نریندر مودی جی سے ڈیڑھ بات

husnain jamalمودی جی نتین یاہو سے ملے، تصویر لگا دی۔
مودی جی ڈیوڈ کیمرون سے ملے، تصویر لگا دی۔
مودی جی پرنس چارلس سے ملے، تصویر لگا دی۔
مودی جی باراک اوباما سے ملے، تصویر لگا دی۔
مودی جی میتھری پالا سری سنہا سے ملے، تصویر لگا دی۔ (سری لنکا کے صدر)
مودی جی جیکب زوما سے ملے، تصویر لگا دی۔ (ساوتھ افریقہ کے صدر)
مودی جی ایوو مورالس سے ملے، تصویر لگا دی۔ (بولیویا کے صدر)
مودی جی شنزو ایبے سے ملے، تصویر لگا دی۔ (جاپان کے وزیر اعظم)
یہاں تک کہ منگولیا کے صدر اور ہمارے افغانستان والے از دلی تا پالم قسم کے تاج دار اشرف غنی صاحب سے بھی مل کر تصویر بنائی اور ٹانک دی۔
نہیں نظر آئی تو میاں صاحب کے ساتھ اتنے طویل رازونیاز کی ایک بھی تصویر نظر نہیں آئی۔
کیوں بھئی، کیا ہم ایسے گئے گزرے ہیں کہ منگولیا کے صدر کے برابر بھی نہیں، یا آپ کے آٹوگراف بک (آپ فیس بک کہہ لیجیے) میں ہمارے وزیر اعظم کے لیے جگہ ہی نہیں بن پا رہی۔ غضب خدا کا، آج کے دن میں جتنی شخصیات سے ملے سب کی تصاویر لگ گئیں، ہماری نہ لگی۔
ایسا کیا ہے صاحب؟ آپ کے وہاں تو مارشل لا کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ کانگریس بھی اس تصویر پر کوئی خاص شور نہیں مچائے گی، تو پھر ڈر ہے کس بات کا؟
دیکھیے ایسی صورت حال میں دو باتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو اپنی موجودہ جماعت میں آپ خود کو مس فٹ محسوس کر رہے ہیں، یا، آپ جماعت میں رہتے ہوئے کچھ آزادی لینا چاہ رہے ہیں۔ ہاں، ایک تیسری بات بھی ہو سکتی ہے۔ شاید آپ یہ سمجھتے ہوں کہ میاں صاحب سے ملاقات کے وقت آپ نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی اور تمام دنیا کے کیمروں کی زد سے آپ باہر تھے۔
اگر بیان کیے گئے دو مفروضات میں سے ایسا کچھ بھی ہے تو بھئی یہ ہے تقریباً ناممکن۔ آپ کو سب سے پہلے امیت شاہ صاحب سے پیچھا چھڑانا ہو گا جو آج بھی آپ کے پرویز رشید بنے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی بات آتی ہے۔ تو قبلہ یہ بقول شخصے از قسم وہ جماعت ہے جس میں سے بندہ نکل جاتا ہے پر وہ بندے میں سے نہیں نکلتی۔ گویا یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
تو مودی بھائی، ایسا کیا مسئلہ ہے۔ آپ بات ہی کیوں کرتے ہیں ہمارے وزیر اعظم سے۔ باڈی لینگوئج آپ کی ایسی ہوتی ہے کہ ہم دیکھ دیکھ واری صدقے ہو جاتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ تصویر نہیں لگانی تو نہیں لگانی۔
سرکار، اب خوف بیچنا بند کر دیجیے۔
نفرتوں کی تجارت ختم کیجیے۔
1کچھ بھی نہیں ہو گا بھائی، صرف لوگ محبت سے آپ کے ملک کا نام لے سکیں گے۔
صدیوں سے انتظار میں گھلتے لوگ بے خوف ہو کر اپنے رشتہ داروں سے ملنے جا سکیں گے۔
پولیس رپورٹنگ ویزہ کی نحوست ختم ہو جائے گی۔
دونوں ملکوں کی ٹورازم انڈسٹری صرف ایک دوسرے سے ہی اتنا کما لے گی کہ کہیں اور دیکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
ہاں بڑی طاقتوں کا چورن بکنا بند ہو جائے گا۔ جب لڑائی ہی نہیں رہتی تو صلح کرانے والے سرپنچ کا کیا کام۔
دونوں ممالک کی فوج بھی کچھ سکون کا سانس لے سکے گی۔ صرف سیاچن کو ہی دیکھ لیجیے حضور، کبھی فراسٹ بائیٹ کے بارے میں دیکھا ہے، یہ ہوتی کیا ہے؟ گینگرین کیسے ہوتا ہے؟ یا اس سب کو چھوڑئیے، جب کوئی جوان آپ کی ضد کے چکر میں ہاتھ پاو¿ں گنوا کر آتا ہے تو کیا زندگی رہ جاتی ہے؟ (یاد رہے بات جوان کی ہو رہی ہے۔)
مگر آپ کیوں سوچیں گے بھئی۔
آپ تو بس دنیا کے ساتھ تصویریں لگائیں اور جب ہمارے میاں صاحب کی باری آئے تو کلک کرتے کرتے انگلی رک جائے، لوگ کیا کہیں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *