جامعہ کراچی میں طالبات پر تشدد : نامہ نگار ’من گھڑت ‘کی روداد

Pakistan_Womens_Cricket_Teamچند دن قبل جامعہ کراچی کے شعبہ بائیو کیمسٹری اور کامرس کی طالبات گھر جانے کے لئے یونی بس کے انتطار میں کھڑی تھیں، وقت گزاری کے لئے انہوں نے وہاں موجود لڑکوں سے گیند بلا لیا اور کرکٹ کھیلنا شروع کردی۔ اسلامی جمیعت طلبہ کے غیور مجاہدین نے جب دیکھا کہ بے پردہ لڑکیاں سر عام کرکٹ کھیل کر اسلام، شریعت اور جبر و استبداد کی جنگ کا کھلم کھلا مذاق اڑا رہی ہیں تو انہوں نے کرکٹ کھیلتی طالبات کو انتہائی نرمی اور شائستگی سے فحش گالیاں دیتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن مغرب کی دلدادہ بے پردہ لڑکیاں کب کسی کی سنتی ہیں۔ انہوں نے جوابی دھلائی کردی، اسی اثنا میں وہاں موجود فرنگی تہذیب کے دلدادہ بے حیا لڑکے بھی معاملے میں کود پڑے۔ جس کے بعد انتہائی مجبوری کے عالم میں ایک مجاہد نے نعرہ حق بلند کرتے ہوئے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لڑکی سے بلا چھینا اور اسی بلے سے لڑکیوں کی پٹائی شروع کردی۔ اس موقع پر چند لڑکوں نے ہیرو بنتے ہوئے لڑکیوں کو بچانے کے لئے دمیان میں آنے کی کوشش کی لیکن آفرین ہے جمیعت کے مجاہدین پر، وہ چار بے پردہ لڑکیوں اور نہتے صف شکن مجاہد کی لڑائی میں دوسرے لڑکوں کے سامنے آہنی دیوار بن گئے اور ان کی بھی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کردی۔
شریعت کا نفاذ ہوتے دیکھ کر کسی دل جلے نے رینجرز کو فون کردیا اور میجر علی نام کے ایک افسر ہمراہ موٹی توندوں والے کمانڈوز کے چاک و چوبند دستوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ طالبات کی نشاندہی پر جمیعت کے چار مجاہدین کو حراست میں لیا اور ساتھ لے گئے۔ جیسا کہ باطل کے مقابلے میں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے تو محض ایک گھنٹے کے بعد ہی چاروں مجاہد، مجاہدین کے باقی جتھے کے ساتھ آن ملے اور شریعت اور اسلام کے کامیاب نفاذ پر قہقہے لگاتے رہے۔
جامعہ کراچی کی بے پردہ طالبات کی حمایت میں بہت سے لونڈے لمڈے کود پڑے اور فیشنی لڑکیوں کو ساتھ لے کر احتجاج شروع کردیا، جمعیت کے مرد حق اور جامعہ کراچی کے سیکرٹری اطلاعات ساجد خان نے اس موقعے پر منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں اور مطالبہ کیا کہ اگر جمعیت کے مجاہدین نے کسی لڑکی کے ساتھ مار پیٹ کی ہے تو وہ اپنی ضربوں کے نشان سب کو دکھا کر ثبوت دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی یہی پالیسی ہے کہ اگر ہماری کسی ماں بہن یا بیٹی کو کوئی مرد تشدد کا نشانہ بنائے تو اسے برہنہ ہو کر اپنا بدن پر مارپیٹ کے نشان سب کو دکھانا پڑتے ہیں۔ساجد خان کے اس دوٹوک مطالبے کے بعد جھوٹا پراپیگنڈہ دم توڑ جانا چاہئے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں اور احتجاج روز بروز شدت پکڑتا گیا۔
احتجاج ایک ہفتہ سے جاری ہے اور دجالی میڈیا بھی ان بے پردہ طالبات کے ساتھ ہونے والے من گھڑت اور فرضی واقعے کی کوریج کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں اس وقت شامل ہوگیا جب ایم کیو ایم کی ذیلی تنظیم اے پی ایم ایس او کے کالے کلوٹے سوکھی ٹانگوں والے پتلون شدہ مہاجر بھی اس احتجاج میں طالبات کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔
”آ ج متحدہ والوں کی شہ پر جامعہ کراچی کی بے پردہ ، فیشنی لڑکیاں دن بھر کرکٹ کھیلتی رہی اور جمیعت کے مجاہدین ہاسٹل میں اپنے بیڈ کے نیچے دبکے مزے سے آرام کرتے رہے۔جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق نے نمائندہ من گھڑت کو اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عورتوں پر تشدد کے سخت خلاف ہے ہم توخود دیر اور چترال میں لڑکیوں کے فلڈ نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کرواتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خود گھر میں دوسری بار سالن نہیں ملتا۔ انکی جماعت کے لڑکے کیسے لڑکیوں پر تشدد کرسکتے ہیں۔“
جمیعت کے سیکرٹری اطلاعات ساجد خان کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی میں فرنگی تہذیب کے زیر اثر جس طرح سے بے حیائی کو فروغ دیا جارہا ہے اگر جمیعت نہ ہوتی تو ہر لڑکی دو سال بعد یہاں سے ڈگری کے ساتھ ایک بچہ لے کر نکلتی۔ ساجد خان نے تحریک انصاف کے کراچی کے برگر بھائیوں اور پیسٹری بہنوں کا شکریہ ادا کیا کہ جس طرح سے وہ ایک ہفتے سے واقعے کے خلاف دم دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں، اس سے ثابت ہوگیا کہ انصافی اور جماعتی ایک ہی طالبان کی اولاد ہیں۔ساجد خان نے رینجرز کو بھی دھنے وادبولا کہ جنہوں نے چند گھنٹوں بعد ہی ان کے مجاہدین کو رہا کرکے انہیں جبر و استبداد کی جنگ جاری رکھنے کی اجازت دی۔ جامعہ کراچی کی انتظامیہ سے جب نمائندہ ’من گھڑت‘ کی بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی ایان علی کو یونیورسٹی بلانے پر دو لڑکوں کو تاحیات بین کرچکے ہیں۔ اب اگر جامعہ کراچی میں کسی لڑکی کی آبرو بھی لوٹ لی جائے تو وہ کچھ کرنے سے قاصرہیں۔
جامعہ کراچی کے ایک طالب علم نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ لڑکیوں کو بلے سے پیٹنے کا واقعہ اصل میں ایم کیو ایم کے لڑکوں کی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے خلاف سازش تھی جس کی ہدایت لندن سے الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے ممبر حیدر عباس رضوی کو دی تھی۔ اس حوالے سے اگر صحیح رخ پر تفتیش کی جائے تو مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔

جامعہ کراچی میں طالبات پر تشدد : نامہ نگار ’من گھڑت ‘کی روداد” پر بصرے

  • نومبر 4, 2015 at 12:35 AM
    Permalink

    ماشاءاللہ، کیا اعلی زبان ہے۔ دنیا پاکستان پر اب اس معیار کی تحاریر بھی آیا کریں گی؟

    Reply
  • نومبر 4, 2015 at 11:28 PM
    Permalink

    good piece of writing Mr Abu Aleha .... keep it up and

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *