عمران خان نے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کے دباﺅ پر شادی کی

Puppetباوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عمران نے ایک اہم خفیہ ادارے کے اسی سابق سربراہ کے دباﺅ پر شادی کی تھی جسے 2011ءمیں عمران خان کی سیاست میں ڈرامائی عروج کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی شادی ختم ہوئے دو ہفتے ہو چکے ہیں لیکن ملک بھر میں لوگ اب بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی کے اہم ترین موڑ پر شادی کیوں کی ؟ اگر عمران اور ریحام کی طبیعتوں میں ایسا ہی فرق تھا تو عمران خان جیسا جہاں دیدہ شخص اس کا پہلے سے اندازہ کیوں نہ لگا سکا؟ نیز یہ کہ کیا یہ شادی اور اس کا المناک انجام عمران خان کی سیاست ختم ہونے پر منتج ہوں گے۔
بتایا جا رہا ہے کہ خفیہ ادارے کے سابق اعلیٰ عہدے دار نے اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد قومی ندامت سے توجہ بٹانے کے لئے عمران خان کی پشت پناہی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس میں ایک پہلو یہ بھی تھا کہ ہیئت مقتدرہ پیپلز پارٹی کی انتخابی ناکامی کی صورت میں مسلم لیگ نواز کو کھلی چھٹی دینے پر تیار نہیں تھی۔ اس ضمن میں مہم 2011ءکے وسط میں شروع کی گئی تھی۔ بدنام زمانہ میمو گیٹ سکینڈل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا ۔ دراصل اس سے عمران خان کو ایک اہم قومی رہنما کی حیثیت میں متعارف کرانا مقصود تھا۔ واضح رہے کہ عمران نے 30اکتوبر 2011ءکو مینار پاکستان لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بار امریکا میں (تب) پاکستان کے سفیر حسین حقانی کو مبینہ میمو گیٹ میں ملوث کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ برس عمران خان کی قیادت میں دھرنے اپنے عروج پر تھا تو اس کے پس پشت کارفرما عناصر کو فکر لاحق ہو گئی کہ دھرنے کی ممکنہ ناکامی کی صورت میں عمران کی ذاتی زندگی ان کے لئے بہت بڑا بحران کھڑا کر دے گی۔ چنانچہ ممکنہ مشکلات نیز عمران کی ذاتی زندگی پر حملوں سے بچنے کے لئے شادی کی تدبیر نکالی گئی۔ ریحام خان کو دریافت کیا گیا۔ عمران خان اسکینڈل سے بچنے کے لئے کسی گھریلو خاتون سے شادی کرنا چاہتے تھے تاہم انہیں ریحام خان کے ذرائع ابلاغ سے تعلق میں بھی کشش محسوس ہوئی۔ دوسری طرف ریحام خان یقینی طور پر سیاسی عزائم رکھتی تھیں۔ شادی کے فوراً بعد فریقین کو اندازہ ہو گیا کہ پانسہ غلط پڑا ہے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
تحریک انصاف کی سیاست کو فاصلہ جاتی رہنمائی دینے والے یہ نہیں سمجھ سکے کہ عمران خان کے لئے اصل مسئلہ ان کی ذاتی زندگی نہیں تھا کیونکہ ان کی سیاست کے آغاز ہی سے ان کے نجی معاملات پاکستانی عوام کے علم میں تھے ۔ پاکستان کے عام لوگ اپنے رہنماﺅں کی ذاتی زندگی کے بارے میں زیادہ تردد نہیں کرتے۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ عمران خان کی سیاست آئینی اور جمہوری تقاضوں سے بے نیاز تھی اور مسلسل دوسروں پر حملوں کی مدد سے بات آگے بڑھائی جا رہی تھی۔ عمرا ن خان کوئی ٹھوس سیاسی اور معاشی پروگرام دینے میں ناکام رہے۔ خیبر پختون خوا میں ان کی جماعت صوبائی سطح پر ایسے نتائج دینے میں ناکام رہی جن کی مدد سے دوسرے صوبوں میں مقبولیت حاصل کی جا سکتی۔ اگست 2014ءمیں دھرنا دینا ایک ایسا اقدام تھا جو پوری طرح سوچے سمجھے بغیر اٹھایا گیا تھا۔ دھرنے کی ناکامی کا آغاز لاہور ہی سے ہو گیا تھا جب عمران خان مطلوبہ تعداد میں احتجاجی ہجوم جمع کرنے میں ناکامی پر گوجرانوالہ پہنچ کر پھٹ پڑے تھے۔ ستمبر 2014ءکے پہلے ہفتے میں اس غبارے سے پوری ہوا نکل گئی۔ عمران خان نے دھاندلی کے جو الزامات لگائے تھے جوڈیشل کمیشن میں ان کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ کراچی، ایبٹ آباد اور لاہور کے ضمنی انتخابات نے یہ بات ثابت کر دی کہ عمران خان اپنی عوامی مقبولیت میں اضافہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد عمران خان اور ان کی سابق اہلیہ میں وہ خاموش سمجھوتہ دباﺅ میں آ گیا جس کی بنیاد ہی اس امید پر تھی کہ عمران خان جلد ہی اقتدار میں آ رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ریحام خان سے علیحدگی کے بعد بھی عمران خان کو بلدیاتی انتخابات اور پھر قومی اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔ ریحام خان سے شادی کے وقت بھی غلط اندازے لگائے گئے تھے اور اس شادی کی ناکامی کو بھی غیر حقیقی انداز میں دیکھا جا رہا ہے ۔ تحریک انصاف کی حالیہ پسپائی اصل میں ان پس پردہ اداکاروں کی ناکامی ہے جنہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی غیر سیاسی سوچ سے لاکھوں لوگوں کی جائز سیاسی اور معاشی امنگوں کو غلط سمت دی ۔

عمران خان نے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کے دباﺅ پر شادی کی” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 12, 2015 at 3:47 PM
    Permalink

    ایک عمومی تاثرات پر مبنی تحریر کو تجزیہ کی شکل دینے اور اس سے نتائج بھی مرتب کرنے کا کام لیا گیا ہے۔ سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر منطق کے لحاظ سے لکھنے والے نے یہ نشاندہی نہی کی کہ وہ کونسے آئینی اور جمہوری تقاضے ہیں جو عمران کی سیاست میں نہی تھے۔ میں دیکھتا ہوں کہ پی پی پی کو چھوڑ کر تقریباً تمام بڑی جماعتوں نے ایک آئینی ادارے کے سربراہ کی بحالی کیلئے ایک مارچ کا انعقاد کیا جس کے نتیجے میں افتخار چوہدری دوبارہ چیف جج کے عہدے پر فائز ہوئے یعنی ایک آئینی ادارہ جس کا کام ہی آئین و قانون پر عمل کرانا ہے ایک سیاسی عمل کے نتیجے میں عہدہ پر آئے۔ خود پارلیمنٹ میں بغیر بحث قوانین پاس ہورہے ہیں سابقہ دور حکومت میں آئینی ترامیم پر تمام تر ڈائلاگ پارلیمنٹ سے باہر ہوا کوئی ٹھوس پر مغز گفتگو آن دی ریکارڈ نہ ہوئی۔ تو اب سیاسی جلسے جلوس و دھرنا پر "اندر کی باتوں" کی بنیاد پر کیوں آئینی بدہضمیاں ہو رہی ہیں۔
    خیبر پختونخواہ کی حکومت نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔۔۔۔۔ بالکل رہی ہوگی مگر تجزیہ نگار کو معلوم ہونا چاھئے کہ نتیجہ ٹھونکنے سے پہلے "اہم امور پر" کارکرگی کو متعلقہ اہداف پر جانچتے۔
    لہٰذا میں اسے ایک لا یعنی تجزیہ اور احماقانہ نتیجہ تصور کروں گا

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *