آئیے! معیشت کی بات کریں

zeeshan hashimمعیشت سوشل سائنس کی ایک انتہائی اہم شاخ ہے - جس طرح ایک فرد کی صحت کا اندازہ علم طب سے ہوتا ہے ، اسی طرح ایک سماج کی صحت کا اندازہ بھی اس کی سیاست و معیشت سے ہوتا ہے- فرد کی بہتر صحت سے مراد ایسی حالت ہے جب اس کے تمام اعضا درست کام کر رہے ہوں ، مضبوط ہوں، ان میں باہمی نظم پایا جائے اور تمام ذہنی و جسمانی صلاحیتیں زیادہ سے زیادہ پیداواری (Productive ) ہوں ۔ بالکل اسی طرح ایک بہترین سماج وہ ہے جس میں تمام افراد آزادی سے مستفید ہو رہے ہوں، ادارے مضبوط و منظم ہوں، اور اس کی پیداواری صلاحیتیں بلند تر ہوں ۔ یاد رہے کہ پیداوار سے مراد کسی بھی میدان میں تخلیق ہے ۔ ایک موسیقار کے لیے بہترین موسیقی، ایک پینٹر کے لیے شاہکار مصوری، ایک کھلاڑی کے لیے بہترین کھیل، ایک مزدور و صنعتکار کے لیے کم محنت میں زیادہ آوٹ پٹ اور زیادہ نفع ہے تو ایک استاد کے لئے اس کے ذہین و فطین شاگرد اس کی بہترین پیداوار ہیں ۔
جب ایک فرد صحت مند ہوتا ہے تو ہم کم ہی اس پریشانی میں پڑتے ہیں کہ اس صحت مندی کے اسباب کیا ہیں ۔ جبکہ بیماری کی صورت میں یہ پریشانی بڑھ جاتی ہے کہ آخر ذہنی و جسمانی نظام میں کہاں کہاں نقص ہے، اس سے خلاصی کس تدبیر سے ممکن ہے اور کونسی دوائیں کارگر ثابت ہو سکتی ہیں ؟ یہی معاملہ معاشرے کا بھی ہے ، جب سماج صحیح خطوط پر آگے بڑھ رہا ہو تو زیادہ توجہ اس میں مزید بہتری لانے پر ہوتی ہے کہ کیسے مزید بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔ اس کے برعکس ، جب کوئی معاشرہ بیمار ہو جائے تو اس کے طبیبوں ((اہل فکر و عمل ) کے لیے یہ جاننا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر مسائل کون کون سے ہیں، ان مسائل کا جنم کن اسباب سے ہے؟ حل کیا ہیں اور ان کو کیسے عمل میں لانا ہے ؟ اگر بالفرض، تشخیص و دوا درست ثابت نہ ہوئی تو ان نقصانات کا ذمہ دار کون ہو گا؟
جس طرح ہر فرد کے طبعی مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں اسی طرح ایک معاشرہ کے مسائل دوسرے معاشرے سے بھی مختلف ہو سکتے ہیں ۔ یوں علاج بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ جس طرح دمہ کے مریض کو کینسر کی دوا نہیں دی جا سکتی اسی طرح آمریت زدہ منتشر معاشرہ میں محض معاشی مسائل حل کر کے 1صحت مند سماج کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا ۔
اس تحریر میں دو تصویریں شامل کی گئی ہیں ، جنہیں کچھ دوستوں کے حکم پر ترتیب دیا گیا ہے - یہ ایک مکمل لسٹ ہر گز نہیں مگر خاکسار نے اپنے مطالعے میں معیشت کی جن کتابوں کو اہم سمجھا ہے، ان کا ذکر کر دیا ہے (ممکن ہے کہ اور بھی اہم ترین کتابیں ہوں ، جنہیں میں پڑھنے اور ان کا صحیح تجزیہ کرنے میں ناکام رہا ہوں )، کتابوں کی درجہ بندی (لسٹ میں اول دوم اورسوم ) کسی باقاعدہ معیار پر نہیں کی گئی جو کتاب اہم محسوس ہوئی اسے لکھ دیا بغیر یہ فکر کئے کہ چارٹ میں اول نمبر پر آ رہی ہے یا آخر میں ۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے میری دانست میں قاری میں یہ قابلیت ضرور پیدا ہو جائے گی کہ وہ سمجھ سکے کہ فرد و سماج کی معیشت کیا ہے اور یہ کیسے ترقی کرتی ہے؟ بعض معاشرے امیر و خوشحال کیوں ہیں اور بعض غریب و بدحال کیوں؟ ہمارے معاشی مسائل کون کون سے ہیں اور ان کے حل میں کونسی کونسی تجاویز معقول ہیں؟ اور معیشت کا سیاست، شخصی آزادی اور دوسرے ان گنت امور سے کیا تعلق ہے ؟ وغیرہ وغیر.... امید ہے آپ بھی دلچسپ کتابوں 2کے بارے میں رہنمائی فرمائیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *