انجمن حقوق شوہراں

Ajmal Shahdinکچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی طرف توجہ آپ ہی مبذول کر لیتی ہیں اور بقول شخصے انہیں پڑھ کر پیسے پورے ہو جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک خبر ہمسایہ اور سابق دشمن ملک بھارت سے آئی ہے۔ خبر کے مطابق بیویوں کے ستائے ہوئے شوہروں نے بیویوں کے ظلم و ستم اور بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے اپنی ایک علیحدہ تنظیم قائم کر لی ہے جہان ان کے مسائل حل کرنے اور انہیں بیویوں کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے قانونی امداد کی فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم ایک ایسے شوہر 87 سالہ اے کے سنگھ نے قائم کی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ان کو اپنی بیوی سے کوئی خطرہ لاحق نہیں رہا لیکن یہ ایسا دعویٰ ہے جو گھر سے باہر آنے کے بعد تقریباً ہر شوہر کرتا ہے اور یقینا ہر ایک ہی جھوٹ بول رہا ہوتا ہے۔ خیر آمدم برسرمطلب، مسٹر اے کے سنگھ کو وکیل ہیں نے بتایا کہ انہیں بھارت کے مختلف علاقوں سے روزانہ سینکڑوں فون موصول ہوتے ہیں جن میں بیویوں کے ستائے ہوئے شوہر اپنی بپتا سناتے ہیں۔ ان کے اسی طرح کے فون سن سن کر مجھے 1994 ءمیں یہ تنظیم قائم کرنے کا خیال آیا اور اب اس کے ہزاروں ممبر بن چکے ہیں۔
خوبی قسمت سے جب میں نے 2001ءمیں انجمن حقوق مرداں کے عنوان سے کالم لکھا تھا اس کے پیش نظر بھی تقریباً یہی مقاصد تھے اور اس میں، میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ خواتین کے حقوق کے بڑھتے ہوئے غلغلے اور Employer equal oppurtunity کے نام پر مردوں کے معاشی استحصال کی روک تھام کے لیے اب مردوں پر لازم ہو چکا ہے کہ وہ اپنی انجمن حقوق مرداں قائم کریں۔ اس کے بانی اراکین میں، میں نے محترمہ عاصمہ جہانگیر اور محترمہ عابدہ حسین کی شمولیت کی تجویز بھی پیش کی تھی کہ وہ بھی خواتین نما مرد ہی ہیں لیکن اب اداکارہ نرگس کے مردانہ چھلانگ مارکہ رقص کو دیکھ کر یہ خیال آتا ہے کہ ان کا نام نامی کیوں شامل نہ کیا؟؟
خیر قصہ مختصر مجھے اس کالم کی پذیرائی کا اندازہ نہیں تھا لیکن کہتے ہیں کہ جو بات دل سے نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے۔ کچھ ایسا ہی میرے اس کالم کے ساتھ ہوا۔ پہلے تو میرے چند صحافی دوستوں نے مجھے اس پر داد دی لیکن ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی کہ میں اس خراج تحسین سے ”بھابھی جان“ کو مطلع نہ کروں کہ آخر انہوں نے ”ابھی گھر میں رہنا ہے۔ ہمارے دوست شہزاد خان جو یک نہ دو بلکہ تین شد ہیں (انہیں تین ”تھانے داروں“ کی تفتیش بھگتنا پڑتی ہے)وہ اس کالم سے بے حد خوش ہوئے تاہم ہدایت انہوں نے بھی کی۔ پھر سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ اردو طنزومزاح کے انسائیکلوپیڈیا میں بھی میرے اس کالم کو شامل کر لیا گیا۔ غالباً اس کے مو¿لف خود بھی بیوی کے ستم گزیدہ تھے۔ بہرحال یہ کالم بے حد لکی ثابت ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی سے ہمدردی کرنے کا بھی اجر ملتا ہے۔
میرے خیال میں اب وہ مناسب وقت آگیا ہے کہ یہ انجمن حقوق شوہراں پاکستان میں بھی قائم کر دی جائے۔ آخر یہ پاکستانی شوہروں کا بھی تو مسئلہ ہے۔ وہ بھی تو”تھاپے“ اور ”ڈوئی“ جیسے خوفناک ہتھیاروں سے اپنی درگت بنوا بنوا کر تھک چکے ہیں اور سوچتے ہیں کہ آخر جائیں تو جائیں کہاں؟ اہل دل کی رہنمائی کے لیے ہم اس تنظیم کا ایک خاکہ پیش کیے دیتے ہیں جو ہم نے بہت سی این جی اوز کے بروشر پڑھنے کے بعد اخذ کیا ہے۔
اغراض و مقاصد:
(i ) پاکستان بھر کے مظلوم اور بیویوں کے ستم گزیدہ شوہروں کی اخلاقی و قانونی امداد
(ii ) ملک کے اس مظلوم ترین طبقے کو بیویوں کے ظلم و ستم سے بچانا خصوصاً ”تھاپے“ اور ”ڈوئی“ جیسے خوفناک ہتھیاروں کے بے چارے شوہروں پر بے دردانہ استعمال کی غلط رسم کو ختم کرنا۔
(iii ) شوہروں کو ظلم وستم سے بچانے کے لیے باقاعدہ خصوصی قوانین کو منظور کروانا تاکہ بیویاں شوہر سے نہ ڈریں تو کم از کم تعزیرات پاکستان سے ہی ڈر جائیں۔
(iv )مظلوم شوہروں کو آواز اٹھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا۔
(v ) ان بے چارے شوہروں کی غم ناک روداد کو کتابی شکل میںشائع کرانا جن پر بیویوں نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے ہوں۔
(vi ) شادی سے قبل لڑکی کے ذہنی ٹیسٹ کروانے پر زور دینا جس سے معلوم ہو سکے کہ وہ فطرتاً اذیت پسند تو نہیں اور یہ کہ وہ ”تھاپے“ کو کپڑے دھونے کا آلہ سمجھتی ہے یا خاوندوں کو ”دھونے“ کا ہتھیار۔
شرائط رکنیت:
(i ) ہر وہ مظلوم شوہر جو بیوی کے ظلم و ستم کا شکار ہو اس تنظیم کا ممبر ہو سکتا ہے۔
(ii ) زیادہ نحیف و مسکین شوہروں کو ان کی بیوی کے کسی اشتعال آمیز ردعمل کے بچانے کے لیے رکنیت خفیہ بھی رکھی جا سکتی ہے۔
اجلاس :
اس تنظیم کا اجلاس اس شوہر کے گھر میں ہی کرنا مناسب رہے گا جس کی بیوی میکے کے طویل دورے پر گئی ہو تاکہ کہیں رنگ میں بھنگ ہی نہ پڑ جائے۔ مزید احتیاط کے طور پر گلی کی نکڑ پر ایک دو جاسوس بھی کھڑے کیے جا سکتے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ اس تنظیم میں کلرکوں، سپاہیوں ، سرکاری ملازمین سمیت معاشرے کے ہر طبقے سے ”بے چارے“ شامل ہوں گے بلکہ بعض ایسے احباب بھی شامل ہوں گے کہ جنہیں دیکھ کر بے ساختہ منہ سے نکلے گا ”یار تم بھی، تم تو بڑے سہراب بنتے تھے!“
سید فخر امام یا ان کی طرح کے ہی کسی نہایت مسکین شوہر کو اس تنظیم کی صدارت سونپی جا سکتی ہے اور اگر وہ محترمہ عابدہ حسین سے زیادہ ہی گھبراتے ہوں تو پھر ہمارے بزرگ دوست کالم نگار حفیظ الرحمان جو اس طرح کے دلچسپ موضوعات پر انگریزی اور اردو میں کالم لکھنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں کو بھی زحمت دی جا سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ڈر ہے ناکہ وہ کسی ”تھاپے“ یا ”ڈوئی“ کی زد میں آکر شہید ہو جائیں گے تو خیر یہ بھی ایک رتبہ بلند ہے جسے مل، سو مل گیا۔ ویسے بھی یہ ہسپتال میں جوڑوں کے درد، پھیپھڑوں کی سوزش، حرکت قلب میں تغیر، کینسر یا اس طرح کے امراض سے مرنے سے بہرحال بہت اچھا ہے۔
احتیاطی تدابیر:
1۔ جب بیگم کا ہاتھ خدانخواستہ ڈوئی، چمٹے یا تھاپے کی طرف بڑھنے لگے تو احتیاطاً دائیں بائیں ہو جائیں ورنہ یہ سکڈ میزائل بہت خطرناک ہوتے ہیں۔
2۔بیگم سے بحث سوچ سمجھ کر کریں۔ اس بحث کا نتیجہ پانی پت کی جنگ کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔
3۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘ کا نعرہ مستانہ مظلوم شوہروں یعنی آپ کے لیے بلند نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس کے جھانسے میں مت آئیں۔ یہ ہمیشہ مسکین شوہروں کو پھنسانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
آخر میں ہم اپنے دوستوں یعنی بے چارے شوہروں کو ایک احتیاطی تدبیر بتانا پسند کریں گے جس کے بعد وہ اپنی زندگی کو جہنم میں بدل سکتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ عموماً پہلی بیوی شوہر پر بہت زیادہ ظلم کرتی ہے اس لیے پہلی بیوی نہ ہی ہو تو بہتر ہے۔
(یہ کالم 2004 ءمیں شائع ہوا تھا)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *