داعش کی پشت پناہی عرب آمریتیں کر رہی ہیں: توکل کرمان

Generated by IJG JPEG Library

یمن کی نوبل انعام یافتہ خاتون رہنما توکل کرمان نے یورپ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں داعش کی دہشت گردی کے لیے آمرانہ عرب حکومتوں نیز علاقائی اور عالمی طاقتوں کے گھناﺅنے ہتھکنڈوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ سٹراس برگ میں کونسل آف یورپ کے ورلڈ فورم فار ڈیموکریسی سے خطاب کرتے ہوئے توکل کرمان نے کہا کہ پیرس میں دہشت گرد حملوں کی ذمہ دار وہ حکومتیں اور قوتیں ہیں جو داعش کی مالی مدد کرتی ہیں۔
2011ءمیں امن کے لیے نوبیل انعام جیتنے والی توکل کرمان نے کہا کہ وہ پرامن عرب عوام کی طرف سے اہل فرانس کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہیں ۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردوں کے جرائم اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے ۔مسلم برادری کا دہشت گردافعال سے کوئی تعلق نہیں۔ ان گھناﺅنے واقعات کے ذمہ دار وہ علاقائی اور عالمی ٹولے ہیں جو دہشت گردوں کی مالی مدد کرتے ہیں اور سیاسی طور پر ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ انہوں نے حاضرین کو تجویز دی کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیں کیونکہ مشرق وسطیٰ میں قائم آمرانہ حکومتوں کو سمجھے بغیردہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ داعش کے جرائم سے کن قوتوں کو فائدہ پہنچا ہے اور اس کا نقصان کسے اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ دہشت گردی سے آمرانہ حکومتوں اور جابر ریاستوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جنہوں نے دہشت گردی کا ہوا کھڑا کر کے عرب بہار اور نوجوان عربوں کے خوابوں کو tawakal karnaکچل ڈالا ہے۔
توکل کرمان نے 2011 ءکے واقعات کی طرف اشارہ کیا جب تیونس، مصر ، یمن ، شام اور لیبیا کے عوام آمرانہ حکومتوں کے خلاف پرامن جدوجہد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس دوران میں دہشت گردی کا کوئی ایک بھی واقعہ پیش آیا۔ کیا ان ممالک میں القاعدہ یا داعش کا کوئی وجود تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چونکہ عوام کی آواز زندہ تھی اس لیے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کے سامنے آنے سے عرب عوام کی جمہوری امنگیں کچل دی گئی ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آمرانہ حکومتوں نے اپنے مفاد میں یہ گھناﺅنا کھیل کھیلا ہے۔
توکل کرمان نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان معصوم لوگوں پر تیسری دفعہ ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے انہوں نے جابر اور آمرانہ حکومتوں کا ظلم سہا ۔ پھر انہیں دہشت گردوں نے نشانہ بنایا اور اب اگر مہذب دنیا بھی ان پر دروازے بند کر لیتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم انہیں آمریتوں کے بوٹ تلے یا دہشت گردوں کے چھرے تلے مرنے کا حکم دے رہے ہیں۔
1979ءمیں پیدا ہونے والی توکل کرمان عرب دنیا کی معروف ترین خاتون صحافی ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی کارکن ہیں اور انہوںنے یمن کی جمہوری تحریک میں رہنما کردار ادا کیا تھا جس پر انہیں 2011 ءمیں دو خواتین کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *