اپنے آپ سے محبت کرنا سیکھیں

محمد بلال غوری

bilal Ghauriہرمن ہیسے بیسویں صدی کا عظیم مفکر اور ادیب تھا جس نے جرمنی کے ایک قصبے میں راسخ العقیدہ پادریوں اورراہبوں کے خاندان میں جنم لیا مگر اپنی مہم جویانہ جبلت کے باعث جلد ہی اس نے گھر چھوڑ دیااور ایک کتاب فروش کے ہاں ملازمت اختیار کر لی۔ اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی جستجو اسے بھٹکاتی رہی ،وہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک سے دوسرے ملک بنجاروں کی مانند گھومتا رہا ۔ 1911ءمیں اس نے ہندوستان کا سفر کیا اور یہاں پر گوتم بدھ کی تعلیمات کا مشاہدہ کیا ۔ہندوﺅں اور گوتم بدھ کے پیروکاروں کے ہاں ترک دنیا اور رہبانیت کے رجحانات سے متاثر ہو کر اس نے اپنا شہرہ آفاق ناول لکھا جس کا نام ہے ”سدھارتھ“۔ جرمن زبان میں لکھے گئے اس ناول ”سدھارتھ پر 2003ءمیں فلم بھی بنائی گئی۔ نوبیل انعام یافتہ یہ ناول پہلی مرتبہ 1922ءمیں شائع ہوا ،اور اب تک دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی زبان ہو جس میں اس کا ترجمہ نہ کیا گیا ہو۔ گوشہ نشینی کے اس رجحان کو طریقت کی راہ کہیں ،تصوف کا نام دیں، جوگ کہیں یا رہبانیت کے لفظ کا لبادہ اوڑھائیں، یہ جوگی، سنیاسی، سادھو اور عارف دنیا کے ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ دنیا کو ٹھکرا کر کٹھن راستہ اپنانے والے یہ راہرواپنی ذات اور ہستی کو مٹانے کے لیئے مجاہدے ،مکاشفے اور ریاضت کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ اپنے آپ کا تسخیر کر سکیں اور زندگی کا راز پا لیں ۔خود اذیتی سے شروع ہونے والا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا ،بھوکے پیاسے رہنے کی مشق سے لے کر پانی پر چلنے اور روحانیت کے بل پر لوگوں کے ارادوں کو مسخر کرنے کے فن تک کئی سنگ میل آتے ہیں لیکن منزل تو کجا نشان منزل بھی نہیں ملتا اور کڑی تپسیا کے بعد بھی نروان کی گھڑی نہیں آتی بلکہ مسافر دائروں میں گھومتے رہ جاتے ہیں ۔ مسلسل مشق کے نتیجے میں چند کرتب اور غیر مرئی نوعیت کی طاقت تو موصول ہو جاتی ہے جس سے عام افراد متاثر ہو سکیں مگر کوئی ایسا راز، کوئی ایسا بھید نہیں ملتا کہ خلق خداکو مستفید کیا جا سکے۔ خود کو دریافت کرنے کے اس سفر میں بارہا یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تسکین قلب کی منزل پا لی ہے اور اپنی ذات کو مسخر کر لیا ہے لیکن درحقیقت ذات نہ صرف زندہ رہتی ہے بلکہ بتدریج بڑھتی رہتی اور توانا ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس لاحاصل مشق کی مثال ایک پریشر ککر کی ہے جس میں ذات کو مٹانے کی کوشش کرتے وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ مطلوبہ مقاصد حاصل ہو گئے ہیں لیکن ڈھکن اٹھاتے اور ہوا کا دباﺅ کم ہوتے ہیں ذات کا جن نکل کر باہر آ جاتا ہے ۔گوشہ نشینی کی یہ شعوری مشق دراصل ریت کے ذروں پر پانی کا چھڑکاﺅ کرنے جیسا ہے جس میں جیسے ہی تعطل آئے گا ،ذات ذرہ بے نشان کی مانند پھر سے بگولوں کے ساتھ اڑنے لگے گی۔ساری زندگی اس تگ وتاز میں بسر ہو جاتی ہے اور آخر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نفی ذات کے تمام راستے جلد یا بدیر ذات کے چوراہے میں ہی پلٹ کر لے آتے ہیں اور زندگی تو یہی ہے جسے جستجو کی نذر کر دیا۔اپنی ذات سے عارضی فرار کی کوشش تو ایسے ہی ہے جیسے دکھ دردکا ستایا کوئی شخص غم زندگی سے نجات پانے کے لیئے جام و سبو سے جی بہلائے اور کچھ دیر کے لیئے تفکرات و پریشانیوں سے دور چلا جائے۔ یہ گیان دھیان ،یہ جوگ سنجوگ ،یہ مجاہدہ و مکاشفہ بھی ایک نشے کی مانند ہیں جس کے خمار میں انسان دنیا بھر کے جھمیلوں سے آزاد ہو جاتا ہے پانے کے خمار اور کھونے کے آزار سے بے نیاز ہو جاتا ہے ،شوق ِکمال اور خوفِ زوال کی پروا نہیں رہتی تو وہ سمجھتا ہے میں نے اپنی ذات کو مسخر کر لیا، میں نے آتم تیاگ کی منزل پا لی۔ حالانکہ یہ تو وقتی اور عارضی نوعیت کا احساس ہوتا ہے جو خودفریبی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس راستے کے مسافروں کو یہ کیوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ جو ڈھونڈنے نکلے تھے انہوں نے پا لیا ہے اور انہیں منزل مل گئی ہے؟چند روز قبل میرے پاس دو مہمان تشریف لائے ،نوجوان دانشور ذیشان ہاشم اور زندگی کی کئی بہاریں دیکھنے والے صلاح الدین صاحب۔جب گفتگو کا رخ سلسلہ طریقت کی طرف مڑ گیا تو انہوں نے تاویل پیش کی کہ عارفین کا علم بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر آپ ان کے ہم رکاب ہوجائیں تو وہ سب گتھیاں سلجھا دیتے ہیں ،چیستاں میں لپٹی پہیلی میں چھپا ہر معمہ حل کر دیتے ہیں اور آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں ۔میں نے بصد احترام عرض کیا کہ یہ سب تو ہپنا ٹزم اور سائیکالوجی کی کوکھ سے جنم لینے والے اس طرح کے دیگر علوم کا شاہکار ہے ۔آپ جس شے کی دھن خود پر سوار کر لیں، جس کے خیالات میں ہمہ وقت الجھ جائیں ،وہ شے تو نظر آ ہی جاتی ہے۔ کسی شخص سے آپ کو بے پناہ محبت ہے تو اٹھتے بیٹھے ،سوتے جاگتے اسی کی صورت دکھائی دے گی۔ایک وقت آتا ہے جب چبھن، جلن اور درد یا تکلیف کا احساس باقی نہیں رہتا۔ اب اس کے لیئے گہری تپسیا کریں یا سن کر دینے والے انجکشن لگوا کر دیکھ لیں آپ کی مرضی۔ ہرمن ہیسے نے ”سدھارتھ “ میں اس کی بہت خوبصورت تشریح بیان کی ہے ۔اس ناول کا مرکزی کردار سدھارتھ اپنے دوست گوند سے کہتا ہے ”تم شاید ڈھونڈتے بہت ہو اور اپنی جستجو کی وجہ سے کچھ پا نہیں سکتے۔ جب کوئی آدمی ڈھونڈتا ہے تو ہوتا یہ ہے کہ اسے وہی چیز نظر آتی ہے جس کی اسے تلاش ہوتی ہے ۔،وہ اورکوئی چیز نہ پا سکتا ہے نہ اپنے آپ میں جذب کر سکتا ہے ،اس لئے کہ اس کے سامنے ایک ہی مقصد ہے ،اس لیئے کہ اس پر ایک منزل کی دھن سوار ہے، جستجو کے معنی ہیں ایک مقصد،مگر پا لینے سے مراد ہے آزاد ہونا اور نئی چیزیں قبول کرنے کے قابل ہونا ،کسی مقصد کا پابند نہ ہونا۔تو اے محترم ! تم واقعی متلاشی ہو،کیونکہ اپنے مقصد کی تلاش میں تم بہت سی ایسی چیزوں کو نہیں دیکھ پاتے جو بالکل تمہاری ناک کے نیچے ہیں۔ “سدھارتھ کے اس فلسفے کو آگے بڑھایا جائے تو انسان وہی دیکھتا ہے ،وہی محسوس کرتا ہے ،جو وہ سوچتا ہے ،جو وہ دیکھنا اور محسوس کرنا چاہتا ہے۔ وہ جس بھی راستے پر چلا جائے ،اسے من چاہی اور خود ساختہ منزل میسر آ جاتی ہے لیکن جونہی وارفتگی کے سحر سے باہر نکلتا ہے تو خو دکو ایک بار پھر کسی نئے گورکھ دھندے میں الجھا محسوس کرتا ہے۔ ان بھول بھلیوں میں کھو جانے کے بعد زندگی بھر بھٹکتے رہنے سے بہتر ہے کہ دنیا کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے قدرت کے تحفے اور نعمت کی حیثیت سے دیکھیں اور اپنی ذات سے نفرت کرنے کے غیر فطری جذبے کو ابھارنے کے بجائے اپنے آپ سے محبت کے فطری جذبے کو محسوس کریں۔ آپ کو اپنے آپ سے ،اپنی ذات سے محبت ہو گی تو آپ کسی اور محبت کر سکیں گے خواہ وہ محبت حقیقی ہویا مجازی۔

اپنے آپ سے محبت کرنا سیکھیں” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 13, 2015 at 11:13 PM
    Permalink

    سدھارتھ بے مقصد ذات کی پہچان کے لیے اندھے کنویں میں اتر گیا تھا ،مارکس سائنسی بنیادوں پر خدا کی نفی کر کے اپنی فطرت سے مجبور انسانیت کی آبیاری کے لیے زندگی وقف کر دی اور جدلیاتی سائنس کے حوالے سے اصل خدا کی حقیقت تک پہنچ گیا ،ماؤزے تنگ نے کہا مجھے نہیں پتا خدا ہے لیکن میرے اندر انسانیت کے لیے جان قربان کرنے کا جذبہ موجود ہے ،ایسے ہی انسانوں کو خدا آگہی عطا فرماتا ہے اور وہ علم تسخیر تعمیر کے مقاصد کی طرف نکل جاتے ہیں پھر حیرت انگیز مقام سے گزرتے ہیں ،جہاں ایسے انسانوں کو اس کی ذات سے قلبی اطمعنان ہوجاتا ہے ،جس مقام پر پہنچ کر ذات کی پہچان کی کوئی وقعت نہیں رہتی ،ایسی سلوک کی منازل سفر کا حصہ بنتی ہیں جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا اس کے باوجود ان سلوک کی منازل کے مظاہر کو کامل انسان غیر اہم سمجھ کر گزر جاتا ہے لیکن وہ غائب کے حقائق اس عالم کائنات کے مالک کی پہچان میں بڑا اہم رول ادا کرتے ہیں جس کے اندر بشر کے افضل منتخب ہونے کا راز پنہا ہے ،یہ حقائق بہترین معاملات والے انسانوں پر کھلتے ہیں جو حشرات الارض سے لےکر چرند پرند درند اور فطرت کے اندر نباتات اور پوری کائنات کے بارے میں یکساں اور نرم رویہ اختیار کرتے ہیں ،جس کے اندر انسان کا جاننا ہمدردی رکھنا تعمیر اور تسخیر کرنا شامل ہے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *