خواجہ سراﺅں کی آہیں

asghar nadeemجب ہم بچے تھے تو محلے میں جب بھی کسی کے ہاں بیٹا ہوتا تھا تو ہماری عیش ہو جاتی تھی۔ صبح سے رات تک خواجہ سراﺅں کی ٹولیاں ہارمونیم ، طبلے اور تالیوں کے ساتھ گانے بجانے اور رقص کرنے کا مظاہرہ کر کے اپنا انعام وصول کر کے چلی جاتی تھیں۔ ہم مسلسل اس انتظار میں اس گھر کے سامنے کئی بار چکر لگاتے تھے۔ خود ہماری اماں نے بتایا کہ جب میں پیدا ہوا تو خواجہ سراﺅں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے تھے اور ہم نے کسی کی بددعا نہیں لی۔ سب کو راضی رخصت کیا۔ کہتے ہیں کہ لڑکے کی پیدائش پر یہ ان کا حق ہوتا ہے۔ اب میں سوچتا ہوں ایسا لڑکے کی پیدائش پر کیوں ہوتا تھا۔ لڑکیوں کی پیدائش بھی تو اللہ کی طرف سے نعمت ہوتی ہے۔ پھر یہ رسم اس معاشرے میں کیوں پڑی۔ ظاہر ہے فیوڈل معاشرہ تھا یا فرسودہ روایات کا زمانہ تھا جب یہ روایت پڑی۔ یہ بھی دیکھا گیاکہ جب انہیں خوش نہیں کیا جاتا تو وہ ہاتھوں پہ ہاتھ مار کے بددعاﺅں کی بوچھاڑ کر کے اپنا حساب برابر کر کے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی بددعا لگتی ہے۔ میری ماں میری کامیابی پر کہتی تھیں گھر کے باہر تین دن خواجہ سرا ناچتے گاتے رہے تھے اس لیے تمہیں ان کی دعا لگی ہے۔ میں نے اماں سے پوچھا تھا کہ ان خواجہ سراﺅں کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کس محلے کے کس گھر میں بیٹا پیدا ہوا ہے تو وہ بتاتی تھیں کہ یہ کارپوریشن اور کمیٹی کے دفتر سے معلومات لے کر آتے ہیں۔ یہ اچھا معاشرہ تھا جب خواجہ سراﺅں کا مقام سوسائٹی نے متعین کر دیا تھا۔ یوں تو ان زمانوں میں گداگروں کا مقام بھی عزت کے ساتھ متعین ہو چکا تھا۔ کوئی گداگر بغیر کسی گن کے سڑک پر نہیں آتا تھا۔ نابینا افراد ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھے کورس میں نعت پڑھتے ہوئے آتے تھے اور بے حد سر میں ہوتے تھے۔ بازار میں موجود ہر فرد ان کو سنتا تھا۔ ان کو دل کھول کر مدد دیتا تھا اور وہ پیشہ ور گداگر نہیں تھے۔ اپنے فن کی داد لے کر چلے جاتے تھے۔ ہمارے گھر ہفتے میں ایک دن ایک گداگر اکتارہ بجا کر میرابائی کا بھجن گاتا ہوا آتا تھا۔ مجھے اس وقت میرا بائی کا کچھ علم نہیں تھا۔ وہ ایک دو منٹ گاتا تھا۔ اماں کٹو را بھر کر آٹا دیتی تھیں وہ لے کر چلا جاتا تھا۔
تاریخ میں خواجہ سراﺅں کو ہیجڑا کہا جاتا تھا۔ معلوم نہیں کس زمانے میں انہیں یہ نام دیا گیا اور پھر کس زمانے میں یہ نام بدل کر خواجہ سرا قرار پایا۔ مجھے یاد ہے اس حوالے سے ہمارے ہاں لوک روایت میں کئی تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں۔ اس وقت یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ جب پاکستان ٹیلی ویژن پر میں نے ڈرامے لکھنا شروع کیے تو میری تربیت کے دوران یہ بتایا گیا کہ ڈراموں میں مزاح پیدا کرنے کے لیے کبھی بھی خواجہ سرا کا کردار استعمال نہیں کرنا اور اگر کرو گے تو سکرپٹ ڈیپارٹمنٹ اسے کاٹ دے گا اور اس طرح میں نے کبھی مظلوم طبقوں مثلاً نرسوں، گھریلو ملازموں، خواجہ سراﺅں، سکول کے استادوں اور گداگروں کو مزاح پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا۔ لیکن افسوس ہمارے تھیٹر کی روایت جب کمزور ہوئی تو وہاں سب سے پہلے انہی طبقوں کو مزاح کا ذریعہ بنایا گیا اور اب تو یہ ہر چینل پر مزاح کی گھٹیا صورت میں موجود ہیں۔ کبھی خواجہ سرا آرٹ کے ذریعے روزی کماتے تھے۔ آج وہ بھیک مانگ رہے ہیں یا اپنی عزت بیچ رہے ہیں۔ یہ زوال کی نشانیاں ہیں مگر اسے ہم اخلاقی اور سماجی زوال کہہ سکتے ہیں۔
یہ سب باتیں ہم کیوں کر رہے ہیں۔ کل مال روڈ پر خواجہ سراﺅں کی انجمن نے بہت بڑا جلوس نکالا اور پنجاب حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ لیکن سوائے ٹریفک معطل ہونے کے کسی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ عوام آس پاس اس احتجاج کو دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ کسی کو ان کا کوئی احساس یا درد نہیں تھا۔ وہ غریب تیار ہو کر اس لیے آئے تھے، مطلب میک اپ کر کے ، بال بنا کے اور اپنے حساب سے ریشمی کپڑے اس لیے پہن کے آئے تھے کہ ان کی پہچان ہی اس طرح ہوتی ہے۔ وہ بھیک بھی مانگتے ہیں تو میک اپ کر کے ، بال بنا کے۔ رنگ برنگے کپڑے پہن کر ہتھیلی بجا کے ہر گاڑی کے پاس آتے ہیں۔ جب وہ اپنے اس حلیے میں احتجاج کر رہے تھے تو عوام یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ناٹک کر رہے ہیں۔ کوئی کلچرل شو کر رہے ہیں۔ خواجہ سراﺅں کا احتجاج کلرکوں کے احتجاج سے مختلف ہی ہو گا ناں کہ کلرک تو گلے میں سوکھی روٹیاں لٹکا کر ، چھاتی پیٹ کر احتجاج کرتے ہیں۔ کپڑے اتار کے احتجاج کرتے ہیں۔ اب خواجہ سرا تو کپڑے اتار کر احتجاج نہیں کر سکتے ناں۔ تو عوام نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ حکومت تو ویسے بھی سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ احتجاج غارت گیا۔
وہ احتجاج اپنے حقوق کے لیے کر رہے تھے کہ وہ بھی معاشرے کا ایک حصہ ہیں اور انہیں بھی زندہ رہنے کے لیے سول حقوق چاہئیں بلکہ انسانی حقوق چاہئیں۔ روزی کا حق، انسان ہونے کا حق، پاکستانی ہونے کا حق اور سب سے بڑھ کر اپنی جنس کے تحفظ کا حق۔ وہ جو بھی ہیں اس کا احترام کیا جائے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں تو بہت سے حقوق مان لیے گئے ہیں مثلاً انڈیا میں جسم بیچنے والی عورتوں کی انجمنوں نے اپنے حقوق کے لیے بہت کام کیا ہے۔ خوشونت سنگھ نے اپنی خودنوشت میں اپنا پہلا جنسی تجربہ بمبئی کے اس بازار کا بیان کیا ہے جہاں عورتیں قانونی طور پر اپنا جسم بیچتی ہیں۔ اب ذرا میرا تجربہ مسلمان ملک کا سن لیں۔ بہت پہلے جب میں ترکی گیا تو میرے ایک دوست نے وہاں کے جسم فروشی کے بازار کو دیکھنے کی فرمائش کی ۔ یہ انقرہ شہر کا واقعہ ہے۔ ہم وہاں پہنچے جہاں سرکاری طور پر ایک کمپاﺅنڈ جسم فروشی کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ اس کے اوقات سرکاری طور پر مقرر ہیں۔ رات آٹھ بجے کے بعد وہ بازار بند ہو جاتا ہے۔ ہم قریب قریب آٹھ بجے وہاں پہنچے۔ اندر گئے تو دونوں طرف کیبن بنے ہوئے تھے اور اس میں شیشے کا ایک شوکیس تھا جس میں لڑکیاں بن سنور کر کھڑی تھیں جیسے شوکیس میں کپڑے لٹکائے جاتے ہیں۔ میں تو پریشان ہو گیا کہ یہ مسلم ملک ہے۔ اتنے میں گھنٹیاں بج گئیں۔ مطلب وقت ختم ہو گیا۔ گاہک کپڑے سنبھالتے ہوئے نکل گئے۔ میں اس کمپاﺅنڈ سے باہر نکل آیا۔ میرا تو تن بدن کانپ رہا تھا۔ پھر میں نے جو منظر دیکھا وہ میری آپ بیتی کا منظر ہے وہ یہ تھا کہ میں اس پھاٹک سے باہر آکر اپنے دوستوں کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک چھوٹی گاڑی رکی اس میں ایک دو چٹیا بنائے ایک خوبصورت بچی اگلی سیٹ پر بیٹھی تھی اور اسے اس کا پاپا چلا رہا تھا جو خود بھی سمارٹ تھا۔ جب گاڑی رکی تو اندر سے ایک وینٹی بکس اٹھائے ایک لڑکی آئی اور اس گاڑی میں بیٹھ گئی اور بچی نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں ۔ یہ منظر میری روح پر چپک چکا ہے۔ میں کیسے اس سے نجات حاصل کروں۔ کوئی میرا قاری مجھے اس منظر سے نجات دلا دے۔ یہ منظر روز ہوتا ہو گا۔ جیسے وہ بچی اپنی ماں کو کسی سکول، کالج ، یونیورسٹی سے لینے جا رہی ہے۔ خاوند تو جو بھی ہو گا ترکی میں مگر بچی تو دنیا کی نظر میں ماں کو دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر بچی ماں کو ایک ورکنگ ویمن دیکھنا چاہتی ہے تو کاش اسے کبھی پتہ نہ چلے اس کی ماں کیا کام کرتی ہے۔
بات خواجہ سراﺅں کے احتجاج سے شروع ہوئی تو مجھے اپنی ماں کی بات یاد آئی کہ ان کی آہیں نہیں لینی چاہئیں۔ اب اگر ہم اپنی حکومت سے یہ کہیں کہ ان کو ان کا حق دے دیں تو وہ کیسے دیں گے۔ وہ بھیک کا حق مانگ رہے تھے اور آج کل شہر کی انتظامیہ گداگروں کو ٹریفک سگنلز سے پکڑ کر لے جاتی ہے اور دور جا کے چھوڑ دیتی ہے۔ اس طرح کئی خواجہ سرا بھی پکڑے گئے۔ اگر گداگری سے روکنا ہے تو متبادل روزگار یا کوئی اور کام دیں یا ان کے لیے کام کی تربیت کے ادارے قائم کریں۔ مظفر گڑھ کے ایک میلے میں جب ایک تھیٹر کے باہر چبوترے پر تین چار خواجہ سراﺅں نے اپنا روایتی رقص پیش کیا تو حکومت نے اپنا غصہ ایم پی اے کی جگہ ان خواجہ سراﺅں پر اتارا اور انہیں تھانے میں بند کر دیا۔ وہ کیا کر رہے تھے۔ وہی جو پیٹ بھرنے کے لیے وہ زمانہ قدیم سے کرتے آرہے ہیں۔ اگر ان کے ناچ پر پابندی ہے تو پھر بھیک سے پابندی ہٹا دو یا بتاﺅ وہ کہاں جائیں اور اگر میری ماں ٹھیک کہتی تھی تو ان کی آہیں پیچھا کریں گی۔ سرکار ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں ان کی آہیں نہ لیں۔ انہیں انسان ہونے کا حق دیں۔ مغل درباروں میں اور قدیم زمانوں کے بادشاہوں نے ان خواجہ سراﺅں کو جو اہم ذمہ داریاں دی تھیں، آپ بھی وہ ذمہ داریاں انہیں دے سکتے ہیں۔ جاسوسی کے اہم محکمے بھی ان کے سپرد تھے۔

خواجہ سراﺅں کی آہیں” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 30, 2015 at 12:49 PM
    Permalink

    میرے برادر بزرگ جو یکسر توہم پرست نہیں ہیں، بھک منگوں میں صرف خواجہ سراؤں کو بھیک دیتے ہیں. میں نے سبب پوچھا تو بتایا کہ اور جو بھی گداگر بے روزگاری کا رونا روتا ہے، اس کی بات مشکوک ہوتی ہے. یہ واحد طبقہ ہے جسے کوئی مناسب روزگار دینے کے لئے معاشرے میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے. سفید پوش روزگار کا تو ذکر ہی کیا کہ اس کے لئے تعلیم و ہنر بنیادی شرایط ہیں، جن کے حصول کے لئے ان پر تمام دروازے بند ہیں، مگر غیر ہنر مندانہ شعبوں مثلا گھریلو ملازمت، چوکیداری، چپراسی ، دکان داری وغیرہ میں بھی ان بے چاروں کی کھپت ہمارے بے بنیاد سماجی تعصبات کے سبب نہیں ہو پاتی. گزشتہ دنوں پتا چلا کہ نادرا نے کراچی میں ایک خواجہ سرا کو، جو اتفاق سے بارھویں تک تعلیم رکھتا تھا، افسر مہمانداری/ ٹیلی فون آپریٹر کی نوکری دی ہے. یہ ایک خوش آیند آغاز ہے. ان کے مسائل اور لاچاری کو بار بار، ہر سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *