کائنات میں مادے کی بجائے ضدِ مادہ کم کیوں؟

crab-nebula-nasa3طبیعات دانوں نے سائنس کے اہم ترین اسرار میں سے ایک پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور وہ یہ ہے کہ کائنات میں مادے (میٹر) کی بجائے ضدمادہ (اینٹی میٹر) کیوں کم مقدار میں پایا جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے پہلی بار ان قوتوں کی پیمائش کی ہے جو ضدمادہ کے ذرات کو آپس میں جوڑ کر رکھتی ہیں۔ ضدمادہ روزمرہ زندگی میں ہمارے سامنے آنے والے مادے سے متضاد خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر عام مادے کی ایک مثال پروٹان ہے جو ہر ایٹم میں پایا جاتا ہے۔ اس کا ضدمادہ اینٹی پروٹان ہے، جو باقی ہر لحاظ سے پروٹان کی مانند ہوتا ہے، البتہ اس پر پروٹان کے مثبت چارج کی بجائے منفی چارج ہوتا ہے۔ یہ تحقیق جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے، اور اس کی مدد سے یہ سراغ مل سکتا ہے کہ آج کی کائنات بنیادی طور پر ضدمادے کی بجائے مادے سے کیوں بنی ہے۔ وہ طاقتیں جو ضدمادے کے ذرات، مثال کے طور پر اینٹی پروٹان کو جوڑ کر رکھتی ہیں، اس سے قبل ان کی پیمائش نہیں کی گئی تھی۔ اگر اینٹی پروٹان عام پروٹانوں کی نسبت مختلف طرزِ عمل دکھائیں تو اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ دونوں کی مقدار میں تناسب کیوں نہیں ہے۔

matterکائنات کی ابتدا میں بگ بینگ کے بعد یکساں مقدار میں مادہ اور ضدمادہ پیدا ہوئے تھے۔ تاہم بعد کی کائنات میں ضدمادہ تقریباً معدوم ہو گیا اور صرف مادہ باقی رہ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا سبب ضرور رہا ہو گا جس نے مادے کو فوقیت دی۔ اس سلسلے میں کئی نظریات پیش کیے گئے مگر کسی پر اتفاق نہیں تھا۔ خوش قسمتی سے ضدمادے کی قلیل مقدار لیبارٹری میں تخلیق کی جا سکتی ہے، اور سائنس دان اس کی خصوصیات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔  امریکی شہر بروک ہیون میں واقع آئن کولائیڈر میں طبیعات دان اینٹی پروٹان کے جوڑے کے درمیان تعامل کی قوت کو ناپنے میں کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے دریافت کیا کہ اینٹی پروٹان کے جوڑوں کے درمیان کشش کی قوت پائی جاتی ہے۔ ایسی ہی قوت عام پروٹانوں کے درمیان بھی ہوتی ہے اور اسے سٹرانگ نیوکلیئر فورس کہا جاتا ہے۔

antiتحقیق میں شامل سائنس دان ژینگ چیاؤ کہتے ہیں: ’ہم اتنے ہی اینٹی پروٹان دیکھتے ہیں جتنے پروٹان، جو کائنات کا بنیادی مادہ ہیں۔ البتہ یہ اینٹی پروٹان منفی چارج کی وجہ سے مخالف سمت میں مڑ جاتے ہیں۔‘ پیچیدہ پیمائشوں کے بعد معلوم ہوا کہ پروٹان اور اینٹی پروٹان چارج کے سوا مکمل طور پر ایک دوسرے کے جڑواں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے درمیان پائی جانے والی نیوکلیائی کشش بھی یکساں ہوتی ہے جس کی وجہ سے کائنات میں ضدمادہ کی قلت پر روشنی ڈالی جا سکے۔ اس تحقیق کے بعد سائنس دانوں کو مادہ/ضدمادہ کے فرق کو سمجھنے کے لیے نیوکلیائی کشش کے علاوہ کسی اور طرف دیکھنا ہو گا۔ ایک اور ایٹمی ذرہ نیوٹرینو ہے، اور ممکن ہے اس کا اپنا اینٹی نیوٹرینو بھی پایا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بگ بینگ کے بعد نیوٹرینو ذرات نے آپس میں مختلف طریقے سے تعامل کیا جس کی وجہ سے آج کائنات میں مادے کا راج ہے، نہ کہ ضدمادے کا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *