ایک آنٹی ، ایک خواجہ اور ایک چوہدری

muhammad Shahzadکچھ دوست ہوتے ہیں جو دانستہ یانا دانستہ طور پر رنگ میں بھنگ ڈالنے کے فن میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ مثلاً فلمسٹار آنٹی میراکو ہی لے لیں۔ جب وہ کرکٹ والا لونڈا ۔کیا نام ہے اس کا؟ ہاں عمر اکمل.... جب یہ چھوکرا ایک تقریب میں رنگ رلیاں مناتے پکڑا گیا تو آنٹی میرا میدان میں کود پڑیں اس بالک کی پاکدامنی کی گواہی دینے۔ میڈیا کو بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ بچہ انتہائی شریف ہے۔ کسی قسم کی برائی نہیں ہے۔ نماز پنجگانہ باقاعدگی سے ادا کرتا ہے۔ صوم و صلوة کا پابند ہے۔ میری یعنی آنٹی میرا کی بے حد عزت کرتا ہے۔ یقینا کسی حاسد نے اس کی شراب میں کچھ گولیاں ملا دی ہوں گی جس کے سبب بہک گیا اور غل غپاڑا کر بیٹھا! ایسے دوستوں کے ہوتے دشمنوں کی کیا ضرورت ؟ چھوکرا یقینا سوچتا ہو گا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر آنٹی چپ ہی رہتی۔
کچھ ایسا ہی ہمارے وزیرِ دفاع خواجہ آصف بھی سوچتے ہوں گے۔ موصوف نے آگ پرپانی ڈال کر سول ملٹری تناﺅکے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ایسے قابو کر لیا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ جب ہر سو یہ چرچے تھے کہ بادشاہ تو ننگا ہے، خواجہ آصف کے مدبرانہ بیان نے سب کی زبانیں گنگ کر دی تھیں۔ بادشاہ بھی ننگا رہا اور ننگ کے عینی شاہدین کو سلیمانی پوشاک بھی دکھائی دینے لگی۔ خواجہ صاحب کے میدان میں کودنے سے پہلے ہر مراثی اور اتائی ایک ہی سرگم کا پلٹا اروہی امروہی میں بے سر اور بے تال میں الاپ رہا تھا کہ آرمی چیف کا دورہ جمہوریت کی اساس کے منافی ہے۔ یہ جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ ابھی ابھی تو وزیرِ اعظم امریکہ سے لوٹے ہیں۔ اور اس سمے چیف کا جانا جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
خواجہ صاحب فائر بریگیڈ کے عملے کی طرح تاخیر سے پہنچے۔ جب چیف کا دورہ تقریباًاختتام پذیر ہونے کو تھا خواجہ صاحب نے بیان داغا کہ آرمی چیف کو دورہ کرنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسا سچا بیان شاید ہی کسی سیاستدا ن نے دیا ہو۔ ایسی تان سینی تہائی ماری کہ سب مراثی اتائی لے سے باہر ہو گئے۔ ظلِ الہی نے تو امریکہ میں ہی واہ واہ کہا ہو گا۔ نہ جانے بیٹھے بٹھائے کیا سوجھی ہمارے وزیرِ داخلہ جناب چوہدری نثار صاحب کو کہ یہ تان بلند کی کہ چیف کی کیا مجال کہ وزیرِ اعظم کی اجازت کے بغیر کہیں جا سکے۔ دورہ امریکہ کی منظوری وزیرِ اعظم نے ہی دی تھی اور اس دورے سے پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔
یہ بیان سن کر یا پڑھ کرخواجہ آصف کی بھی وہی کیفیت ہوئی ہو گی جو کرکٹ والے چھوکرے کی تھی۔ بیڑہ غرق ہو ایسے دوستوں کا جن کی زبان ہی تالو سے نہیں لگتی۔ چوہدری صاحب یہاں تک ہی رہتے تو پھر بھی بات سنبھل جاتی۔ تان کی بڑھت کرتے ہوئے فرمایا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناﺅ نہیں۔ یعنی شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر موجود ہیں اور غٹاغٹ پانی پی رہے ہیں۔ اور جو اس بات کو نہ مانے وہ کافر۔
چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر، کٹنا بہرحال خربوزے کو ہی ہوتا ہے۔ اگر ایک ہی بیان پر اکتفا کیا جاتا ۔ خواہ وہ خواجہ صاحب کا ہوتا یا چوہدری صاحب کا۔ گھر کی عزت گھر میں ہی رہتی۔  گھر کے بھیدیوں نے ہی پول کھول دیے۔ معلوم نہیں کب وہ دن آئے گا جب ہمارے سیاستدان سنجیدگی اور متانت پیدا کریں گے۔ ان کے بیانات پڑھنے کے بعد اعلیٰ پائے کی کامیڈی بھی پھیکی لگتی ہے۔ ہمارے وزیرِ اعظم صاحب کو یہ قلق ہے کہ آرمی چیف انہیں گھاس نہیں ڈالتا۔ الٹا دولتی مار دیتا ہے۔ مشرف کو دیکھو کتنا احسان فراموش نکلا۔ آرمی چیف بننے کے لائق ہر گز نہ تھا۔ میاں صاحب اور چوھدری صاحب نے مہربانی کی۔ چیف بنایا تو ان ہی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ میاں صاحب کے بھاری مینڈیٹ والی سرکار اس طرح ہوا میں اڑا دی جیسے انار کلی نے جہانگیر کے نایاب کبوتر اڑا دیے تھے۔ صرف بیان بازی سے فوج کو تھلے نہیں لگایا جا سکتا۔ چوہدری نثار کا بیان تاریخ میں ایک اچھے سیاسی لطیفے کے طور پر تو یاد رکھاجا سکتا ہے مگر اس سے عوام میں یہ تاثر نہیں اجاگر کیا جا سکتا کہ فوج اور حکمرانوں کی خوب گاڑھی چھن رہی ہے۔ میاں صاحب سے گذارش ہے کہ آرمی چیف کو بھول جائیں پہلے اپنے وزیروں کو نتھ ڈالیں۔ آپ خود تو اتنی مدبر ہستی ہیں مگر آپ کے رتن مضحکہ خیز بیانات داغ کر خواہ مخواہ آپ کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ ایک عرض اور ہے۔ آپ اپنی آدھی معیادِ حکومت مکمل کر چکے ہیں مگر آپ کو اس وقت تک کوئی ڈھنگ کا وزیرِ خارجہ میسر نہیں ہوا۔ اگر آرمی چیف کے دوروں سے ملکی وقار بلند ہوتا ہے تو گذارش ہے کہ انہیں ہی وزیرِ خارجہ کا اضافی چارج دے دیں۔ یہ فریضہ تووہ پہلے ہی نبھا رہے ہیں بنا کسی قلمدان کے۔ قلمدان ان کے حوالے کرنے سے آپ یکسوئی سے ملک کے کونے کونے میں میٹرو اور موٹروے کا جال بچھا سکیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *