تشریح کے مضمرات اور داؤد رہبر

writerاسلام سے متعلق تعلیمی اور عالمانہ نقطہ نظرکو بے حُرمتی کا فعل قرار دیا جانا قیامِ پاکستان کے وقت سے جاری ہے۔
لمز کی ادبی تنظیم کے نعمان الحق، انجم الطاف اور اطہرمسعود کی جانب سے منظم کردہ ایک حالیہ ادبی اجلاس نے ماضی میں جھانکتے ہوئے داؤد رہبر کو یاد کیا جن کی چندماہ قبل ہونے والی وفات کو پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کسی جگہ بمشکل ہی رپورٹ کیا گیا۔
1926ء میں پیدا ہونے والے داؤد رہبر کئی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہیں عربی اور فارسی کی تعلیم ان کے قابل والد ڈاکٹر محمد اقبال (جنہیں اکثر لوگ غلطی سے علامہ محمد اقبال سمجھ لیتے ہیں۔) نے دی۔ رہبر نے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جہاں سے انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد اوربوسٹن یونیورسٹی میں تقابلِ ادیان کے ایک پروفیسر کے طور پر باقاعدہ پڑھانا شروع کرنے سے پہلے، رہبر نے دنیا کے مختلف ملکوں میں پڑھانے میں وقت صرف کیا۔1990ء کی دہائی کے شروع میں ، بوسٹن سے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد، رہبر فلوریڈا منتقل ہو گئے۔یہاں وہ 5اکتوبر 2013ء کو وفات پا گئے اوراس کے تھوڑے ہی عرصے بعدفراموش کر دئیے گئے۔
داؤدرہبرکلاسکس کی روایت میں شامل علماء کی نسل کی باقیات میں سے تھے۔وہ علوم و فنون کے ایک وسیع سلسلے میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ اردو، فارسی اور عربی شاعری کے اپنے علم کے حوالے سے انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ شمالی ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی پر دسترس رکھتے اور ایک خطاط بھی تھے۔ بوسٹن یونیورسٹی میں اپنے طلباء اور ساتھی اساتذہ کے ساتھ وہ ایک فارسی نشست کا اہتمام کرتے، جہاں وہ مختلف ممالک کے ذائقوں والے کباب بھی پکایا کرتے۔ لیکن شاید انہیں ان کے کئی جلدوں پر مشتمل خطوط کے اس مجموعے کے سبب یاد رکھا جائے گاجو انہوں نے سینکڑوں لوگوں کو کئی عشروں تک لکھے اور احتیاط سے ان خطوط کی ایک نقل اپنے پاس بھی رکھا کرتے۔
داؤد رہبر کو 1958ء سے ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔ ان کے متعلق خالد احمد نے اپنی کتاب، ’’پاکستان: نظریاتی نقاب کے پیچھے‘‘میں تفصیل سے لکھا ہے۔رہبر کو پنجاب یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی اسلامی سیمینار (جس میں افتتاحی لیکچر سکندر مرزا نے دیا تھا) میں ایک مقالہ پڑھنے کے لئے بلایا گیا۔یہ سیمینار 29دسمبر 1957ء سے8جنوری1958ء تک جاری رہا۔ اس کانفرنس میں رہبر نے ’’مسلم معاشرے کو جدید نظریات اور سماجی اقدار سے لاحق چیلنج ‘‘ کے موضوع پر مقالہ پڑھا۔اس مقالے میں رہبر نے ایک تحریر کے طور پر قرآن سے متعلق غالب مکاتیبِ فکرکا ایک تاریخی جائزہ لیا۔رہبر قرآن کی تحریر کو سمجھنے کے عمل میں اسبابِ نزول کو ایک اہم عامل کے طور پر اہمیت دئیے جانے پر زور دینے کی کوشش کر رہے تھے۔
’’ایسی کسی سوچ کا فقدان‘‘، انہوں نے دلیل دی، ’’قرآن کو کسی ایسی کتاب تک محدود کر دیتا ہے جو شایدپیغمبر نے ایک ہی بار ایک اخلاقیات کی کتاب کے طور پروصول کی تھی۔‘‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ان تحفظات کے بھی معترف تھے جو کچھ مسلمان مقدس کتاب کو پڑھنے کے لئے ایسے نقطہ نظرکو اختیار کرنے سے متعلق رکھتے تھے۔ پہلی بات تو یہ تھی کہ قرآن حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تحریر کیا گیا، دوسری یہ کہ قرآن کی ہر آیت ہر وقت لاگو نہیں ہوتی اور یہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں درپیش حالات کے مطابق نازل ہوتیں۔ دوسرے لفظوں میں، بظاہریہ نقطہ نظر تجویز دیتا ہے کہ قرآن کی کئی باتیں یا تحریر، مخصوص وقتی حالات سے متعلق ہے اور یوں یہ نقطہ نظرقرآن کی عالمگیریت سے متعلق سوال اٹھا تا محسوس ہوتا ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ داؤد رہبرکا مقالہ ایسی سوچ یا سوال کوسراہنے کی بجائے اس کو مستردکرنے کی ایک کوشش تھا۔اس نے اس مقالے میں لکھا تھا: ’’قرآن کی عظمت، اس کے نظریات اور اس کی اصطلاحات اور اس کے حرف بہ حرف مفہوم اور تاریخی تحریر کو پہچاننے پراعلیٰ ترین مانی جاتی ہے۔‘‘
اس طرح ان کی جانب سے قرآن کو اسبابِ نزول کو استعمال کرتے ہوئے محدود کرنے کی کسی بھی شکل میں کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ایسی سوچ رکھنے والوں کواس قابل بنائیں کہ وہ قرآن کی عالمگیریت اور اس کی تحریر کو مکمل طور پر سمجھ سکیں۔
رہبر نے یہ دلیل بھی دی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بائبل کی کہانیوں کا پہلا علم بھی رکھتے تھے جیسا کہ اس وقت عرب میں رہنے والے عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے ان کی نہایت باریک موضوعات پر بات ہوا کرتی تھی۔ رہبر نے کہا، ’یہ بات، اس صورتِ حال سے زیادہ غیر مشابہہ نہیں ہے کہ جس میں رہنے والے پاکستانی ہندوؤں کی الہامی کتابوں کی کہانیوں کو جانتے ہیں باوجود اس کے کہ انہوں نے ان کے متعلق باقاعدہ علم حاصل نہیں کیا ہوتا۔لیکن ان بائبل کی کہانیوں کا وہ علم ، اس علم سے مختلف تھا، جو انقلابی زبان میں ، مزید واضح مفہوم اورمزید خوبصورت الفاظ کے ساتھ نازل ہوا۔‘‘ اسے بھی بعض لوگوں کی جانب سے مذہب کی توہین سمجھا گیا۔
کانفرنس کے دوران رہبر کے مقالے نے خاصا اشتعال پیدا کیا اور اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔بعد ازاں، رہبر نے اپنے مقالے کے ترمیم شدہ مسودے میں اپنے مؤقف کی وضاحت کی، جسے ’’دی مسلم ورلڈ‘‘ نے شائع کیا۔ مقالے کے شائع شدہ مسودے میں ، داؤد رہبر نے واضح کیا کہ وقت کی کمی کے سبب، وہ اپنا مفصل مقالہ پیش نہ کر سکے، جس نے غالباً خاصی غلط فہمی پیدا کر دی ہے۔
وفد کے لوگوں اور نقادوں میں سے کچھ، رہبر کے دلائل میں موجود معنی کے باریک فرق کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔ رہبر نے اس تنقید کو دل سے لگا لیا۔ اس نے رہبر کی ذات کے اندر ایک روحانی بحران پیدا کر دیاجو اسے ایک ایسے راستے پر لے گیا کہ جس کا انجام رہبر کے بپتسمہ لینے (عیسائیت اختیار کرنے) پر ہوا۔ لیکن یہ اس کی زندگی کا صرف ایک دور تھا۔اس کے شائع شدہ مقالات سے جمع شدہ واقعات اور اس کے قریبی عزیزوں(جیسے کہ اعجاز حسین بٹالوی اور نعمان الحق) کی دی گئی اطلاعات کے مطابق داؤد رہبر اس سے بھی آگے گیا۔وہ بہت زیادہ تنہاء ہوتا گیا۔ اس تجربے کے بعد اس نے کبھی پاکستان کا دورہ نہ کیا۔اس نے سنجیدہ علمی تحریریں تقریباً ترک کر دیں اور اپنے آپ کو تخلیقی فنون اور تحریروں میں گم کر دیا ۔
پاکستان کی تاریخ داؤد رہبر کی کہانی جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
ایسے واقعات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ علمی روایات کا بتدریج زوال، پاکستان کی تخلیق کے فوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ہمارے یہاں 1971ء سے پہلے کے پاکستان (یا ضیاء الحق سے پہلے کے دور)کو بار بارجذباتی انداز میں یاد کرناایک عام رجحان بن چکا ہے۔اس وقت کے اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہونے والے شراب اور ڈانس کلبوں کے اشتہارات کی تصاویر کے ذریعے، 1971ء سے پہلے کے دور کو آزاد خیالی کے حامی دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔شاید یہی وہ وقت ہے کہ جب پاکستان کے دانش مندوں کوتاریخ سے متعلق اپنے متعصبانہ خیالات کا اور ’آزاد خیال‘ ہونے کے مفہوم کا پھر سے نہایت باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *