں۔ انسان ہوتے ہوئے بھی انہیں ان کے اپنے انسان نہیں سمجھتے اور نہ ہی معاشرہ انہیں قبول کرتا ہے۔ خواجہ سرا ایک ایک کمرے کے ایسے گھروں میں رہتے ہیں جو رہائشی علاقے یا آبادیوں سے ہٹ کے ہوتے ہیں۔ اگر رہائشی علاقوں ہوں بھی تو ایسی جگہ پر کہ جہاں لوگوں کی آمدو رفت نہیں ہوتی۔ یہ کمرے زیادہ تر پلازوں یا بڑی عمارتوں کا حصہ ہوتے ہیں ، ان کمروں میں پانی ، بجلی ، گیس سمیت دوسری بنیادی ضرویات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ دوسرا یہ کمرے عمومی طور پر ایسی جگہ ہوتے ہیں جن جگہوں پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے اور یہ انتہائی گندی جگہ ہوتی ہیں۔

01 تکلیف دہ امر یہ ہے کہ معاشرہ ان کے ہر معاملے سے لاتعلق رہتا ہے۔ ان کا جینا تو ایک طرف ان کے مرنے پر بھی معاشرہ نوٹس نہیں لیتا حتیٰ کہ خواجہ سراوں کے خونی رشتے دار بھی ان سے دور ہی رہتے ہیں۔ یہ جیتے بھی اکیلے ہیں اور مرتے بھی اکیلے ہیں۔ بالخصوص پاکستانی سماج میں اور مذہب کے نام نہاد ٹھکیدار وں کے نزدیک ایسے لوگوں کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ ان پر مساجد کے دروازے بند ہیں، مذہبی تقریبات اور تہواروں میں شرکت ان کے لئے ممنوع ہے۔ خواجہ سراؤں پر ظلم یہ بھی ہوتا ہے کہ خواجہ سراؤں میں سے ہی بعض ہوشیار قسم کے لوگ ان کا بھر پور استحصال کرتے ہیں۔ راولپنڈی میں بوبی الماس نام کا ایک خواجہ سرا ہے جو ان کے حقوق کی بات بھی کرتا ہے لیکن سے زیادہ ان کا استحصال کرتا ہے ایسی طرح کے کئی گرو ہیں جو خواجہ سراوں کے منہ کا نوالہ چھین لیتے ہیں۔ خواجہ سراوں کے ساتھ زنانے بھی ہیں۔ ان کے حالات زندگی مختلف نہیں ہیں۔ البتہ کئی زنانوں نے اپنے گھر بسائے ہوئے ہیں اگر ہم مجموعی طور پر ہم جنسیت کی بات کریں تو زیادہ تر اپنی شناخت چھپا کے رکھتے ہیں کیونکہ اس میں ان کی عافیت ہے ورنہ پاکستان میں جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ اب تک کئی قتل ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں ہم جنس پسندی اور ہم جنس پسندافراد ایک حقیقت ہیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی ہم جنس پسندوں کوکسی قسم کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ پاکستانی ہم جنس پسندجبر اور خوف میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہم پاکستان میں ہم جنس پسندی کا فروغ چاہتے ہیں اور نہ ایسی سرگرمیوں کے حامی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم جنس پسندوں کو سمجھا جائے اور ان کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے۔انہیں اپنی زندگیاں آزادی سے گزارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ہم جنس پسنددوسرے انسانوں کی طرح جیتے جاگتے، سانس لیتے اور انسانی جذبات رکھتے ہیں ان کی بھی خواہشات اور امنگیں ہیں۔ وہ بھی معاشرے میں دوسرے انسانوں کی طرح اپنی زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں۔ وہ بھی محبت اور جنسی تسکین کا انسانی حق رکھتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جنس پسندوں کو سمجھا جائے، انہیں انسانی حقوق دیے جائیں ، جن خواجہ سراؤں کے جنسی اعضا مکمل نہیں ہوتے ، ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو قابل علاج ہیں۔ ان کو علاج کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ مکمل مرد یا عورت بن کر فعال اور مفید زندگی گزار پائیں۔ کچھ لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوکر ہم جنس ہم جنس پسندی کی طرف چلے جاتے ہیں، وہ بھی قابل علاج ہیں۔ اس لئے ان سے نفرت کی بجائے انہیں نئی زندگی دی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *