جنرل صاحب! جواب تو آپ کے پاس ہے

syed Mujahid Aliبات تو جنرل صاحب نے بھی وہی کی ہے جو ہر روز گلی کوچوں ، ڈرائنگ رومز ، ٹاک شوز اور اخباری کالموں میں کہی جاتی ہے لیکن اس کی گونج آج قومی اسمبلی میں بھی سنائی دی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ بات ملک کے سب سے طاقتور ادارے کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے کی گئی ہے۔ کل راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آپریشن ضرب عضب میں کامیابی پرفوج کو شاباشی دی لیکن یہ گلہ بھی کیا کہ ملک کی سویلین حکومت فوج کی کامیابی کے نتیجے میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرنے کی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ فوج کے ادارہ تعلقات شعبہ عامہ کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ناقص حکومتی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے خاص طور سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکامی ، فاٹا میں اصلاحات کے عمل کا نفاذ اور دہشت گردی کے واقعات میں قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹیوں کی سست روی کا حوالہ دیا گیا۔ فوج کے سربراہ کی یہ شکایتیں درست ہیں۔ لیکن اگر وہ ملک کے سیاسی امور میں عملی طور سے شریک ہیں تو ان ناکامیوں کی ذمہ داری ان پر بھی اسی طرح عائد ہوتی ہے جس طرح ملک کے وزیراعظم کو اس کا قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈر اجلاس میں ان خیالات کا اظہار کرنے سے پہلے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اپنی یہ تشویش ان تک پہنچا دی تھی۔ خبروں کے مطابق کابینہ کے سربرآوردہ اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاک فوج کے سربراہ نے دہشت گردی کے خلاف حکومتی سست روی کی شکایت کی ہے اور کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ حیرت انگیز طور پر وزیراعظم نواز شریف خود بھی انہی خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ایسی صورت میں فطری طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسائل سے آگہی اور سویلین اداروں کی غیر اطمینان بخش کارکردگی کے باوجود وزیراعظم کیوں اس حوالے سے اقدام کرنے میں ناکام ہیں۔ فوج جو ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے آگے بڑھ کر سیاسی حکومت کا ہاتھ بٹا رہی ہے، کیوں کر ان معاملات کی تکمیل کے لئے حکومت کے اقدام کی محتاج ہے۔ یا وہ کیوں اس عمل میں معاونت فراہم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
آج قومی اسمبلی میں آرمی چیف کے اس بیان پر تبصرے کرتے ہوئے اسے آئینی حدود سے تجاوز کا نام بھی دیا گیا۔ پختونخوا عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے تو یہ بھی کہا کہ اگر شریفوں (نواز شریف اور جنرل راحیل شریف) کے درمیان جھگڑا بڑھتا ہے تو ہم سویلین شریف کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے بجا طور سے یہ بھی کہا کہ کوئی ایسی خارجہ پالیسی قبول نہیں کی جا سکتی جس کی منظوری پارلیمنٹ سے حاصل نہ کی گئی ہو۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہونے کے باوجود حقائق سے لگاّ نہیں کھاتی۔ اچکزئی سمیت ملک کا کون سا شخص یہ نہیں جانتا کہ اس وقت ملک کی حکومت صرف انہی خطوط پر خارجہ پالیسی متعین کرنے پر مجبور ہے جو فوج اسے فراہم کر رہی ہے۔ اسی طرح سکیورٹی معاملات میں بھی تمام اختیارات فوج نے خود کو تفویض کئے ہوئے ہیں۔ سویلین سیاسی حکومت خواہ وہ مرکز میں ہو یا صوبے میں، فوج اور اس کے اداروں کی اس من مانی کو قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ فوج کی غیر ضروری مداخلت پر سیخ پا ہوتے ہیں لیکن کور کمانڈرز یا ڈی جی رینجرز کے ساتھ ملاقات میں وہی فیصلے کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں جو حالات کو بہتر بنانے کے لئے ان اداروں کو مناسب لگتے ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے آرمی چیف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی حکومت کے لتّے لئے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا مشورہ دیا۔ گویا انہوں نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ فوج کی طرف سے سیاسی حکومت کی سرزنش ایک جائز اور درست اقدام ہے۔ ملک کے سیاستدانوں کے اسی طرز عمل کی وجہ سے نہ کبھی پارلیمنٹ کو مکمل بااختیار بنایا جا سکا ہے اور نہ ہی کسی فوجی لیڈر کو سیاستدانوں کی گوشمالی کرنے میں کوئی پریشانی ہوئی ہے۔ بلکہ ماضی میں جب بھی کسی جرنیل نے اپنی صوابدید کے مطابق یہ محسوس کیا کہ اب آئین اور اس کے تحت بننے والی حکومت غیر ضروری بوجھ بن گئی ہے، اسے چلتا کیا اور خود اطمینان سے حکومت کی دہائی مکمل کر لی۔ اس کامیابی میں اگر فوج کی عسکری قوت ، اس ادارے کے مثالی ڈسپلن اور اپنے چیف سے لازوال وفاداری کو عمل دخل حاصل ہے تو ان سیاستدانوں کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے جنہوں نے ذاتی ہوس اقتدار کے لئے اصولوں اور ملک میں ایک بہتر نظام حکومت کی قربانی دینا مناسب سمجھا۔
ان حالات میں محمود خان اچکزئی کی طرف سے پارلیمان کی بالا دستی کا دعویٰ اس وقت تک ایک خواب ہی رہے گا جب تک سب سیاستدان اصولوں پرعمل نہیں کریں گے اور جمہوریت اور اس کے اداروں پر غیر متزلزل یقین کا عملی مظاہرہ نہیں کریں گے۔ بلاشبہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں اس قسم کے دعوے عام طور سے سننے میں آتے رہتے ہیں لیکن یہ دعوے کرنے والے سارے لوگ وہی ہیں جو ماضی میں کسی نہ کسی طور سے فوج کی حکمرانی کے لئے راہ ہموار کرنے یا آئینی حکومت کے خاتمہ کے بعد غیر قانونی فوجی حکمرانوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ اس قسم کے کردار ملک کی ہر سیاسی پارٹی میں موجود ہیں۔ حتیٰ کہ حکمران پارٹی تو ایسے ” رہنما?ں “ کی سب سے بڑی پناہ گاہ ثابت ہوئی ہے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد فوجی حکمران کے استبداد کا نشانہ بننے کے بعد یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اب ملک میں غیر آئینی اقدامات کا راستہ ہمیشہ کے لئے روک دیا گیا ہے۔ اسی نعرے کو سچ ثابت کرنے کے لئے حقائق اور سیاسی فہم کے برعکس سابق فوجی سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کی بھونڈی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے۔ لیکن اس میں صرف سیاستدان ہی قصور وار یا ذمہ دار نہیں ہیں۔ فوج نے بھی حالات کو مشکل اور خطرناک بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ 2013 کے انتخابات میں عوام نے اگرچہ حقِ حکومت مسلم لیگ (ن) کو عطا کیا تھا اور اس حق یا اختیار کے تحت یہ پارٹی اپنی صوابدید اور شعور یا پروگرام و منشور کے مطابق فیصلے کرنے، خارجہ امور طے کرنے ، سکیورٹی حالات کو بہتر بنانے ، ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت طے کرنے، ملک میں سرگرم انتہا پسند تنظیموں اور گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بارے میں مکمل طور سے بااختیار اور آزاد ہونی چاہئے تھی۔ حقیقت حال اس کے برعکس ہے۔ فوج نے خود اپنا ایک سیاسی کردار متعین کیا ہے اور حکومت کو بہ امر مجبوری اسے تسلیم کرنا پڑا ہے۔ یہاں یہ طے نہیں کیا جا رہا ہے کہ کس کا فیصلہ معاملات طے کرنے کے لئے بہتر تھا بلکہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس کو یہ سارے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے اور کس کو ایک بااختیار وزیراعظم کے سارے احکامات ماننے کا پابند ہونا ہے۔ جب اس اصول کو نظر انداز کر دیا جائے گا تو نہ سیاستدان فوج کو الزام دے سکتے ہیں اور نہ فوج سیاستدانوں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے بہتری کا تقاضا کر سکتی ہے۔
ملک کی سیاسی حکومت اور فوجی قیادت نے یہ طے کیا ہے کہ وہ مل کر سیاسی اور سکیورٹی امور طے کریں گے۔ اس لئے انہیں مشترکہ طور سے کامیابیوں کا کریڈٹ لینے اور ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔ فوج آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھتے ہوئے باقی امور پر ناکامی کا الزام سیاسی حکومت پر عائد نہیں کر سکتی۔ قومی ایکشن پلان فوج کے اصرار پر منظور کیا گیا تھا۔ فوج ہی کے کہنے پر آئین میں اکیسویں ترمیم لائی گئی تھی اور فوجی عدالتیں قائم ہوئی ہیں۔ ہر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (JIT ) میں فوج کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ پھر جنرل راحیل شریف اپنے کمانڈروں کے سامنے ان فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے سیاسی حکومت سے بہتری کا تقاضا کیسے کر رہے ہیں۔ وہ خود اس سارے عمل کا حصہ ہیں۔ وہ خود ذمہ دار ہیں۔ انہیں نہ صرف اس فرض سے عہدہ برآ ہونا ہے بلکہ اس میں حائل مشکلات کو بھی خود ہی دور کرنا ہے۔
قومی ایکشن پلان کے تحت مدرسوں کی اصلاحات ، انتہا پسند گروہوں پر کنٹرول اور دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے معاملات وجہ نزاع بنے ہوئے ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک فیصلہ بھی حکومت اپنے طور پر نہیں کر سکتی۔ اس کے لئے اسے فوج کے غیر مشروط تعاون کی ضرورت ہو گی۔ خواہ یہ تعاون مساوی پارٹنر کے طور پر فراہم کیا جائے (جو موجودہ صورتحال میں ایک سچائی ہے) یا حکومت کے ماتحت ادارے کے طور پر یہ خدمات پیش کی جائیں۔ حکومت کسی ایسی انتہا پسند تنظیم اور منہ زور مذہبی لیڈروں کے خلاف کیوں کر کارروائی کر سکتی ہے جن کو فوجی اداروں کی آشیر باد اور سرپرستی حاصل ہو۔ جماعت الدعوة ، حافظ سعید اور ملا عبدالعزیز اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ حکومت مدرسوں کی اصلاح کا بیڑا کیوں کر اٹھا سکتی ہے، اگر ان مدارس کی تنظیموں کے فوج کے ساتھ براہ راست مراسم ہوں اور وہ انہیں اپنی قوت سمجھتی ہو۔ یہ کہنا بے سود ہے کہ سیاسی حکومت بہت لائق اور ذمہ دار ہے لیکن اگر حکومت میں بہترین صلاحیتوں اور کردار کے لوگ بھی موجود ہوں تو بھی سیاسی و سماجی معاملات میں فوج کے موجودہ اثر و رسوخ کے ہوتے ہوئے، ان سے کسی بہتر کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکے گی۔
جنرل راحیل شریف کی پریشانی بجا ہے لیکن اسے دور کرنے کے لئے انہیں خود مستعد ہونا پڑے گا اور اپنے زیر کمان اداروں کو چوکنا کرنا پڑے گا۔ انہیں خود یہ دیکھنا ہو گا کہ اگر انتہا پسندوں کے خلاف سندھ میں رینجرز سرگرم ہیں، بلوچستان میں ایف سی قوم پرستوں سے جنگ آزما ہے اور خیبر پختون خوا میں فوج دہشتگردوں سے برسر پیکار ہے تو پنجاب میں چھپے ہوئے انتہا پسند عناصر تک ان کا ہاتھ کیوں نہیں پہنچ سکتا۔ اگر فوج آئین میں ترمیم کروا سکتی ہے تو قومی ایکشن پلان کیوں ادھورا رہتا ہے۔ یہ سوال پوری قوم کے لئے باعث تشویش ہے۔ لیکن اس کا جواب صرف جنرل راحیل شریف کے پاس ہے۔

جنرل صاحب! جواب تو آپ کے پاس ہے” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 12, 2015 at 2:34 AM
    Permalink

    بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی
    کاش ملک میں جمہوریت ہوتی تو دیکھتے کہ ایک جنرل کیسے اس طرح کے بیان دیتا ابھی کل کی بات ہے کہ برطانیہ میں آرمی چیف نے ایک بیان دیا ہے اور اپوزیشن لیڈر نے اس کی مٹی پلید کر کے رکھ دی ہے اور اس کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا ہے اور وہ مطالبہ بھی اس نے وزیراعظم سے نہیں کیا بلکہ وزیر دفاع سے کیا ہے اور اپنا حال تو سب کے سامنے ہے چہ پدی چہ پدی کا شوربہ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *