سیاسی حقائق

Sports-NajamNominateasPCBchairman_6-23-2013_106478_l     گزشتہ ہفتے سندھ اور پنجاب میں مقامی حکومتوں کے پہلے مرحلے کے لیے ہونے والے انتخابات کے نتائج سے پاکستانی سیاست کی سمت اور نوعیت کے حوالے سے واضح نتائج نکالے جاسکتے ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والا سبق 2018ءکے انتخابات کی سمت کا تعین کرے گا۔ اگر پی پی پی اور پی ٹی آئی کی پنجاب میں کارکردگی بدستور خراب رہی تواس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اسلام آباد پر کس کی حکمرانی ہوگی۔
پنجاب میں پی ایم ایل (ن)نے تقریباً45 فیصد نشستیں جیتیں ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے حصے میں گیارہ فیصد اور پی پی پی کے حصے میں دوفیصد سے بھی کم آئی ہیں۔آزاد امیدوار چالیس فیصد تک نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ یہ نتائج تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے اہم اشارے لیے ہوئے ہیں۔ پہلا یہ کہ پی ٹی آئی کی تنقید اور حکومت کو عدم استحکام سے دور چار کرنے کی کوشش کے باوجود پی ایم ایل (ن)نے اپنا ووٹ بنک قائم رکھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صوبے، جس پر اس نے 1980 کی دہائی سے اب تک کسی نہ کسی شکل میں حکومت کی ہے، میں اس کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔ دوسرایہ ہے کہ پی ایم ایل (ن) کے خلاف گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے پی ٹی آئی کے الزامات حتمی طور پر غلط ثابت ہوچکے ہیں، چنانچہ یہ سکون کا سانس لیتے ہوئے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں ملنے والی کامیابی کی بنیاد پراگلے عام انتخابات میں زیادہ واضح کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ تیسرا یہ کہ اتنی بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں کا کامیاب ہونا پی ایم ایل (ن) کے لیے باعث ِتشویش ہونا چاہیے کیونکہ حکمران جماعت جیتنے والے امیدواروں کوبھاری فنڈز وغیرہ دے سکتی ہے، اس کے باوجود کامیاب ہونے والوں میں آزاد امیدوراوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ، پی ایم ایل (ن)کو عوامی احتساب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس پتہ چلتا ہے کہ پارٹی ٹکٹ دینے کے لیے صرف مستحکم گروہوں اور طاقت ور ذات برادری رکھنے والوں کی بجائے امیدواروں کی ساکھ اور کردار کو بھی دیکھا جائے۔
پی ٹی آئی کو بھی اپنی حکمت ِ عملی اور طریق کار کا ناقدانہ جائزہ لینا ہوگا۔ نچلی سطح سے اٹھ کر اس کے پلیٹ فارم پر بلند ہونے والے سیاست دان جو پی ایم ایل (ن) کے سیاسی چیلنج بن سکیں، کہیںدکھائی نہیں دیتے۔ اس کا مطلب یہ کہ منفی ہتھکنڈے اپنانے، الزامات کی سیاست کواپنا وتیرہ بنا نے اور ”تیسرے امپائر“ کی انگلی کے سہارے اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کو مثبت انداز فکر اپناتے ہوئے ان نتائج پر غور کرنا چاہیے تاکہ وہ ایسے خطوط وضع کرسکے جو اگلے انتخابات میں اسے فائدہ پہنچائیں۔مختصر یہ کہ پی ٹی آئی کو ایک قدآور کپتان، عمران خان ، کی قیادت پر تکیہ کرنے کی بجائے ملک وقوم کے ہزاروں چھوٹے بڑے” عمران خانوں“ کی ضرورت ہے جو اس کو آگے لے کر جاسکیں۔ پی ٹی آئی کے پنجا ب الیکشن آرگنائزر، شفقت محمودکا ناقص کارکردگی دکھانے پر استعفا مثبت سمت میں ایک قدم ہے۔ اُنہیں ایک رپورٹ بھی لکھنی چاہیے کہ پی ٹی آئی کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان سے عہدہ برا ہونے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ۔
آخر میں، عمران خان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تخیلاتی اسپ ِ تازی سے اتر کر حقائق کی زمین پر قدم رکھیںاور اپنی پارٹی کے علاوہ اپنے گھر کے معاملات بھی درست کریں۔ یوٹرنز پر مبنی ان کی سیاسی پالیسی نے پی ٹی آئی کے مخلص کارکنوں کو سخت بد دل کیا ہے۔ اب اُن کی ذاتی زندگی بھی مسائل کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ ان کی ریحا م خان سے شادی اور ایک سال سے بھی کم عرصہ میں طلاق پر ہونے والی بحث ناروا ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اس ایک فیصلے نے ان کے خاندان، پارٹی اور دوستوں کو تقسیم کرنے کے علاوہ پی ٹی آئی کے ووٹروں کو بھی الجھن میں ڈال دیا۔ اس سے عوام کو اندازہ ہوا کہ جس طرح عمران خان سیاسی معاملات پر غلط فیصلے لیتے دکھائی دیتے ہیں، اسی طرح ذاتی زندگی میں بھی وہ درست فیصلے کرنے سے قاصر ہیں۔ کوئی لیڈر بھی اخلاقی طور پرقلابازیاں کھاتے ہوئے پاکستان جیسے روایتی معاشرے میں دیر تک عوامی حمایت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اگر ریحام خان نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے عمران کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کے بارے میں کوئی کتاب وغیرہ لکھ دی تو نہ صرف وہ ہاتھوں ہاتھ بکے گئی بلکہ عمران خان کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی۔
اگر گزشتہ عام انتخابات کے نتائج اس حقیقت کا واضح ثبوت ہونے کے لیے کافی نہیں تھے کہ پی پی پی اندرون ِ سندھ کی ایک جماعت بن چکی ہے تومقامی حکومتوں کے ان انتخابات نے اس کی حتمی تصدیق کردی ہے۔ اس وقت پی پی پی پنجاب میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ تاہم اس نے سندھ کے دیہی علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں 65 فیصد نشستیں جیت لی ہیں۔ اس پر زردرای صاحب کہہ اٹھے کہ پی پی پی کو مردہ جماعت کرنے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہییں۔ زرداری صاحب کے جذبات اپنی جگہ، لیکن حقائق مختلف ہیں۔ درحقیقت زرداری کا سندھ ووٹ بنک قوم پرستی اور جاگیردارانہ طرز ِ سیاست کی وجہ سے ہے۔ اس کا منبع بھٹو شہدا کے تین مزارات ہیں۔ تاہم ان کی بنیاد پر کامیا بی حاصل کرنا قوم پرستی کے جذبات کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ قومی سطح پر سیاست کے کچھ اورتقاضے ہیں۔
سندھ میں پی پی پی، پنجاب میں پی ایم ایل (ن) اور خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کو صوبائی حکومتیں ہونے کافائدہ ملا ، لیکن آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ اب ووٹرکارکردگی مانگتا ہے اور وہ ووٹ کے ذریعے سیاست دانوں کا احتساب کرنے کے لیے کمر بستہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ صورت ِ حال ہمارے انتخابی عمل کو ذات برادری اور قبائل کی زنجیروں سے رہائی دلا دے گی۔اگلے عام انتخابات میں اس آزادی کا احساس مزید نمایاں ہوجائے گا۔ یہ جمہوریت کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ فافین( FAFEN) ، جو انتخابات پر نگاہ رکھتی ہے، نے بھی تصدیق کردی ہے کہ یہ انتخابات گزشتہ انتخابات کی نسبت زیادہ شفاف تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم ہمیں سیاسی استحکام کے لیے دو جماعتی نظام چاہیے۔ اس لیے جتنی جلدی پی پی پی یا پی ٹی آئی اپنے افعال اور کاکردگی کو درست کرلے ، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *