پریس ریلیز،غالی صحافی اور غرض مند دانشور

mazaheer-598x400ہاتھ میں ڈھائی فٹ کی چھڑی پکڑی ہو ،سر پر سالاری کی طربوش دھری ہواور اک اشارہ ابرو سے لاکھوں جوان کٹ مرنے کے لیے بے تاب ہوں تو کج کلاہی اور فرمانروائی کا احساس چھپ چھپ کر سینے میں جگہ بنا لیتا ہے ۔پھر وہ سچ سچ نہیں رہتا جو آئین میں لکھا ہوتا ہے ،وہ حقیقت حقیقت نہیں رہتی جو دستور میں مروج ہوتی ہے ۔ممکن ہی نہیں کہ انسان طاقتور بھی ہو اور تمکنت کا اظہار نہ کرے ،یقینی ہی نہیں کسی کا قد فلک کو چھوتا ہو اور وہ آسمان کی چوٹی کا بوسہ لینے کی خواہش نہ پالے ۔
مقبول عام اور مروج تاریخ ہمیں یہی بتا تی ہے کہ مصری فرعونوںکو زیست میں ہر خواہش اور آسائش حاصل تھی ۔وہ انسانی گردنوں پر اقتدار و اختیار رکھتے تھے اور احکام و فرامین ان کی شہ پر سانس لیتے تھے ۔کہا جاتا ہے کہ جب دریائے نیل کی سطح مہتاب کی کرنوں سے منور ہوتی ....ان کا بجر امصر کی حسین ترین دوشیزاو¿ں کی کہکشاں میںسطح آب پر رواں دواں ہوتا ۔ہ دنیا بھر کے شیریں گیت سنتے اور دختر رز سے دل بہلایا کئے۔جوں جوں رات ڈھلتی جاتی.... نیل کی پری پر شباب آتا جاتا ....ادھر کنواریاں گل بداماں ہوتیںاور ادھر نیل کی لہریں رقص کناں ہوتیں۔ عجب سمے اور سماں ہوتا یارو! زن،زر، زمیں ،شراب و کباب ،نشہ اقتدار اور رعونت شاہی .... کیا کچھ تھا جو انہیں حاصل نہ تھا ؟جی نہیں! تھی ان کی بھی اک حسرت تھی کہ وہ خدا نہیں تھے۔ قیاس چاہتا ہے اے کاش!مصری اخناتون کا فرعون اعظم بیسویں صدی میں جنم لیتا اور بادشاہت کی بجائے جمہوریت کے شعور میں پرورش وپرداخت پاتاتو شایداس کے جی میںخدا بننے کی حسرت کا کانٹا نہ چبھا ہوتا۔
کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد پریس ریلیز نے عجب دھماچوکڑی اور ہلچل مچائی ہے۔کیا عجب آمریت کی چوکھٹ کے چوکیدارمچل جائیںاور دلیل لائیںکہ عسکری قیادت کی تنبیہ میںآخر برائی کیا ہے؟مصیبت اور مسئلہ یہ ہے کہ 18 کروڑ ٹھنڈی نعشوںمیں پختون زادے محمود اچکزئی ایسے لوگ بھی بے پایاںجو صدق دل سے جانا کئے کہ چھاو¿نی والوں کوکالونی والوں کے معا ملات میں مداخلت زیب نہیں دیتی کہ جوذرہ جہاں ہے وہیںآ فتاب ہے۔
بن لادن کی ہمارے آنگن میںموجودگی ہو کہ کارگل کی چنگاری جو ہماری انگیٹھی سے ہی اٹھی اور اس نے سب کچھ جلاکرخا کستر کر دیا یا پھر گئے وقتوں میںسقوط ڈھاکہ ایسا دلخراش سانحہ کہ جس کی مات اور موت مدت تک یاد رہے گی.... تب تو تمام سیاسی قیادتیں عسکری قیادتوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا اور ہاتھوں میںہاتھ ڈال کر کھڑی تھیں۔تب تو کسی سیاسی مرکز سے پریس ریلیز کی نشرو اشاعت نہ ہوئی تھی کہ پیشہ وارانہ کارکردگی پر توجہ دو ،اپنے فرائض کو جانو اور اپنی حدودو قیود کو پہچانو کہ آزادی کے ثمرات ضائع ہونے کا اندیشہ اور وسوسہ ہے۔اس وقت کی پاکی جادونگری میں سامری جادوگرکے جنتر منتر کا مہیب خوف اپنی جگہ....اور اس کا اقرار واعتراف بھی بجا اور برحق....لیکن اس کے ساتھ تہہ میں چھپی ہوئی ایک حقیقت یہ بھی کہ تب سیاسی قیادتوں کے دماغ کے نہاں خانوں میںشعور کا جرثومہ بھی تھا کہ یہ ہمارا کام نہیں۔وزارت دفاع کے سیکرٹری کا یہ منصب ہے کہ دفاعی اداروں کی خبر لے ۔
ا ن کتابی اوراصولی حقائق پر ہمارے سماج میں فاتحہ اس لیے پڑھی گئی کہ پریس کے کچھ پیروں نے اس پر پھول چڑھائے ہیں۔آج کل پھر سے اس مزار پر خوب جمگھٹا لگا ہے اور کھوے سے کھوے چلتا اورکندھے سے کندھا چھلتا ہے۔گور کنارے بیٹھے کچھ غالی صحافی آج بھی یہی لکھنے چلے ہیںکہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میںغلط کیا ہے؟اب کون سمجھائے کہ باباسپہ سالار کا یہ میدان نہیںکہ وہ سیاسی معاملات میں رائے زنی کرے کہ اس کے جوہر تو محاذ جنگ میں کھلتے ہیں۔
نصف صدی سے زائد عرصہ صحافت میں جھک مارنے کے بعد بھی اگر کسی کو سیاسی اور عسکری معاملات میں اختیارات کے توازن کا پتہ نہ ہو تو پھر کیا کہئے؟کہئے کہئے کہ ”بارہ برس دہلی میں رہے ،پھر بھی بھاڑ جھونکا کئے“۔پاک سر زمین پر کچھ غالی صحافی جو چراغ سحری ہیں.... آئے روزسبکدوش ہونے کا شگوفہ چھوڑتے رہتے اور کچھ تو جوڑوں اور ہڈیوں کے درد کی بدولت دماغی طور پر بھی صحت مندو تندرست نہیں رہے.... اپنے بیمار افکار کے باعث آج بھی خام ذہنوں اور نوخیزنسل کو فکری طور پر پراگنداکرنے میں غلطاں وپیچاں ہیں۔ بقول شیخ ناظم حقانی 80سال کی عمر میں تو فرشتے بھی قلم اٹھا لیتے ہیں۔ کیا یہ لوگ بھی اس مرحلے اور مقام پر آن پہنچے ہیں کہ کراماًکاتبین اور منکر نکیر بھی ان سے بے نیاز ہوئے؟ کہ جو چاہیں فضول و مجہول اور لایعنی لکھتے پھریں۔
ہمارے ہاں اصولی حقیقت پر عملی حقیقت کو فوقیت دینے میں ان غرض مند دانشوروں کا بھی بہت ہاتھ رہا ہے اور یہ عملی حقیقت کے ساتھ ہر بار آن ملتے ہیں کرکر لمبے ہاتھ۔ دنیا میں سات ارب انسان اگر مل کر بھی جھوٹ کو سچ ثا بت کرنے پر تل جائیں تو بھی سچ کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سچ ہوتا ہے ۔خواہ ان غالی صحافیوں اور غرض مند دانشوروں کی طرح پوری دنیا مل کربھی سچ کے خلاف گواہی دیتی پھرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *