تحریک انصاف کا ’ دل ناتواں‘

asif mehmoodسونامی کی شوریدہ سر لہریں اب ساحل کی بھیگی ریت پر،کسی تھکے ہارے مچھیرے کی طرح ،پڑی ہیںاو ر ڈوبتی آواز میں ایک دوسرے کو دلاسہ دے رہی ہیں: مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا....
سارے اہتمام سے آپ میدان میں اترے،پوری رعونتوں سے آپ صف آراءہوئے، پورے اعتماد سے دھاندلی کی ڈفلی بجائی گئی، ساری حکمت سے ایک بھاری بھرکم تجوری کو چن کر میدان میں اتارا گیا، تجوری کے حجم پر اتنا ناز تھا کہ صاحب کو کپتان کا ’ خفیہ ہتھیار‘ کہا گیا، تمام تکبر کے ساتھ خود کو سونامی کی وہ بے اماں لہر قرار دیا گیا جو سب کو بہا لے جانے کو تیار تھی، پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا،سلطان راہی اور گبر سنگھ کی طرح آپ نے مخالفین کو للکارا،چودھری سرور سے لے کر جہانگیر ترین تک تحریک انصاف کے جملہ’ اثاثے‘ اپنے جاہ و حشم کے ساتھ میدان میں اترے.... پھر بھی شکست ہوئی لیکن اس شکست کے اسباب پر غور کرنے کی بجائے ارشاد ہوتا ہے۔ ” مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا“۔ اب سوال یہ ہے علیم خان اور ان کے ساتھ تحریک انصاف کی گردن میں طوق کی مانند ڈال دیے جانے والے ’ نومولود قائدین انقلاب‘ کیا ’ دلِ ناتواں ‘ تھے؟
خود فریبی کی بھی حد ہوتی ہے۔ کرکٹ کی زبان میںسیاست کرنے والوں کو اتنا بھی معلوم نہیں رہا کہ شکست صرف شکست ہوتی ہے اور فتح کم مارجن سے حاصل ہو تو نشہ دو آشتہ ہو جاتا ہے۔جاوید میانداد نے شرما کو آخری اوور میں چھکا مارا تھا ۔کیا اس پر خوشیاں مناتے کھلاڑیوں کے پاس کسی بھارتی کھلاڑی، کوچ یا کپتان نے آ کر کہا کہ یہ کون سی فتح ہے، ہمت تھی تو پچیسویں اوور میں میچ جیت کر دکھاتے؟’عمران خاں دے جلسے اچ نچنے‘ کو تو آپ کا بڑا دل کرتا تھا، شکست کے اسباب جاننے کو آپ کا دل نہیں کرتا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *