علیم خان یا تحریک انصاف؟

asifلاہور میں آج انتخابی معرکہ برپا ہے۔ایک سوال حلقے کے تمام ووٹرز کے سامنے رکھا ہے: ن لیگ یا تحریک انصاف؟اس سوال کا جواب عوام نے دینا ہے۔لیکن آج کے معرکے کا یہ واحد سوال نہیں ہے۔ایک سوال اور بھی ہے اور یہ سوال آج تحریک انصاف کے ہر مخلص کارکن کے دل و دماغ پر دستک دے گا۔سوال یہ ہے: علیم خان یا تحریک انصاف……؟ تحریک انصاف کے وابستگان اس کا جو بھی جواب دیں گے اس کے اثرات محض ایک حلقے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تحریک انصاف کے نظریاتی وجود کی غارت گری یا صورت گری کا فیصلہ بھی کر دیں گے۔تحریک انصاف کے رومان پسند کارکنان کو معلوم ہونا چاہیے یہ عرفان ِ ذات کا لمحہ ہے۔فیصلہ جو بھی آ ئے لیکن فیصلہ آج شام تک ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کی ترجیح کیا ہے، ایک حلقے کی نشست یا پارٹی کا اخلاقی اور نظریاتی وجود؟
تحریک انصاف کی نظریاتی صفوں میں ایک اضطراب ہے۔کوئی بھلے اسے مان کر نہ دے لیکن صف نعلین سے آوازیں اٹھتی ہیں کہ ہمارے وہ نظریات کیا ہوئے جن کو زادِ راہ بنا کر ہم نے سفر شروع کیا تھا۔لیلائے اقتدار سے ہم آغوش ہونے کی آرزو نے عمران خان کو بے قرار کر دیا یا وہ افتاد ِ طبع کے ہاتھوں مجبور ہوئے، معلوم نہیں،لیکن اتنا معلوم ہے تمام آدرش اور نظریات ایک ایک کر کے پامال کر دیے گئے۔ایسے ایسے لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پارٹی میں شامل کیے گئے سماج کا اجتماعی شعور جنہیں ٹھکرا چکا تھا۔ نام لینے کی ضرورت نہیں ہر حلقہ اس آلودگی کا شکار ہو چکا ہے۔اول اول نظریاتی کارکنان نے احتجاج کیا تو عمران خان انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیتے کہ ابھی پارٹی تشکیل کے مراحل سے گزر رہی ہے ابھی آپ خاموش رہیں اور مجھ پر اعتماد رکھیں میں ایسے لوگوں کو یا تو ٹھیک کر دوں گا یا وقت آنے پر انہیں نکال باہر کیا جائے گا۔وہ وقت لیکن پارٹی میں نہیں آ سکا۔اب پی ٹی آئی مقبول جماعت بن چکی تھی اور خان صاحب کے مزاج بدل چکے تھے۔اب تنقید انہیں توہین محسوس ہوتی ہے۔ کرپشن کے خلاف اکبر ایس بابر بولے تو انہیں نکال دیا گیا اور جسٹس وجیہ الدین نے آواز بلند کی تو ان کا ناطقہ بند کر دیا گیا۔ الیکشن سے پہلے جب ادھر ادھر سے ’لوٹے‘ اکٹھے کیے جانے لگے تو آوازیں اٹھیں۔عمران خان نے یہ کہہ کر سب کو چُپ کرا دیا کہ:’کیا آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں، پارٹی میں جو آنا چاہے آ جائے لیکن آپ لکھ کر رکھ لیں ٹکٹ صرف اس کو ملے گا جس کا چہرہ پارٹی کے منشور سے ملتا ہو گا……“ پھر ایسے ایسے چہرے آئے کہ احباب پھٹی آنکھوں سے کبھی انہیں دیکھتے اور کبھی منشور کو۔
تحریک انصاف اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ عملیت پسندی کا مرض اسے لاحق ہو چکا ہے۔ اب ہر وہ آدمی معتبر ہے جو مروجہ سیاسی تقاضوں کو نبھا سکتا ہے۔ اخلاقی قوت اب زادِ راہ نہیں رہی۔ پارٹی میں فکری کشمکش اور اضطراب عروج پر ہے۔پرانے کارکنان ڈسٹ بن میں پھینکے جا رہے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہی نظریات بھی۔ اب لوٹے بھی ہم رکاب ہیں، اور جعلی ڈگریوں والے بھی۔ خان صاحب میڈیا پر طلوع ہوتے ہیں تو دائیں بائیں براجمان لوگوں میں ایک بھی ایسا نہیں ہوتا جو خان کا پرانا رفیق ہو۔ کوئی ق لیگ سے آیا ہوتا ہے کوئی ن سے تو کوئی پی پی پی سے۔ہر وہ فصلی بٹیرہ عمران کی شاخ پر آ بیٹھا ہے جسے کہیں اور جگہ نہ مل پائی۔موقع پرستوں کا بلال گنج بنا کے رکھ دیا گیا ہے اس جماعت کو۔ جعلی ڈگری کی وجہ سے عدالت کے حکم پر نشست سے محروم ہونے والے شخص کو کے پی کے میں اہم ذمہ داری دے دی جاتی ہے،مشاورت اب وجیہہ الدین احمد جیسوں سے نہیں شیخ رشید جیسوں سے ہوتی ہے۔ علیم خان کو جب ٹکٹ دیا گیا اس وقت بھی یہی سوال اٹھا، اسی اضطراب نے جنم لیا۔ جواب دیا گیا:”لاہور میں ن لیگ کے اقتدار کی قوت کا مقابلہ کرنے کے لیے دولت مند آدمی کی ضرورت ہے“۔ اب یہ دولت مند آدمی میدان میں ہے۔اگر تحریک انصاف نے یہی کرنا ہے اور اس کے انتخاب میں یہی عوامل کارفرما رہنے ہیں تو شاہ محمود قریشیوں، جہانگیر ترینوں، خان سروروں اور علیم خانوں کے ساتھ عمران خان کبھی اقتدار میں آ بھی گئے تو وہ کسی معنوی تبدیلی کی بنیاد نہیں رکھ پائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ عمران خان ایسا کیوں کر رہے ہیں؟حسن ظن اپنے کمال پر پہنچ جائے تو اس کا جوااب یہ ہے کہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ پاکستانی قوم کی اخلاقی قدریں بہت کمزور ہیں۔جب تک دولت مند لوگ ساتھ نہیں آئیں گے عوام ووٹ نہیں دیں گے۔ عوام طاقت اور تجوری دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں۔سیاست کے لیے محض اخلاقی قوت کافی نہیں اس کے لیے مروجہ تمام خرابیاں یا خوبیاں بندے میں ہونی چاہیئں۔چنانچہ وہ مروجہ تقاضوں کے مطابق امیدوار میدان میں اتارتے ہیں۔
عمران خان کا اعتماد معاشرے کی اخلاقی قوت سے اٹھ چکا ہے۔ یہ اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ لوگ صرف تجوری کا سائز دیکھ کر ووٹ نہیں دیتے۔کچھ اور چیزیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔پارٹی کے نظریات اور خان صاحب کی افتاد طبع آمنے سامنے ہیں۔ایک عام سفید پوش آدمی پر پارلیمنٹ کے دروازے اگر تحریک انصاف بھی نہ کھول سکی تو یہ بہت بڑا المیہ ہو گا۔ تحریک انصاف ایک امیدکا نام ہے۔ یہ امید بھی اگر صاحبان ثروت کی تجوریوں میں گھٹ کے مر گئی تو بہت برا ہو گا۔ فی الوقت عمران خان نے تجوری کو ترجیح دی ہے۔ ان کا یہ فیصلہ کامیاب رہا اور علیم خان جیت گئے تو آئندہ کے لیے ہر حلقے میں تجوری ہی فیصلہ کن عامل ہو گا۔ لیکن اگر علیم خان ہار گئے تو عمران خان کو پارٹی کے اندر نظریاتی لوگ یہ کہہ سکیں گے کہ خان صاحب ٹکٹ دیتے وقت تجوری ہی نہ دیکھا کریں نظریاتی کارکن کا چہرہ بھی دیکھ لیا کریں۔ ایک نشست کی قربانی دے کر اگر عمران خان کا سماج کی اخلاقی قوت پر اعتماد بحال کیا جا سکے تو کیا یہ گھاٹے کا سودا ہو گا؟
مسلم لیگ (ن) یا ایاز صادق نے نہ پہلے دودھ اور شہد کی نہریں نکالی ہیں نہ ان سے آئندہ ایسی کوئی توقع ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی ایسی برسات کا نام ہیں جن کے آنے سے پہلے کوئی گھٹا اٹھتی ہے نہ آنے کے بعد کوئی روئیدگی پیدا ہوتی ہے۔۔اس ضمنی الیکشن کی میرے نزدیک کوئی اہمیت ہے تو وہ یہی ہے کہ تحریک انصاف کیا فیصلہ کرتی ہے۔
آج ساری قوم فیصلے کی منتظر ہے: ایاز صادق یاعلیم خان؟میں مگر ایک اور سوال لیے کھڑا ہوں: علیم خان یا تحریک انصاف……؟
(آخر میں برادر مکرم امیر العظیم کو مبارک کہ صالحین کو بالآخر ایک ایسا امیدوار مل گیا جو آئین کی دفعات باسٹھ تریسٹھ پر پورا اترتا ہے۔زہے نصیب)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *