داعش اور بڑھک بازی کا شوق

muhammad Shahzadپاکستانی سیاستدانوں کی بڑھکیں سن کر تو یہ یقین ہو چلا تھا کہ یہ تمام حضرات سلطان راہی اور مصطفےٰ قریشی کی فلمیں بہت ہی شوق سے دیکھتے ہیں۔ اور سب نے ان کے مکالمے بھی حفظ کئے ہوئے ہیں جن کا استعمال گاہے بگاہے یہ لوگ عوامی اور ٹی وی جلوسوں میں کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ انکشاف حال ہی میں ہوا کہ امریکی اور یورپی سیاستدانوں کا شمار بھی راہی صاحب اور قریشی صاحب کے صفِ اول کے مداحوں میں ہوتا ہے جو ان دو عظیم فلم سٹارز کے مکالمے دہرانے میں کسی سے کم نہیں۔ مثلاً کچھ ہی دن پہلے فرانسیسی صدر فغانسوا اولاند (فرنچ میں Rکا تلفظ غ کی طرح ہوتا ہے اسی کارن فرانسوا نہیں لکھا) نے ایک بڑھک ماری کہ وہ داعش سے پیرس حملوں کا بے رحمانہ انتقام لیں گے۔ داعش ان حملوں کی تپش محسوس کرے گی اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ اس سے پہلے امریکی صدر اوبامہ اسی ردیف قافیے میں ایک عدد بڑھک مار چکے تھے۔ فرماتے ہیں کہ داعش کے آگے نہیں جھکیں گے بلکہ اسے چھٹی کا دوھ یاد دلا دیں گے۔ بالکل ایسے جیسے طالبان کو یاد کروایا تھا۔ اور تازہ تازہ بڑھک ہمارے انتہائی شریف النفس وزیرِ اعظم جناب میاں نواز شریف نے ماری ہے۔کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے فرانس کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بڑھک ہے یا جگت۔
نائین الیون کے حملوں میں 2996 افراد مارے گئے۔ اس وقت کے امریکی صدر نے ان حملوں کو کروسیڈ سے تشبیہ دی۔ افغانستان پر حملہ کیا گیا۔ اس بات کا تو یقین سے کسی کو بھی علم نہیں کہ کتنے لوگ افغانستان میں مارے گئے۔ لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ 2996 بے گناہ انسانوں کی موت کا بدلہ اس سے کئی گنا زیادہ معصوم بچوں، عورتوں، بزرگوں اور مردوںکو موت کے گھاٹ اتار کر لیا گیا۔ بدلے کی یہ جنگ پندرویں سال میں داخل ہونے کو ہے۔2254 امریکی فوجی (امریکی اعداد وشمار کے مطابق) مارے جا چکے ہیں۔ اب وہی امریکہ طالبان دہشت گردوں کے تلوے چاٹنے میں مصروف ہے۔ انہیں امن کے داعی کے طور پر پیش کرنے میں رات دن ایک کر رہا ہے۔ ان سے امن کا مکالمہ کرنے کیلئے مرا جا رہا ہے۔ ان پر سے پابندیاں ہٹا رہا ہے۔ان کے لئے سفارتی دفاتر قائم کر رہا ہے۔ تھوک کر چاٹنے میں امریکہ کا کوئی ثانی نہیں۔
فرانس کا امریکہ کے قیام میں کردار بہت اہم رہا ہے۔ فرانس اور سپین کی مدد سے ہی امریکہ کو برطانوی سامراج سے نجات ملی۔ لیکن آزادی کے بعد امریکہ نے بے انتہا ترقی کی۔ آجکل واحد سپر پاور کی حیثیت میں جانا جاتا ہے۔ فرانس یا سپین یا برطانیہ جو کے ماضی میں امریکہ کا آقا تھا آج کی تاریخ میں امریکہ کے سامنے بونے شمار کئے جاتے ہیں۔ برطانیہ تو امریکہ کے پوڈل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فرانس 13 نومبر کے المناک واقعے کو نائن الیون کا دوسرا حصہ سمجھ بیٹھا ہے۔ اور اپنے آپ کو امریکہ ہی سمجھ رہا ہے۔اور اسی زعم میں داعش کو سبق سکھانا چاہتا ہے۔ ہمیں تو یہ بات ایک لطیفہ لگتی ہے۔ جو واقعہ نو گیارہ کو پیش آیا وہ گیارہ تیرہ کے مقابلے میں بہت بڑا حادثہ تھا۔ نو گیارہ دنیا کی واحد سپر پاور کے ساتھ پیش آیا۔ امریکہ نے ساری دنیا کو اپنے ساتھ ملا کر افغانستان پر چڑھائی کی تھی۔15 سال تک افغانستان میں ذلیل و خوار ہوا۔ دھیرے دھیرے ساتھی ساتھ چھوڑتے گئے۔ آج امن کی بھیک مانگتا پھرتا ہے۔ کیا فرانس کے صدر محترم عقل سے پیدل ہیں؟ ہمیں امید نہ تھی کہ ہمارے سیاستدانوں کی طرح ہوں گے۔ ایک لنگڑا لولا عالمی اتحاد تو قائم نہ کر سکے داعش کے خلاف۔ وہ جو نیکی کا گھٹیا ترین درجہ ہوتا ہے نا ہوائی حملے، سو فیصد محفوظ، اس نچلے ترین لیول پر بھی برطانیہ جیسے پڑوسی نے اتفاقِ رائے نہ کیا۔ زمین پر فوجی اتارنے کی تو ہمت نہیں۔ ان کے پاس ملکہ ترنم نور جہاں تو ہے نہیں جو Moulin Rougeمیں گائے اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے۔ د س بیس فوجی بچونگڑے مار ے گئے تو انکی امائیں، گرل فرینڈز، بیگمات، داشتائیں مع جائز و ناجائزاولادکے کھڑی ہو جائیں گی احتجاج کرنے ایفل ٹاور کے سائے میں۔ پھر ہونا کیا ہے۔ وہی جو امریکہ نے کیا۔ سو جوتے سو پیاز۔ گھر کے بدھو گھر کو ہی لوٹ آئیں گے۔ امریکہ تو 15سال نکال گیا۔ یہ تو15 ہفتے نہیں نکال سکیں گے۔ بہترین مشورہ وہ بھی مفت یہ ہی ہے کہ فضائی بمباری سے شوق پورا کریں۔ ووٹرز بھی خوش رہیں گے۔ امریکہ کی طرح ذلیل بھی نہیں ہونا پڑے گا۔ نہ لگے گی ہینگ نہ پھٹکری اور رنگ بھی آوے گا چوکھا۔
اب آتے ہیں میاں صاحب کی طرف۔ جناب آپ فرانس کی مددکا خیال دل سے نکال دیں۔ اپنے گھر کی خبر لیں۔ پہلے لال مسجد کے سابقہ خطیب جناب مولانا عبدالعزیزکو رام کر لیں کہ ایسی باتیں مت کیا کریں جو ریاست کی رٹ کا منہ چڑھائیں۔ ایسی تحریکیں چلانے کا الٹی میٹم نہ دیا کریں جس سے آپ کے اقتدار کی چولیں ہل جانے کا اندیشہ ہو۔آپ داعش سے اسلام آباد میں نمٹ لیں۔ اس کے لئے پیرس جانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی داعش ہمارا اس قسم کا بچہ نہیں جیسا طالبان، جماعت دعوة، لشکر طیبہ، جیش محمد، سپاہ صحابہ یالشکر جھنگوی۔ سو ہمیں پرائی آگ میں کودنے کی کیا ضرورت۔ داعش جن کا بچہ ہے وہی اسے سمجھا بجھا کر ٹافی شافی دے کرراہ راست پر لے آئیں گے۔ داعش کے ماں باپ کو اچھے داعش اور برے داعش جیسے دقیق و عمیق عوامل کا سامنا بھی نہیں۔ اس لئے یورپ اور امریکہ کی مدد کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ہاں اگر ان ممالک کو میٹرو ، موٹر وے نندی پوریا کوئی سگنل فری ایکسپرس وے ٹائپ عجوبہ بنانے میں دقت پیش آ رہی ہو تو فوراًاپنی قائدانہ صلاحیتوں سے انہیں مستفید کریں۔ ہم سب کہیں گے نواز شریف آگے بڑھو۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *