ہاتھ چھوٹیں بھی تو رستے نہیں چھوڑا کرتے

اعجاز اعوان

ejaz awanہارون الرشید لکھتے ہیں کہ عمران خان اچھے کھانے کا انتہائی شوقین ہے اور جب کھانا لگ جائے تو محفل میں ہر کسی سے بے خبر ھو کر کھانا کھانے میں مگن ہو جاتا ہے۔ خود انوائٹ کئے ھوئے مہمان تک کو صلح نہیں مارتا۔ مہمان دیکھتے رھتے ھیں اور خان صاحب نہایت رغبت سے کھانا کھا رہے ہوتے ہیں ۔ ہارون الرشید بتاتے ھیں کہ انہوں نے اس کا حل یہ تلاش کیا کہ عمران کے گھر پر کھانا لگتے ہی وہ بھی بلاوے کا انتظار کئے بغیر پلیٹ اٹھاتے ہیں اور کھانا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ یہ ایک عجب سا طرز عمل ہے عمران خان کا۔ پٹھان لوگ بہت مہمان نواز سمجھے جاتے ہیں۔ وہ خود کھانے سے زیادہ دوسروں کو کھانا کھلانے میں دلچسپی رکھتے ھیں لیکن عمران خان کے رنگ ڈھنگ ھی نرالے ھیں۔ جہاں تک میں سمجھ پایا ھوں عمران خان بنیادی طور پر ایک شکاری فطرت کے مالک ھیں۔ شکاری عموماً اپنا شکار خود کرنے اور خود ھی کھانے کا عادی ھوتا ھے۔ کہ اس شکار میں اس کی کافی محنت لگی ھوتی ھے۔ ہمارے کئی دوست مچھلی کے بہت عمدہ شکاری ھیں۔ سیروں مچھلی شکار کر کے لاتے ھیں مگر مجال ھے جو ایک ٹکڑا چکھا دیں۔ جب بھی فرمائش کی جواب یہی ملا کہ بھئی ساتھ آ جاو۔ پانی میں اترو۔ پھر ھی مچھلی مل سکتی ھے۔ شکاری کی ایک اور فطرت تنہائی پسند ھونا بھی ھے۔ شکار کے دوران بہت فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ ساتھی ایک دوسرے سے بچھڑ بھی جاتے ھیں۔ شکاری کو یہ تنہائی بہت بھاتی ہے۔ ایسے لوگ محفل میں رہ کر بھی تنہا سے محسوس ہوتے ھیں۔ لوگ بھی سمجھتے ھیں کہ یہ بہت شرمیلے ھیں۔ عمران خان بھی ہمیشہ سے شرمیلے رہے ہیں ۔ لیکن ان کے چہزے سے یونانی دیوتاوں جیسا حسن چھلکتا ہے تو اس لئے دیویاں پروانوں کی طرح ان کے گرد منڈلاتی رھی ھیں۔ جوانی کی ابتدا ھی میں برطانیہ جیسے کھلے ڈلے ملک میں چلے گئے۔ تربیت اچھی ھوئی تھی۔ بات کرنے کے آداب سے بھی واقف تھے۔ وجاھت بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی تھی بہت جلد برطانیہ کے اعلیٰ طبقوں میں متعارف ھو گئے۔ پھر کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے تو شہرت کو چار چاند لگ گئے جہاں گئے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ اور اس وقت تو ان کی شہرت کو چار چاند لگ گئے جب 79،80 میں کرکٹ سیریز کھیلنے عمران خان بھارت گئے تو بالی ووڈ کی سپر سٹار حسینہ زینت امان سے ان کی دوستی کے چرچے ہر سو پھیل گئے۔ کئی ہفتوں تک اخبارات ان کی دوستی کی گرما گرم خبریں شائع کرتے رھے۔ اس کے بعد بھی کئی قصے عمران کے ماضی کا حصہ بنے جن سے دوست بخوبی واقف ھیں۔ جمائما خان نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی کہ ان کی شادی قائم رھے۔ بچے بھی پیدا ھوئے۔ پاکستان میں رھنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن تنہائی جمائما خان کا مقدر بنی۔ وہ بہت جلد اس تنہائی اور عمران خان کی بیگانگی سے اکتا گئیں۔۔ اور بہت جلد اپنے وطن کو سدھار گئیں لیکن نہیں بدلےتو عمران خان نہیں بدلے۔۔۔ سیاست میں وہ کچھ زیادہ کامیاب نہیں ھوئے۔۔ کبھی ایک آمر کے ساتھ چلے اور کبھی وہ دہشت گردوں میں سے دوست تلاش کرتے رہے۔ جب سارا پاکستان دھشت گردوں کے خود کش حملوں سے تنگ آیا ھوا تھا تو خان صاحب نے ان دھشت گردوں کی تعریف کر ڈالی اور طالبان خان کا لقب پایا۔ لیکن پاکستانی عوام بھی کیا کریں ان کے پاس چوائس کے لئے کچھ زیادہ پارٹیز باقی نہیں بچیں۔ تو عمران خان خوش قسمت ھیں کہ وہ سیکنڈ بیسٹ چوائس بن کر سامنے آئے۔۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو ریحام خان جیسی خاتون سے شادی کا موقع ملا۔ ایک ایسی خاتون جس کی بہت جلد شادی ھو گئی۔ پھر طلاق کے بعد انہیں برطانیہ میں رہ کر جاب کے ساتھ ساتھ بچے بھی پالنا پڑے۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ شوبز میں رہ کر گھر چلانا آسان نہیں ھوتا۔ وہ اس میں بھی کامیاب رھیں۔ ہو سکتا ھے عمران خان کے ساتھ شادی میں ان کی یہ حسرت بھی رھی ھو کہ وہ سیاست کے میدان میں عمران خان کے ساتھ شانہ بشانہ چلیں گی۔ ان کی یہ خواہش کچھ بے جا بھی نہ تھی۔ وہ ایک معاملہ فہم خاتون ھیں اور ان کی پی ٹی آئی میں شمولیت پی ٹی آئی اور عمران خان دونوں کے لئے بہتر ثابت ھو سکتی تھی لیکن عمران خان کی فطرت میں نہیں کہ وہ کسی کے ساتھ زیادہ دیر تک چل سکیں۔ ان کی فطرت میں آمریت کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی ھے۔ وہ کسی کا ساتھ نہیں نبھا سکتے۔ نہ ھی کسی کو ایک حد سے زیادہ اپنے قریب آنے دے سکتے ھیں۔ ٹکٹ بانٹنے کا معاملہ ہو تو وہ اپنے قریبی کزنز تک کو نظر انداز کر دیتے ھیں۔ اپنے سے قریب دوستوں کے مشوروں تک کو نظر انداز کرتے ہیں۔ شادی کا جنون ھوا تو ہمیشہ ساتھ نبھانے والی بہنوں تک سے دور ھو گئے۔۔ اب علیحدگی کا جنون ھوا تو پھر بھی کسی مصلحت کو سامنے نہیں رکھا اور جو جی چاہا کر ڈالا۔۔۔ یہ ایک ناکام آدمی کی کہانی ہے جس کو قدرت نے اچھے دوست دیئے۔ دو بار شادی کرنے کے مواقع ملے۔ سیاست میں آئے تو ایک وسیع کھلا میدان ملا۔۔ لیکن اس آدمی نے یہ سب کچھ کھو دیا۔ افسوس۔ آج ایک افسوسناک دن ھے۔ لیکن اس میں ایک سبق بھی ھے۔

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رستے نہیں چھوڑا کرتے” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 1, 2015 at 8:28 PM
    Permalink

    اعجاز اعوان کی پہلی تحریر دیکھنے کو ملی، اچھا لگا، انہیں لکھتے رہنا چاہیے، رہا یہ بلاگ تو اس میں کچھ سے اتفاق ہے ، کچھ سے نہیں، مگر چلیں دنیا پاکستان نے اعوان صاحب کو لکھنے پر آمادہ تو کیا.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *