سپریم کورٹ کا فیصلہ اور مکالمے کی ضرورت

اے ۔ ایم ۔رحمن

coverپاکستان سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کے مقدمہ کا فیصلہ کرتے وقت ایک ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو ملک عزیز کے وکلائ، ،ممبران اسمبلی،دانشورانِ قوم اور سول سوسائٹی کے لیے دعوت فکر ہے۔ ناموسِ رسالت کا معاملہ ایک نازک معاملہ ہے اور اس پر رائے زنی کرتے ہوئے یقیناً بہت احتیاط کی ضرورت ہے لیکن بد قسمتی سے اس معاملہ میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جس میں اہل علم کے مابین مکالمہ کے راستے بھی مسدود ہو گئے ہیں۔حقیقت کی جستجو ہرصحت مند معاشرے کا دستور العمل ہونا چاہیے۔مکالمہ بند ہو، مغالطے پروان چڑھتے ہیں اور کم علمی کے باعث تشدد کے راسطے کھل جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں توہینِ رسالت کے بارہ میں نافذ العمل تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295Cہے۔جس کی رو سے توہینِ رسالت کی واحد اور لازمی سزا موت ہے۔گزشتہ تین دہائیوں سے عامةالناس میں یہ تاثر راسخ ہو گیا ہے کہ توہین رسالت کے لئے سزائے موت پر آئمہ دین اور فقہا کا مکمل اجماع ہے ، اور اس بارہ میں دوسری رائے کی کوئی گنجائش نہیں۔اور اجماع سے انحراف خود توہین رسالت کے مترادف ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر عامة الناس تو کیا اہل علم بھی اپنی رائے کے اظہارِ کو خطرے سے خالی نہیں سمجھتے۔گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر کو اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ اس قانون میں کوئی ترمیم یا تبدیلی چاہتے تھے۔گویا زیر بحث توہین رسالت یا اسلامی قانون نہیں تھا۔ زیر بحث نکتہ یہ تھا کہ آیاپارلیمنٹ کا منظور کردہ قانون دفعہ 295Cشریعت کے تقاضوں کے مطابق ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلہ میں یہ قرار دیا ہے کہ:
”پارلیمنٹ کے منظور کردہ کسی قانون پر تنقید کرنا جرم نہیں کیونکہ وہ عوامی نمائندوں کا بنایا ہوا قانون ہے ۔“
وکلاءاور ممبرانِ اسمبلی جانتے ہیں کہ295Cتعزیراتِ پاکستان جب قومی اسمبلی میں منظور کی گئی تو اس میں سزائے موت کے ساتھ متبادل سزاعمر قید بھی قرار دی گئی تھی۔پاکستان بار کے ایک معزز رکن محمد اسماعیل قریشی نے اس قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا تھا اور وفاقی شرعی عدالت نے عمر قید کی سزا کو خلافِ شریعت قرار دے کرکالعدم قرار دیا تھا اور قانونی ضابطے کے مطابق تعزیراتِ پاکستان میں ترمیم کر کے عمر قید کی سزا کو حذف کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی۔تین مہینے گزرنے کے بعد یہ حصہ خود بخود کالعدم ہوگیا۔اور یوں توہینِ رسالت کی واحد سزا موت ہی ہے۔(PLD 1991 FSC 10)
بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ (i)پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بعض مذہبی حلقوں نے بھی سزائے موت سے اتفاق نہیں کیا تھا اور (ii)موجودہ قانون اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات سے بھی متصادم ہے۔ اس کے علاوہ(iii) متعدد جید علماءنے وفاقی شرعی عدالت میں بھی آئمہ فقہا کے اقوال پیش کئے تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ واحد سزا موت ہونے پر مکمل اجماع کبھی نہیںہوا۔ متبادل سزا بھی بعض آئمہ فقہا نے جائز قرار دی تھی۔ (iv)اور خود وفاقی شرعی عدالت نے گو اکثریتی رجحان کے مطابق سزائے موت کو ہی واحد سزا قرار دیا مگرقانون میں بعض وضاحتوں اور اضافوں کی سفارش بھی کی تھی جو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295C میں شامل نہیں کی گئیں۔اور یوں یہ قانون کم از کم چار پہلو¿وں سے نظرِ ثانی کا محتاج تھا۔ جس کے راستے بند کر دئے گئے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ:
اسلامی نظریاتی کونسل نے یکم جنوری 1984ءکے اجلاس میں جو مسودہ تجویز کیا تھا۔اس کی رو سے سفارش یہ تھی:
’جو کوئی شخص دانستہ ایسا کلام یا ایسی حرکت کرے گاجو بالواسطہ یا بلا واسطہ آنحضرت ﷺکی شان کے بارے میں اہانت آمیز ہو یا اہانت کی طرف مائل ہو یا سوئے ادبی ظاہر کرتی ہو، مستوجب سزائے موت ہوگا۔ الا یہ ثابت کرنا کہ اس کی طرف سے دانستہ ایسی حرکت نہیں کی گئی یا کلام نہیں کیا گیا،اس کا بار ثبوت ملزم پر ہوگا۔‘
گویا اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش میں اس جرم کو کو نیت سے وابستہ کیا گیا ہے یعنی کوئی شخص جو دانستہ ایسا کلام یا حرکت کرے وہ مستوجب سزا قرار دی گئی ہے۔پاکستان کے موجودہ قانون 295Cمیںنیت یا عمد کا یہ عنصر شامل نہیںکیا گیا۔ نظریاتی کونسل کی سفارش میں اس بات کا بارِ ثبوت ملزم پر رکھا گیا تھا کہ وہ ثابت کرے کہ اس کی طرف سے دانستہ کوئی ایسی حرکت یا کلام نہیں کیا گیا۔ اور یوں ملزم کو صفائی کا موقع دیا گیا تھا یہ گنجائش بھی 295C میں نہیں ۔ اور یوں موجودہ قانون اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے سے متصادم ہے۔
جناب اسماعیل قریشی اس ساری جدو جہد کے روحِ رواں تھے انہوں نے وفاقی شرعی عدالت میں بڑی تندہی سے پیروی کی اور وفاقی شرعی عدالت کی کارروائی کو اپنی کتاب ”ناموس ِرسولﷺاور قانونِ توہین رسالت“ میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ درج کر دیاہے۔اپنی کتاب کے صفحہ46میں لکھتے ہیں:
’اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت یکم اپریل 1987ءکو شروع ہوئی،جس میں تمام مکاتب فکر کے علماءکو بھی معاونت کی دعوت دی گئی۔بعض علماءکا خیال تھا کہ یہ قابل معافی جرم ہے اور بعض نے یہ بھی کہا کہ حاکم وقت سزائے موت سے کمتر سزا بھی دینے کا مجاز ہے۔‘
فیڈرل شریعت کورٹ نے بھی عدالت میں پیش ہونے والے مختلف مکاتبِ فکر کے علماءکی فہرست اپنے فیصلہ میں درج کی ہے جو درج ذیل ہے۔
مولانا سبحان محمود، مولانا مفتی غلام سرور قادری، مولانا حافظ صلاح الدین، مولانا محمد عبدالفلاح، مولانا سید عبدالشکور، مولانا فضل ہادی اور مولانا سعید الدین شیرانی
عدالت نے فیصلہ کے ابتدائی حصہ میں ان علماءکے مو¿قف کا جائزہ پیش کیا ہے۔ جس میں عدالت نے یہ لکھا: ”مولانا شیر کوٹی کے سوا تمام حضرات نے سائل کے موقف کی تائید کی کہ اس جرم کی سزا صرف سزائے موت ہے۔لیکن مولانا سبحان محمود، مولانا مفتی غلام سرور قادری اور مولانا حافظ صلاح الدین یوسف کی رائے میں اگر مجرم توبہ کرلے تو سزا موقوف کر دی جائے گی۔ تاہم مولانا سعید الدین شیر کوٹی نے کہا کہ کم تر سزا بھی دی جا سکتی ہے۔“
عدالت نے مولانا یوسف صلاح الدین کی رائے اختصار کے ساتھ بیان کی ہے مگر ان کی تحریری بحث کا ایک حصہ جو فیصلہ کے متن میںشامل نہیں کیا گیا، قابل توجہ ہے، جناب اسماعیل قریشی نے ان کی رائے جو عدالت کے ریکارڈ کا حصہ ہے اپنی کتاب میں درج کی ہے ، جو یوں ہے:
”مولانا حافظ یوسف صلاح الدین،جو جماعت اہل حدیث کے محقق عالم ہیں،کا پہلی شریعت پٹیشن میں موقف تھا کہ شاتم رسول کا جرم ناقابل معافی ہے، لیکن بعد میں انہوں نے دوسرے یعنی موجودہ مقدمہ کی پٹیشن کے دوران بحث اپنے پہلے موقف سے رجوع کرتے ہوئے جرم مذکور کو قابل معافی بتلایا،جبکہ مولانا مفتی غلام سرور قادری شاتم رسول کو ارتداد کی بنا پر واجب القتل توسمجھتے تھے، لیکن اسے قابل معافی جرم بھی قرار دیتے تھے۔“
مولانا یوسف صلاح الدین نے شاتم رسولﷺ کی سزائے موت کے بارہ میں قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں جو تحریری بحث داخل کیاس میںمنجملہ یہ بھی تحریرکیا :
”جہاں تک اس مسئلے میں مذاہب کے اختلاف کا معاملہ ہے،اس سلسلے میں عرض ہے کہ جمہور کا مسلک تو وہی ہے جس کا اثبات ابن تیمیہ نے ’الصارم المسلول‘ میں کیا ہے، تاہم اس میں کچھ اختلاف بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگرچہ راقم نے بھی اپنے مقالے میں اول الذکر نقطہ نظر کو زیادہ اہمیت دی ہے لیکن کل کی بحث سن کر احساس ہوا کہ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ اسے بھی بیان کیا جائے کیونکہ اس دوسرے نقطہ نظر کا تقریباً انکار کر دیا گیا ہے۔
یہ اختلاف فقہائے احناف کا ہے،جن کا مذہب یہ ہے کہ سبّ رسول کا مرتکب اگر مسلمان ہے تو اس توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اگر ذمی ہے تو اس قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ سبّ رسولﷺ سے نقض عہد نہیں ہوگا۔“
صفحہ 222 پر لکھتے ہیں:
”اس باب سے امام بخاری سمیت فقہائے احناف نے یہ استدلال کیا کہ سبّ ِ رسول اگر صراحتاً نہیں تعریضاً ہے، تو اس کا مرتکب واجب القتل نہیں“۔
یہ مسلک دلائل کی رو سے کیسا ہے؟ اس پر بحث کی جا سکتی ہے ،لیکن اس کا انکار علمی دیانت کے منافی ہے یہ تو تھا فقہائے احناف کا اختلاف،اس کے علاوہ دیگر ائمہ کے مابین بھی اس میں کچھ اختلاف ہے۔
وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ کے پیراگراف 48 میں لکھا: ”مندرجہ بالا بحث سے واضح ہے کہ شریعت کسی جرم کو صرف اس وقت قابل حد تسلیم کرتی ہے جب اس کے ساتھ واضح نیت موجود ہو۔ شریعت سزائے حد موقوف کر دیتی ہے۔ اگر اس امر میں کوئی شک ہو کیونکہ شبہات حد کو زائل کر دیتے ہیں۔“
اور پیراگراف 59 میں لکھا : ” تاہم بعض فقہاکی رائے ہے کہ اگر اہانت رسول پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم واضح اور صریح الفاظ میں ہے تو شاتم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس کی نیت کیا تھی لیکن اگر الفاظ ایسے ہیں جو مختلف معنی اور مفہوم رکھتے ہیں یا اس امر کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں سے صرف ایک مفہوم توہین کا حامل ہے تو اس سے اس کی نیت دریافت کی جائے گی۔(الشفائ‘ قاضی عیاض ”جلد دوم ص 122)
اور پیراگراف 60 میں لکھا ، ”تا ہم ہمیں اس سے اتفاق نہیں ۔ اولاً الفاظ کے معنی و مفہوم موقع محل سے بدل جاتے ہیں‘ سیاق و سباق بھی مختلف معنی ظاہر کر سکتا ہے‘ لہٰذا ملزم کو وضاحت کا موقع دینا چاہئے‘ تا کہ کہیں کوئی معصوم شخص سزا نہ پا جائے۔ ایک روایت ہے کہ رسول پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” ایک مجرم کو بری کر دینے کی غلطی ایک معصوم کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے“۔ (سنن البیہقی‘ جلد ہشتم‘ ص 184 ) قرآن بھی ہر ملزم کو حق دیتا ہے کہ اسے سنا جائے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ گو اﷲ قادر مطلق جانتا ہے کہ جو کچھ امین فرشتوں نے ایک شخص کے اعمال نامہ میں اس کے اس دنیا کے اعمال کے بارے میں لکھا ہے‘ صحیح و غیر مشکوک ہے‘ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص کو سنا جائے گا اور اگر اسے فرشتوں کے لکھے پر اعتراض ہے تو اﷲ شہادت طلب کرے گا ‘ اس کے اپنے ہاتھوں‘ پیروں‘ آنکھوں اور کانوں سے۔ ملاحظہ ہو القرآن‘ آیات 13:17‘14 - 67 -65:36 : 20‘ 22 - 93:16 اور 23:21 - ان سنن سے ‘ جن کا حوالہ پیرا 36‘ 41 میں دیا گیا ہے‘ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم کا حق وضاحت وصفائی موجود ہے‘ جسے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس کے بعد ہی عدالت فیصلہ کر سکتی ہے کہ کہے گئے الفاظ تہمت کی غرض سے تھے یا وہ بد خواہی اور کستاخی سے استعمال ہوئے تھے یا غیر ارادی طور پر منہ سے نکل گئے تھے۔
پھر پیراگراف 62 میں لکھا: ”ایک حنفی فقیہ علامہ محی الدین لکھتے ہیں : ’فقہا کی رائے ہے کہ رسول پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے معاملات میں حاکم یا جج کو موقع محل اور شاتم کا عام رویہ معاملہ کا فیصلہ کرنے سے پہلے دیکھ لینا چاہئے‘۔ (الاحکام المرتد‘ نعمان عبدالرازق سمرقی‘ ص109)
الغرض یہ بات ظاہر ہے کہ خود وفاقی شرعی عدالت میں اختلافی آراءپیش کی گئیں اور فقہ حنفیہ کے مطابق سزائے موت لازمی سزا نہیں ہے اور پاکستان میں اکثریت فقہ حنفیہ کے مسلک پر ہے۔لہٰذا اس مسئلہ پر مکالمہ جاری رہنا ہی قرین انصاف ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ قرار دیا کہ قانون کی صحت یا عدم صحت کے بارہ میں سوال اٹھانا اور بحث کرنا جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایک اور بات جس سے عامة الناس واقف نہیں، وہ یہ ہے کہ شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف حکومتِ پاکستان کی طرف سے اپیل بھی داخل کی گئی تھی۔ جیسا کہ جناب اسماعیل قریشی صاحب پوری دیانتداری سے یہ بات بھی ریکارڈ پر لائے ہیں کہ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو یہ اپیل واپس لینے پر مجبور کیا تھا۔چنانچہ اپنی کتاب کے صفحہ448 پر لکھتے ہیں:
”اس فیصلہ کے بعد،پھر ایک عجیب مرحلہ پیش آیا۔فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت نے جو نفاذ اسلام اور قرآن و سنت کے قانون کی بالا دستی کا منشور دے کر بر سر اقتدار آئی تھی،سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی اور راقم الحروف کے نام وفاقی حکومت کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی کا نوٹس بھی موصول ہو گیا.... اور پھر یہ حکومت غضب الہی کا شکا ر ہوئی۔خدا کا شکر ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے اس انتباہ پر بر سر عام اعلان کیا کہ اس اپیل کا انہیں قطعی علم نہیں تھا، ورنہ ایسی غلطی کبھی سرزد نہ ہوتی اور اس جرم کی سزائے موت بھی کم تر سزا ہے۔اس لیے یہ اپیل سپریم کورٹ سے فوری طور پر واپس لے لی گئی۔“
گویا یہ تمام امور اس بات کے متقاضی ہیں کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295Cپر شرح و بسط کے ساتھ مکالمہ کا آغاز ہونا چاہیے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ شریعت کورٹ کی آخری رائے کے بارہ میں تمام امور اپیل میں زیر غور آسکتے تھے اور اپیل کو دبا¶ کی وجہ سے واپس لے لیا گیا جو ایک معروف طریق کسی رائے کے بارہ میں بحث کرنے کا موجود ہے، وہ راستہ بند کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے حالیہ قابل تحسین فیصلہ کی روشنی میں یہ مکالمہ ضروری ہوگیا ہے اور قانون میں کسی سقم کی نشاندہی یا کسی تبدیلی پر غور زبردستی نہیں روکا جا سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *