آمنہ مفتی کا ناول: آخری زمانہ

hasan Merajعبداللہ حسین کی ایک کتاب ہے ” نشیب“۔ اس کتاب کی دو خصوصیات ہیں، پہلی تو یہ کہ ’نشیب‘ عبداللہ حسین صاحب کی واحد کتاب ہے جو ان کے انتقال کے بعد نہ تو مارکیٹ سے غائب ہوئی اور نہ ہی مہنگی ہوئی اور دوسر ی یہ کہ اس میں شامل ہر افسانہ اور ناولٹ، زندگی کا ایک سبق ہے۔ اس تحریر کو صرف وقت کی تفسیر چاہئے۔ کتاب کے آخر میں ”واپسی کا سفر“ کے نام کا ناولٹ ہے.... اور شاید یہی آمنہ مفتی کے ناول کا حاصل وصول ہے۔
آج جب راجہ گدھ کو مارشل لاءکی عینک سے دےکھا جا رہا ہے اور پڑھنے والوں کی ایک کثیر تعداد، اس کتاب کی الہامی ےا سرکاری حےثیت کے بارے میں قیافے لگا رہی ہے، یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ ہمارے ہاں ادب میں سیاسی تاریخ کے بےانئے کا کھوج لگانے کی روایت پڑ گئی ہے۔
ملک بنا تو سب لوگ اپنے اپنے خواب لے کر یہاں آ گئے اور ان خوابوں کی تعبیر میں اپنا سب سرمایہ خرچ کر دےا، یہ سوچے سمجھے بغےر کہ ہر دو افراد کے خواب ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ”آخری زمانہ“ اس بربادی کا منظر نامہ ہے جو دکھائے گئے خوابوں اور پیدا کئے گئے حالات سے جنم لیتا ہے۔ یہ ایک ایسے اشرافیہ خاندان کی ہجرت کا تذکرہ ہے جو پاکستان پہنچے تو اس خیال سے اس ملک کی تعمیر کرنے لگے کہ یہاں ایک اسلامی طرز حکومت ہو گا۔ بد قسمتی سے اس طرز حکومت کی تعبیر، ان وقتوں میں جماعت اسلامی کے علاوہ کسی کے پاس نہیں تھی۔ ایک پوری نسل کے جوان ہونے تک، ڈھاکہ ساقط ہو چکا تھا۔ جمہورےت اور آمرےت کی تشریح اور اصطلاح، سمجھ میں آتے آتے مدرسے، درسگاہیں تو قرار پا چکے تھے مگر ان سے فارغ التحصیل لوگ معلم نہیں تھے، مجاہد تھے۔ پاکستان کو اسلامی معاشرہ بنانے والی نسل کے پاس اب سوائے اس خواب کے اور کچھ نہ بچا تھا کہ جہاد کے ذرےعے افغانستان کو آزاد کرواےا جائے گا۔ اس دوران دوسری پیڑھی، سول سروس اور فوج میں قدم رکھ چکی تھی۔ جس گھر سے پہلے جہاد کشمیر کے سلسلے جڑتے تھے، اب وہاں روشن خیالی کی تفہیم اور انتہاپسندی کے تدارک کی باتیں ہونے لگی۔ ہجرت کرنے والے میاں جی اور 80 کی دہائی میں پیدا ہونے والی ان کی نواسی ، البتہ ان دو انتہاﺅ کے گواہان سے کچھ بڑھ کر ہیں اور نمائندگان سے کچھ کم۔
البدر اور الہلال سے تحریک طالبان تک کا یہ سفر، آمنہ مفتی نے کسی اجتماعی سوچ کے زیر اثر نہیں، بلکہ عینی مشاہدے کے سہارے کیا ہے۔ ”آخری زمانہ “ پڑھنے کی چیز ہے اور اس سے زےادہ پڑھ کر سیکھنے کی چیز ہے کیونکہ یہ اداس نسلوں کے ان نادار لوگوں کی کہانی ہے جو راکھ سے تحریر ہوئی ہے....
نوٹ :
سن باون میں امریکہ میں ایک کہانی چھپی تھی SOUND OF THUNDER A ۔ رے براڈبری کی یہ کہانی ، اس وقت کے مقبول موضوع ، ٹائم مشین کے گرد گھومتی تھی۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ 2055 میں امریکیوں کا ایک گروہ ، کئی ہزار سال پیچھے جا کر کسی جانور کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ شکار کے لئے جانوروں کا انتخاب اس احتےاط سے کیا جاتا ہے کہ انہیں وےسے بھی کچھ گھڑےوں میں مر جانا ہو تا ہے سو ان کے شکار سے حالات کے دھارے پہ کچھ زےادہ فرق نہیں پڑتا۔ جب یہ لوگ اپنے منتخب کردہ وقت میں پہنچتے ہیں، تو ایک شکاری، طے شدہ جانور کی بجائے کسی اور جانور کو نشانہ بنا لےتا ہے۔ گروہ کا منتظم اعلیٰ اس شکاری پہ بہت برہم ہوتا ہے اور واپسی کا اعلان کر دےتا ہے۔ امریکیوں کا یہ گروہ جب واپس پہنچتا ہے تو انہیں عام بول چال کے الفاظ سے بودوباش کے روےوں تک کچھ بدلا بدلا محسوس ہوتا ہے۔ وقت کے اس سفر پہ جانے سے پہلے، عام انتخابات کا اعلان ہو چکا ہوتا ہے اور اعتدال پسند امیدوار کی کامےابی یقینی ہوتی ہے ، مگر جب یہ لوگ واپس پہنچتے ہیں تو ملک میں بنےاد پرست حکومت قائم ہو چکی ہوتی ہے۔ منتظم اعلیٰ سفر کی سب چیزوں کو غور سے دےکھتا ہے تو اسے جوتے پہ لگی گرد میں ایک روندی ہوئی تتلی بھی ملتی ہے۔
براڈبری کی کہانی آگے چلتی ہے مگر آمنہ کی کہانی تتلی کا کھوج لگا کر چپ چاپ بیٹھ جاتی ہے....

آمنہ مفتی کا ناول: آخری زمانہ” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 13, 2015 at 4:10 PM
    Permalink

    بہت خوب. مناسب ہوتا کہ کتاب کے ناشر کی بھی تفصیل دے دی جاتی تاکہ حصول میں آسانی ہوتی. مجھے ٹائم مشین والی کہانی یاد تھی مگر مصنف اور عنوان بھول چکا تھا.یاد دہانی کا شکریہ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *