Seoul کے سینے میں دھڑکتا ایک چھوٹا سا اسلامی دل

 فضا میں عربی کھانے کی خوشبو ، دوکانوں پہ لگے حلال کھانے کے بینرز، حجاب میں پھرتی عورتیں، داڑھیوں والی آدمی اور دوکانیں جو آپ کو حج اور عمرہ کے پیکج کی معلومات دے رہی ہیں۔ ایک منٹ کے لئے آپ کو لگے گا کہ آپ کسی اسلامی ملک میں ہیں لیکن جب آپ اشتہاری بورڈز پر نظر ڈالیں گے تو آپ کو پتہ چلے seoul 2گا کہ آپ جنوبی کوریا میں ہیں۔ سیؤل میں موجود اِس جگہ کا نام Itaewon ہے۔ کورین سیاحتی تنظیم دوسرے ممالک سے مسلمانوں سیاحوں کو یہاں بلانے کے لئے اِس علاقے کی ترقی کے لئے بہت کام کر رہی ہے۔وہیں ایک حلال ریسٹورنٹ میں بین الاقوامی سیاحت کے نمائندے Jaesung Rhee کا سعودی گزٹ کو انٹرویو دیتے ہوے کہنا تھا کہ ’’ عربی سیاح ہمارے لئے بہت اہم ہیں‘‘۔ریسٹورنٹ سے کچھ گز کے فاصلے پہ مرکزی سیؤل مسجد ہے ۔ یہ ایک بارعب عمارت ہے جس کے اندر سلطان سکول بھی ہے جس کے لئے شہزادہ سلطان بن عبدالماجد مرحوم نے خطیر رقم عطیہ کی تھی۔مسجد کے امام اے رحمان لی کا کہنا تھا کہ ’’ یہاں پر 35,000 مسلمان آباد ہیں۔ یہاں 15 مسجدیں اور 60 مسّلے ہیں۔کوریا کی جنگ کے بعد یہاں پر پائیدار امن کے قیام کے لئے ترکی سپاہی بھیجے گئے جنہوں نے یہاں کے لوگوں کو اسلام سے متعارف کروایا ۔آہستہ آہستہ یہاں اسلام پھیلا جبکہ یہاں کی 50 فیصد آبادی لادین ہے اور کسی بھی مذہب کو نہیں مانتی‘‘۔ امام لی نے خود 1985 میں اسلام قبول کیا تھا۔تب یہ علاقہ غیر قانونی اور ناجائز کاموں کی وجہ سے بہت بد نام تھا۔ اُنہوں نے مزید بتایا ’’ کہ الحمدُللہ اب یہ علاقہ اور اِس کے پاس کے کافی علاقے جیسے Yongsan-gu اور Jongno-gu ہر قسم کی برائی سے پاک ہیں۔ آج تقریباََ 65 طالبِعلم مدرسے میں پڑھتے ہیں جنہوں نے اسلامی تعلیمات اور عربی زبان میں مدینہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ہے۔
کِم جو اب اپنے آپ کو محمد ابراہیم کہتے ہیں کوریا میں حلال فوڈ کی ترقی و ترویج کے لئے بہت کام کر رہے ہیں۔اُنہوں نے وزارتِ زراعت کے ساتھ مل کر ’’کوریا انسٹیٹیوٹ آف حلال انڈسٹری ‘‘ کی بھی بنیاد رکھی ہے۔وہ ایک تین نکاتی حلال سسٹم پر کام کر رہے ہیں۔ جہاں پر پہلے درجے میں ایک ریسٹورنٹ یا دوکان کے پاس حلال کا سرٹیفیکیٹ موجود ہو گا، دوسرے درجے میں ریسٹورنٹ یا دوکان حلال کو یقینی بنائے گی اور تیسرا جس میں ریسٹورنٹ کا مالک حلال کھانے کے اصولوںseoul 3 سے واقفیت رکھتا ہو گا۔کِم نے اپنی زندگی کا کافی عرصہ ملائشیا میں گزارا اور اُنہیں اسلام میں موجود برابری اور پاکیزگی بہت بھائی۔وہ کافی عرسے سے دین کا مطالعہ کر رہے تھے اور ابھی مہینہ پہلے اُنہوں نے اسلام قبول کیا۔اُن کے گھر والے یہاں تک کے اُن کی بیٹی بھی یہ بات نہیں جانتے۔
کوریا میں اسلام کی ابھی ابتداء ہوئی ہے اور ابھی یہاں کی صرف 0.25 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ کورین کسی مذہب کو نہیں مانتے لیکن اُن کے دل ہر مذہب کے لئے بہت کھلے ہیں۔کوریا میں اسلام کا مستقبل بہت تابناک ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *