حادثہ یک بیک نہیں ہوتا

aniq Najiسعودی عرب آج کل پھر مکہ میں ہونے والے دو حادثات کی وجہ سے زیربحث ہے۔ روایت کے عین مطابق خبریں چھپ رہی ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف نے خود فون کر کے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں اور ان کی جانبازمیڈیا ٹیم نے خبروں میں وزیراعظم کے اس احسان کا بطور خاص ذکر کیا کہ وہ انتہائی اہم دورے پر ہونے کے باوجود خود کال کرنے کا وقت نکال رہے ہیں۔ وزیراعظم آفس میں سانحہ منیٰ سے متعلق فوکل پرسن ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے بتایا کہ شہید ہونے والوں کو 5لاکھ جبکہ زخمیوں کے لئے 2لاکھ فی کس ادا کئے جائیں گے اور بڑی خوشخبری یہ کہ شہید ہونے والوں کے خاندان میں سے دو یا تین افراد کو عمرے کی سعادت کے لئے سرکاری خرچ پر بھجوایا جائے گا۔
یہ سوال بدستور جوں کا توں کھڑا ہے کہ ان حادثات کی آخر وجوہ کیا تھیں؟ اگر انسانی غلطی تھی‘ تو اس کا ذمہ دار کون تھا؟ کس کو سزا ملی یا ملے گی؟ سعودی حکام نے کونسے سبق سیکھے ہیں؟ جن سے مستقبل میں انتظامات بہتر کر کے حادثات سے بچا جا سکے تاکہ حکومت پاکستان جن شہداء کے لواحقین کو سرکاری خرچ پر عمرہ کرانے کی خوشخبری سنا چکی ہے‘ وہ سعادت حاصل کر کے زندہ سلامت واپس آ جائیں۔ ورنہ پھر ان کے خاندان میں بچ جانے والوں میں نئے خوش نصیب ڈھونڈنا ہوں گے۔
سعودی عرب میں بادشاہت ہے۔ ’شاہی خاندان‘ مملکت کے تمام امور چلاتا ہے۔ ان کے مطابق سعودی آئین کا ماخذ قرآن اور سنت ہے اور ظاہر ہے اسلام کی وہ تعبیروتعریف ہے جو شاہی خاندان تسلیم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 31جنوری 1992ء میں جاری ہونے والے شاہی فرمان کے مطابق Basic Law ہے۔ جس کے 9چیپٹر اور 83آرٹیکلز ہیں۔ فریڈم ہاؤس کے مطابق بیسک لاء کا آرٹیکل 39‘ پریس کی آزادی کی کوئی ضمانت نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ مارچ 2005ء میں میڈیا کے اوپر اتھارٹی کو عدالتوں سے لے کر وزارت اطلاعات ثقافت کو ٹرانسفر کر دیا گیا‘ جو سلطنت میں قائم کسی بھی میڈیا ہاؤس کو بند کر سکتی ہے۔ کسی بھی صحافی کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر 10سال کی پابندی عائد کر سکتی ہے۔ بھاری جرمانے عائد کر سکتی ہے اور جیل کی سیر بھی کروا سکتی ہے۔
اسلامی نظام کی سعودی تعریف کے مطابق سیاسی پارٹیوں کے قیام پر پابندی ہے۔ سیاسی بنیادوں پر قومی انتخابات کا کوئی تصور نہیں۔ 2011ء میں پیش کئے جانے والے انسداد دہشت گردی کے ایک بل میں یہ شق شامل کی گئی کہ بادشاہ یا اس کے جانشین کی توہین پر کم از کم 10 سال سزا سنائی جائے۔ اس نظام میں انٹرنیٹ کی سنسرشپ آب و تاب کے ساتھ موجود ہے اور ہر اس ویب سائٹ کوبلاک کر دیا جاتا ہے‘ جو شاہی خاندان کی حکمرانی پر کسی بھی تنقید کا جرم کرے۔ فروری 2012ء میں حبیب علی الماتک اور حسین ملک السلام کو اس لئے گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے اپنی ویب سائٹ الفجر کلچرل نیٹ ورک پر اقلیتی اہل تشیع کے مظاہروں کی تصاویر شائع کی تھیں۔ اس نظام میں عدالتی نظام کو فریڈم ہاؤس 29واں نمبر دیتا ہے جبکہ آخری نمبر 30ہے۔
’’اکانومسٹ‘‘ نے 2012ء میں 167 ممالک میں سے سعودی حکومت کو وسیع ترین اختیارات رکھنے میں 5واں نمبر دیا تھا۔ سعودی شاہی خاندان کے افراد 15ہزار کے لگ بھگ ہیں۔ جن میں سے 2ہزار افراد مملکت کے امور چلاتے ہیں۔ قبائلی سردار‘علماء‘ قاضی اور شاہی خاندان پر مشتمل اشرافیہ‘ مملکت کے سیاہ و سفید کی مالک ہے اور ہر اس تنقید کو نظرانداز کرتی ہے جو بیرونی دنیا ان کے نظام پر کرتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی آفیشل ویب سائٹ پر سعودی عرب پر موجود رپورٹ میں جسمانی تشدد کو معمول قرار دیا گیا ہے۔ عورتوں‘ اقلیتوں اور بچوں کے حقوق پر تشویش کا اظہار ہے۔ ورکرزکے حقوق پر سوالیہ نشان ہیں۔ جنس‘ مذہب اور فرقے کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ سرکاری طور پر تفریق کی جاتی ہے۔ لیکن سب سے دلچسپ اس رپورٹ میں موجود پہلا نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اس ملک میں حکومت بدلنے کا کوئی پرامن طریقہ موجود نہیں ہے۔
شاہی خاندان کی اسلامی شریعت کے مطابق ملک میں کوئی سینما موجود نہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں۔ پردے کی پابندی نہ ہونے پر سزائیں علیحدہ ہیں۔ ملک کی خارجہ پالیسی بھی فرقہ پرستی کے تابع نظر آتی ہے۔ یہ ہے سعودی شاہی نظام کی ایک ہلکی سی جھلک۔ اس شاہی خاندان کے شہزادوں کے کارنامے وقفوں سے مغربی اخبارات کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ حال ہی میں 29سالہ مجیدعبدالعزیز السعود کیلیفورنیا میں گرفتار ہوئے۔ الزام جنسی تشدد کا تھا۔ لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے شہزادے کی کرائے پر حاصل کی گئی اسٹیٹ پر اس وقت چھاپہ مارا‘ جب ہمسایوں نے ایک ایسی عورت کو دیوار پھلانگ کربھاگنے کی کوشش کرتے دیکھا‘ جو زخمی تھی۔ شہزادہ صاحب گرفتار ہوئے۔ 3لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہائی حاصل کی اور برطانوی اخبار ’’دی میل‘‘کی رپورٹ کے مطابق وہ اب تک پرائیویٹ جہاز میں اپنے وطن پہنچ چکے ہوں گے۔ اگر ایرانی الزام کو سچ تسلیم کر بھی لیا جائے‘ تو کیا شاہی خاندان اپنے شہزادے کو غفلت کامجرم قرار دے گا کہ اس کے 300مسلح محافظوں کی وجہ سے منیٰ میں بھگدڑمچی؟ کیا کوئی سعودی قاضی یا عالم اپنے شہزادے کو قاتل قرار دینے کی ہمت رکھتا ہے؟ خودشاہی خاندان کے اندر بڑھتی بے چینی دنیا کے سامنے آ رہی ہے۔
28ستمبر کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والیHugh Miles کی سٹوری ملاحظہ کریں۔ ایک سینئر سعودی شہزادے نے اخبار سے بات کرتے ہوئے موجودہ بادشاہ سلیمان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے تبدیلی کی ضرورت پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ تصدیق کی ہے کہ ان کے خاندان میں شاہ سلیمان کی حکومت کے حوالے سے بہت تشویش ہے اور اصل طاقت بادشاہ کے بیٹے کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں ان کے خاندان کے بزرگ مل کر تبدیلی پر بات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ لوگوں اور قبائلی سرداروں کا بھی تبدیلی کے حوالے سے دباؤ ہے۔ 22ستمبر 1932ء سے اب تک بادشاہوں کی ترتیب یوں بنتی ہے۔ عبدالعزیز ‘ سعود‘فیصل‘ خالد‘ فہد‘ عبداللہ اور اب ساتویں بادشاہ سلیمان کی بادشاہت ہے۔موجودہ سعودی مملکت میں بادشاہ کی زندگی میں انتقال اقتدار کی ایک مثال 1964ء میں ملتی ہے جب شاہی خاندان کے دباؤ پر شاہ سعود بن عبدالعزیز نے اقتدار شاہ فیصل کو منتقل کیا تھا۔ مگرشاہ فیصل 1975ء میں خود اپنے ہی ایک بھتیجے کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ یعنی 83برس کے 7 بادشاہوں میں ایک معزول اور دوسرا قتل ہوا۔ جب سچائیوں پر شاہی پردے ڈال دیئے جائیں تو دھند جنم لیتی ہے۔ اسی دھندمیں الجھا ہوا ایک سوال یہ ہے کہ حال ہی میں ہونے والے یہ دو سانحات کیا محض حادثے تھے یا طاقت کے کھیل کی شطرنج پر کوئی چال چلی گئی ہے؟
رہے اپنے پاکستانی حجاج کرام تو فکر نہ کریں‘ واپسی ہوئی تو حاجی۔ نہ ہوئی تو شہادت۔ حکومت پانچ اور دو لاکھ کے پیکٹ اٹھائے تیار کھڑی ہے۔ وزیراعظم جتنے بھی مصروف ہوں فون کالز کا وقت تو نکال ہی لیں گے اور شہداء کے لواحقین کو سرکاری عمرے اور حج پر روانہ کر دیا جائے گا۔ جناب پرویزرشید نے سانحے کے بعد سعودی نظام اور تحقیقات کے معیار پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ کر بھی کیا سکتے تھے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *