جنرل مشرف نے کچھ نہیں سیکھا

zeeshan hashimپچیس اکتوبر 2015 ، سابق فوجی آمر جنرل مشرف ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ طالبان ، اسامہ بن لادن ، حقانی ، حافظ سعید ، اور دیگر شدت پسند ہمارے ہیرو تھے ..انہیں ہم نے تربیت دی اور یہ کشمیر و افغانستان میں ہمارے کام آئے - یہ ہمارے ہیرو کیسے اور کیونکر ہیں تو اس کے جواب میں فرمایا گیا، کیونکہ وہ کشمیر و افغانستان میں جا کر لڑتے تھے اور اپنی جان قربان کیا کرتے تھے - اب ویلن کیسے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ تھا کہ اب وہ پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں اور یہاں کے لوگوں کو مارتے ہیں اس لئے یہ ویلن ہیں - مطلب یہ کہ ہماری فارن پالیسی اور قومی بیانیہ کا یہ اصول رہا ہے کہ جو دوسرے ملکوں میں جا کر وہاں کے لوگوں کو مارے ، وہ ہیرو ہے اور جو اپنے ملک میں اپنے لوگوں کا قتل کرے ، وہ ویلن ہے - مگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں کنفیوژن بدستور موجود ہے جس کا اظہار جنرل مشرف کے ان الفاظ سے ہوتا ہے ، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حافظ سعید و لکھوی کو بند کر دینا چاہئے تو انہوں نے جواب دیا ،، نو کمنٹ آن دیٹ .. یاد رہے کہ "نو کمنٹ آن دیٹ" کی کنفیوزڈ پالیسی ابھی تک بعد از مشرف کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بھی جاری رکھی ہوئی ہے -
دلچسپ بات یہ کہ جنرل مشرف انہیں کنٹرول کرنے کی بات کرتے رہے بالکل مٹا دینے کی نہیں - اور یہی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی رائج پالیسی ہے کہ ان کو کنٹرول کرکے پہلے کی طرح انہیں داخلہ و خارجہ پالیسی میں "نامعلوم افراد" کی شکل میں استعمال کیا جائے- کنٹرول کرنے کا مطلب شاید یہ ہے کہ سرکاری تنصیبات پر حملے نہ ہوں اور شدت پسند کاروائیاں بڑے شہروں میں نہ ہونے پائیں - مگر اس بات کو فراموش کر دیا گیا ہے کہ چند مخصوص تنظیموں پر ریاستی سرپرستی نے سماج کے رواداری ، تحمل ، برداشت ، باہمی تعاون اور مکالمہ کے تمدن کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے - جب کوئی سماج آزاد فطری اصولوں کی بجائے اجارہ داری اور پیوستہ مفادات کی طاقتوں کے قبضہ میں ہوتا ہے تو نتیجتاً اس کی پیداواری صلاحیتیں کمزور ہوتی جاتی ہیں جن کا انجام سماج کی مکمل تباہی ہوتا ہے - جس کسی کو سوسائٹی کا یہ اصول سمجھ نہ آئے وہ تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کی داستانوں میں یہ اسباق بخوبی سمجھ سکتا ہے-
گزشتہ تین ماہ سے فاٹا میں امن کمیٹیوں کے عمائدین کو منظم ٹارگٹ کلنگ سے شہید کیا جا رہا ہے- خیبر پختون خواہ میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے - حالیہ دنوں میں دو بڑے دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں - ان حالات میں یہ سمجھنا کہ ضرب عضب کے تمام اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں ذہنی و عملی ناپختگی کی علامت ہے - حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کے پیداواری مراکز بدستور موجود ہیں - ہمارے معاشرے میں ان کے سلیپنگ سیلز ابھی قائم ہیں اور کام کر رہے ہیں - مذہبی فرقہ وارانہ جذبات میں کوئی کمی نہیں آئی ، ان طبقات نے فی الحال خاموشی اختیار کی ہوئی ہے مگر یہ اپنے کرتوتوں سے تائب نہیں ہوئے- اگر ان شدت پسندوں کو دوبارہ کھلا چھوڑ دیا گیا تو نتیجہ میں فسادات و تباہی کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا-
آخر ہم دنیا سے سیکھنے کے منکر کیوں ہیں ؟ دنیا میں ہمیں عزت و وقار ہمارے شہریوں کی خوشحالی ، امن اور پیداواری قابلیتوں سے حاصل ہو گا- عسکری عزائم پر مبنی داخلہ و خارجہ پالیسی ہمیں بیرونی دنیا میں بھی شرمندہ کرتی رہے گی اور اندرون ملک ہمارے شہری غربت و افلاس کے عفریت کا شکار ہوتے رہیں گے - کسی بھی ملک و قوم کا نصب العین توسیع پسند عسکری عزائم نہیں ہو سکتے بلکہ اجتماعیت کا مطلب و مقصد سماج کی خوشحالی سے جڑا ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *