داعش کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا

wusatullah-khanشاید آپ کو یاد ہو کہ ڈھائی ماہ پہلے تین سالہ ایلان الکردی کی لاش ترکی کے ساحل پر اوندھی پڑی ملی تو سوائے چند امیر مسلمان ممالک کے سب ہل گئے اور یورپ نے شامی پناہ گزینوں کے لیے سٹپٹا کے دروازے کھول دیے۔ دو روز پہلے پیرس میں جو ہوا دنیا اس سے بھی ہلی مگر یہ ہوا کہ ایلان الکردی نے تنِ تنہا جو دروازے کھلوائے وہ داعش کے سات خودکشوں نے بند کروا دیے۔ یورپی یونین میں اس وقت لگ بھگ ایک کروڑ 70 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ان میں سے آدھے یورپ میں ہی پیدا ہوئے ۔اب وہ کیا کریں ؟ پہلے سے زیادہ کڑے امیگریشن قوانین، گدھ کی طرح منڈلاتی ممکنہ بے روزگاری، بسوں، ٹرینوں اور فٹ پاتھوں پرگھورتی مزید سبز و نیلی آنکھوں اور سماجی تنہائی کی مسلسل موٹی ہوتی دیوار کا سامنا کیسے کریں؟

اور کتنے راہ چلتے مقامی باشندے ایک بار پھر سنجیدگی سے سنیں گے یہ وضاحت کہ اسلام ایک پُرامن مذہب ہے، مسلمان اکثریت انتہا پسندی سے نفرت کرتی ہے، 95 فیصد مسلمان جہاد کے القاعدہ داعشی نظریے سے متفق نہیں۔ کبھی سوچا کہ کیسی آسانی سے شیعہ، سنی، دیو بندی، بریلوی، وہابی، سلفی ایک دوسرے کو دائرہِ اسلام میں کبھی داخل کر لیتے ہیں کبھی خارج کر دیتے ہیں۔کبھی نکاح تڑوا دیتے ہیں کبھی جڑوا دیتے ہیں۔

تو کیا اتنی ہی آسانی سے پچھلے بیس برس کے دوران بالخصوص جامعہ الاظہر، سعودی مفتیِ اعظم کے دفتر، دارالعلوم دیوبند یا پھر مدرسہِ رحیمیہ قم سے کبھی فتویٰ جاری ہوا ہو کہ آج کے بعد القاعدہ، داعش اور ان کے وکیلوں کو فساد فی الارض کی پاداش میں دائرہِ اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ ان سے کوئی بھی تعلق حرام ہے؟

جب بھی ایسا سوال اٹھایا جائے تو فوراً، اگر مگر، ہچر مچر، بات دراصل یہ ہے، چونکہ چنانچہ کے کھمبے پر چڑھ لیا جاتا ہے۔

ان سے اچھے تو القاعدہ اور داعش ہیں جو اپنے علاوہ کسی کو بھی صرف مسلمان ہی نہیں کفر کا قابلِ گردن زدنی ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ مگر یہ افغانستان سے افریقہ کے صحرائے اعظم اور شام تا یمن داعش، القاعدہ، بوکو حرام اور الشباب اینڈ کمپنی کے پاس سینکڑوں چمکتی جاپانی ٹیوٹا ڈبل کیبن گاڑیاں کیا اسلم موٹرز سے سپلائی ہوئیں؟ جدید مغربی اسلحہ کیا غلام محمد ڈوسل آرمز ڈیلر نے شام تک پہنچایا ؟ بے تحاشا پیسہ کیا نیشنل بینک آف پاکستان کے ڈرافٹ پے جا رہا ہے؟ عراق اور شام میں داعش کے زیرِ قبضہ کنوؤں سے نکلنے والے تیل کے ہزاروں بیرل کیا اڑن کھٹولوں پر ترکی کے پار بھیجے جا رہے ہیں؟ اور یہ تیل کیا زولو قبیلہ اپنے گھوڑوں کی مالش کے لیے خرید رہا ہے؟

ہاں خود ساختہ جہادیوں کے ہاتھوں پشاور کے آرمی پبلک سکول کے ڈیڑھ سو بچوں کی موت کو انسانیت کا قتل نہیں کہا گیا اور کینیا کی گاریسا یونیورسٹی میں ایک 147 طلبا کی لاشوں کے احترام میں فیس بک نے کینیا کا جھنڈا نہیں اپنایا۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیرس کا سوگ ویسے نہ منایا جائے جیسا منانے کا حق ہے ۔وہاں بھی گیارہ سے زائد ممالک کے مختلف العقیدہ انسان بغیر یہ جانے مرے کہ کیوں مرے؟

اب ہوگا کیا؟

خود ساختہ جہادیوں کو امید ہے کہ ایسی کاروائیوں کے ردِ عمل میں جب یورپ کی مسلمان اقلیت پر قانونی، معاشی و سماجی زمین اور تنگ ہوگی تو مزید غصیلے نوجوان پکے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آن گریں گے۔

یورپی قوم پرستوں کی یہ سوچ سوچ آنکھیں چمک اٹھی ہیں کہ پہلے سے زیادہ سہما ووٹر اب انہیں پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے لے گا۔

گویا خود ساختہ جہادی بلی نے تیرہ نومبر کو پیرس میں جو چھینکا توڑا اس سے گرنے والا دودھ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد دب جانے والی تنگ نظر یورپی قوم پرستی کے لیے آبِ حیات ہے۔

رہی مغرب و مشرق کی خاموش اکثریت تو پنجابی کہاوت ہے کہ بھینس بھینس ہوشیار، تجھے چور لے چلے۔

بھینس نے پلٹ کے کہا وہ بھی تو چارہ ہی دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *