اوریامقبول.... ادھر آﺅ لے لوں بلائیں تمہاری

ali usman qasmiاوریا مقبول جان کا کالم بعنوان ”آبلے پڑ گئے زبان میں کیا“ روزنامہ ایکسپریس میں 27 نومبر 2015 ءکو شائع ہوا۔ حسب معمول انہوں نے لبرل دانشور طبقے کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے گلہ کیا کہ یہ طبقہ روز اول سے پاکستان کے وجود کے خلاف رہا ہے۔ اس کی وجہ وہ یوں بیان کرتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر قومیت کا تصور (اور اس پر علیحدہ ریاست کا مطالبہ) چونکہ ان دانشوروں کی کتابی تھیوریوں کے برخلاف ہے۔ اس لیے انہیں پاکستان کا قیام کھٹکتا ہے اور یہ پچھلے ستر سال سے ملک کے ٹوٹنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ میں اوریا مقبول جان کے کالم پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی ان کے استدلال اور مذہبی تاریخی مغالطوں (جیسا کہ ہندوازم پر تبصرہ اور جرمن قوم کا برطانیہ کے ساتھ تعلق) میں الجھنا چاہتا ہوں۔ میں چند سیدھے سادھے سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔
اوریا نے کہا ہے کہ ہندوستان میں مودی کی ہندو انتہا پسند سرکار نے دو قومی نظریے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’نریندر مودی نے وہ کام کر دکھایا ہے جو برصغیر کے مسلمان گزشتہ 67 سال سے نہ کر سکے۔ اس نے دوقومی نظریے کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ اس میں نئی روح پھونک دی۔ اس نے ثابت کر دیا کہ مسلمان بنگالی ، مراٹھی، گجراتی ، اردو یا ہندی بولے وہ صرف اور صرف مسلمان ہے، قابل نفرت ہے، واجب القتل ہے‘۔
گویا اوریا مقبول جان کے نزدیک ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مسلمان دشمنی اور انتہا پسندی ایک ایسا عمل ہے جس سے نظریہ پاکستان کو تقویت ملتی ہے یعنی ہندوستان کے مسلمان پر جتنا ظلم ہو گا، ہماری نظریاتی اساس اتنی زیادہ پختہ ہو گی۔ جتنے مسلمان دنگوں اور فسادات میں مارے جائیں گے ۔ اتنا ہی ہم سب پر واجب ہو گا کہ اچھل اچھل کر ’ دو قومی نظریہ زندہ باد‘ کے نعرے لگائیں۔
باالفاظ دیگر ہندوستانی مسلمانوں کی ابتلا اور آزمائش ہمارے ملک کے وجود کی دلیل ہے۔ اگر یہ ابتلا اور آزمائش ختم ہو گئی تو ہمارے ملک کی نظریاتی اساس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سو شاید ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ ہندوستان پر ہمیشہ مودی سرکار جیسی سرکار رہے اور ہندو انتہا پسندوں کا غلبہ رہے وگرنہ پاکستان کی نظریاتی سالمیت کو خطرہ ہو گا۔
اوریا مقبول جان کو شاید علم ہو گا کہ 1941 ءمیں لاہور میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اکثریتی صوبوں کے سات کروڑ مسلمانوں (اس وقت کی آبادی کے مطابق) کو بچانے کے لیے اگر اقلیتی صوبوں کے دو کروڑ مسلمان برباد بھی ہو جائیں تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ یہ دو کروڑ بڑھ کر پندرہ کروڑ کے لگ بھگ ہو چکے ہیں۔ان پندرہ کروڑ مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے اور لبرل دانشور طبقہ قیام پاکستان کی افادیت اور اس کی نظریاتی اساس کی حقانیت کا قائل نہیں ہوتا۔ کس قدر افسوس کی بات ہے!

اوریامقبول.... ادھر آﺅ لے لوں بلائیں تمہاری” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *