جامعہ ملیہ اور مسلم خواتین کی نئی پُر عزم نسل

pen and paperجامعہ ملیہ اسلامیہ مسلمان خواتین کی ایسی نئی نسل پروان چڑھا رہی ہے جو جدیدیت اور اپنی روایات کوساتھ ساتھ لے کر چلنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کررہی۔
اسماء نسیم نے اُتر پردیش کے ضلع باغپت میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں 1990ء میں اپنی پرائمری تعلیم شروع کی۔چھ ماہ بعد انہوں نے اپنے دو کمروں کے سکول میں جاناشروع کر دیا۔ان کے خاندان نے فیصلہ کیا کہ وہ بہتر تعلیم کی حقدار تھیں۔لہٰذا ان کے والد چار سالہ اسماء کے ساتھ دہلی منتقل ہو گئے۔
ننھی لڑکی کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک پرائمری سکول میں داخل کروایا گیا، اور ان کے والد نے دہلی ہی میں کام کرنا شروع کر دیا۔اسماء کی والدہ چار برس بعد دہلی آئیں۔
سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسماء نے جامعہ کے نیچرل سائنسز کے شعبے سے بائیو ٹیکنالوجی میں گریجوایشن کی اور جامعہ ہی سے بائیو سائنسزمیں پوسٹ گریجوایشن میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔
پھر انہوں نے جامعہ میں پروٹین کی تصدیق سے متعلق بیماریوں پر تحقیق کی، اور اب اٹلی میں جینیاتی انجینئرنگ اور بائیوٹیکنالوجی کے بین الاقوامی مرکزمیں اپنی پوسٹ ڈوکٹرل تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسماء ہی کی طرح، سمرین جہاں نے سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعدجامعہ کے پولی ٹیکنیک کے شعبے میں مکینیکل انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ وہ اس کورس کے پہلے سال میں داخلہ لینے والی اکلوتی خاتون طالبہ تھیں۔ لیکن اپنی کلاس میں اکلوتی لڑکی ہونے کی سمرین زیادہ پروا نہیں کرتیں: ’’اگر لڑکے یہاں داخلہ لے سکتی ہیں تو لڑکیاں کیوں نہیں؟‘‘ سمرین پوچھتی ہیں۔
’’شروع میں میں مکمل طور پر لڑکوں کی کلاس میں بیٹھنے سے کچھ ہچکچائی۔ لیکن اب میں اس کا بُرا نہیں مناتی۔ لڑکے تمام مضامین میں میری مدد کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کے والدین اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے میں ان کی حمایت کرتے ہیں۔
اسماء، سمرین اور بہت سی دوسری، مسلمان خواتین کے پرعزم نئے چہروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔یہ خواتین اپنی صلاحیتوں کے متعلق پراعتماد، مقابلے کے لئے ہمہ وقت تیاراور کامیابی کے لئے پر عزم ہیں۔ اپنے جغرافیائی فاصلے یا سماجی صورتِ حال سے قطع نظر ، مسلمان لڑکیاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آرہی ہیں، جو کہ نئی دہلی میں قائم92 سال پرانی یونیورسٹی ہے۔ اپنے حوصلہ افزاء ماحول کی وجہ سے، یہ مرکزی یونیورسٹی خواتین کو تحفظ اوربنیادی مذہبی اور ثقافتی بنیادیں فراہم کرتی ہے۔
آئی اے این ایس کے سینٹر برائے دلیت اینڈ ماینورٹیز سٹڈیز کے شعبے کی رکن شیبا حسن نے بتایاکہ ’’والدین اب کمپیوٹر سائنس، بائیوٹیکنالوجی، فزیوتھیرپی اور پولی ٹیکنیک جیسے کورسوں میں داخلے کے لئے دہلی میں اپنی بیٹیوں کو بھیجنے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے۔ وہ اپنی بیٹیوں کے لئے اونچی خواہشیں رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں یہاں بہترآگاہی حاصل کریں گی۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *