پاکستانیوں کے منفرد مذہبی تصورات

jamil khanمذہب کے حوالے سے جس طرز کا فہم پاکستان میں پایا جاتا ہے، دیگر مسلم اقوام میں بالعموم اور عربوں میں بالخصوص اس طرز کا شدت پسندانہ فہم اور تصور موجود نہیں ہے۔ سعودی عرب کے قومی پرچم پر کلمہ طیبہ تحریر ہے، اور جب ان کا قومی دن آتا ہے تو سعودی قوم کے نوجوان اس روز جشن مناتے ہوئے اس پرچم کو اپنے جسم کے گرد لپیٹے دکھائی دیتے ہیں، یا اس کو کچھ اس انداز سے ا±ٹھائے پھرتے ہیں کہ اگر بالفرض ہمارے ہاں کسی سے نادانستگی میں بھی ایسی کوئی حرکت سرزد ہوجائے تو پھر اس کا کیا حال کیا جائے گا، اس کا اندازہ ہم سب کو بخوبی ہے۔
عرب ممالک، ایران، ترکی اور مشرقِ بعید کے مسلم ملکوں میں خواتین مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنے جاتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں ایسا کوئی تصور ہی نہیں۔ قرآن پاک کا مخاطب نوعِ انسانی ہونے کے باوجود ہماری مساجد محض مردوں کے لیے مخصوص ہیں، اور خواتین کو مردوں سے علیحدہ کوئی مخلوق سمجھا جاتا ہے۔
عرب ملکوں میں ساس بہو کے جھگڑے کی بات تو چھوڑیے، وہاں سوتنوں کے مابین جھگڑوں کا وہ تصور نہیں ہے، جس طرح ہمارے ہاں پایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں سوتیلی ماں کا تصور تقریباً تمام ہی بچوں میں کم و بیش کسی خوفناک ڈائن سے کم نہیں، اور ظاہر ہے کہ بچوں کے ذہنوں میں یہ تصور ان کی ماو¿ں نے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ہاں کسی بچے کو پال پوس کر جوان کرنے والی ماں کو جنم دینے والی ماں سے ہمیشہ کم رتبہ ہی سمجھا جاتا ہے۔

Saudi youth carry the Saudi national flag during the celebration of the Saudi National Day in Riyadh, Saudi Arabia, Tuesday, Sept. 23, 2008. Saudi Arabia marked the 78th anniversary of its independence. (AP Photo/Hassan Ammar)

Saudi youth carry the Saudi national flag during the celebration of the Saudi National Day in Riyadh, Saudi Arabia, Tuesday, Sept. 23, 2008. 

ہمارے ہاں بیوہ یا مطلقہ کی دوبارہ شادی گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، لیکن خصوصاً عرب ملکوں میں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ بیوائیں ساری زندگی تنہا زندگی نہیں گزارتیں۔ طلاق کے بعد عموماً خواتین کی شادیاں ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں طلاق کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا ہے اور اکثر لوگوں کی طلاق کا سارے زمانے میں فسانہ ہی بن جاتا ہے، جبکہ دیگر مسلم ملکوں میں یہ ایک عام سی بات ہے کہ اگر ایک خاتون اور مرد ساتھ نکاح ختم کرنے کا فیصلہ کرلیں تو خوشی خوشی الگ ہوجاتے ہیں، ہمارے ہاں کی طرح ان کا بتنگڑ نہیں بنایا جاتا۔
دوسری جانب عالم اسلام پر نظر ڈالیے تو سعودی عرب میں طلاق کی صورت میں خواتین اس کا جشن مناتی ہیں اور شادی کی مانند اس کی شاندار تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق شادی یا گریجویشن کی تکمیل پر دی جانے والی پارٹیوں کی طرح یہ تقریبات دلکش اور خوبصورت ہالز میں منعقد کی جارہی ہیں۔ جس پر بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہے اور جس میں عزیز و اقارب کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ ان تقاریب میں آنے والے مہمان بھی شادی ٹوٹنے پر خوشی سے سرشار خاتون کو قیمتی تحائف دیتے ہیں۔
2U7W3145عبادات کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں جس طرح کا تصور پایا جاتا ہے، وہ دیگر مسلم اقوام میں دیکھنے کو نہیں ملتا، مثلاً بعض مسلم اقوام میں جوتے پہن کر بھی نماز ادا کرنا معیوب و مکروہ نہیں سمجھا جاتا، جبکہ ہمارے ہاں پتلون پہن کر نماز کی ادائیگی پر آج بھی بہت سے لوگوں کو اعترا ض ہوجاتا ہے۔ اگر کچھ لوگ کہیں کہ اب تو نوجوان نسل جینس ٹی شرٹ پہن کر بھی نماز ادا کرلیتی ہے تو ان کی اس دلیل کو اہمیت نہیں دی جا سکتی کہ پورے ملک میں جمعہ کے روز نجی دفاتر، کارخانوں، فیکٹریوں اور سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افراد اکثریت شلوار قمیض زیب تن کرتی ہے۔
اس طویل تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ مذہب یا دین ایک ہونے کے باوجود کروڑوں مسلمان ایک دوسرے سے یکسر مختلف فہمِ دین رکھتے ہیں، اور بغیر کسی تشکیک کے اس پر عمل پیرا بھی ہیں۔ اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے، اس لیے کہ یہ شعوری ارتقا کا تقاضا ہے۔ جیسے کہ مسیحی اقوام نے 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ پیدائش منانے پر اتفاق کرلیا تھا، جس طرح پاکستان میں پیغمبراسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا یومِ ولادت بارہ ربیع الاول کو منایا جاتا ہے، جبکہ ولادت رسول کی تاریخ کے حوالے سے دیگر تواریخ پر بھی دلائل موجود ہیں۔
12چنانچہ ہمیں اس نکتے پر غور کرنا ہی پڑے گا، کہ تنوع انسانی معاشروں کا لازمی جزو ہے، اور اس تنوع کو تسلیم کرنے کے لیے برداشت اور اعلیٰ ظرفی درکار ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جیسے جیسے مذہبی رجحانات میں اضافہ ہوا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ عدم برداشت کے مظاہرے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ چند عشرے قبل یہ کہاجاتا تھا کہ معاشرے کی ابتری مذہب سے دوری کا نتیجہ ہے، لیکن آج جبکہ گلی گلی محلہ محلہ مذہب کا غلغلہ ہے، معاشرے کی مجموعی حالت پہلے سے کہیں زیادہ بدتر ہوچکی ہے۔
معروف محقق کوثر جمال صاحبہ رقم طراز ہیں کہ ’سائنسی تحقیقات راتوں رات علم کے پرانے بت توڑ دیتی ہیں۔ لیکن ثقافت، رہن سہن کے طریقوں، تہواروں اور لسّانی اظہاریوں میں یہ تبدیلیاں مدتوں میں آتی ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین میں جب انقلاب 1949ءمیں آ چکا، بہت سے معاشی، سیاسی ڈھانچے تبدیل کیے جا چکے، نصاب بدلے، ماضی پر ہر زاویے سے نگاہِ نو ڈالنے کا چلن شروع ہوا تو اس کے ڈیڑھ عشرے بعد کمیونسٹ پارٹی نے دیکھا کہ لوگوں کے ثقافتی طور طریقوں میں تو کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا۔ چنانچہ پچھلی صدی کی دنیا میں سب سے بڑی آبادی کے ملک میں ”ثقافتی انقلاب“ کے نام سے غیر معمولی اتھل پتھل کا سلسلہ شروع ہوا.... تعلیمی ادارے بند ہو گئے، روایتی ڈگریوں کے تصور پر مبنی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوا، طلبا نے جوق در جوق دیہاتوں، فیکٹریوں کا رخ کیا کہ محنت کشوں کی زندگی کا عملی تجربہ حاصل کیا جائے۔ دس برس تک بہت کچھ ہوتا رہا۔ پھر جب اس تجربے کو سمیٹا گیا تو معلوم ہوا کہ عوام اب بھی مشکل اوقات میں دعائیں مانگتے اور مبارک مواقع پر دعائیں دیتے تھے۔ چینی زبان میں نہ تو ”خدا“ کا لفظ ختم ہوا اور نہ ہی اس لفظ کا استعمال۔“
جب ملحد چین میں تنوع کو ختم کرنے اور یکسانیت قائم کرنے کی سرکاری کوشش کے باوجود مذہبی روایات کو مٹایا نہیں جاسکا، تو ہمارے معاشرے میں کوئی بھی مذہبی گروہ کسی دوسرے مذہبی یا مسلکی گروہ کی روایات کو کیونکر ختم کرسکتا ہے، اس کوشش سے فساد ہی جنم لے گا۔

پاکستانیوں کے منفرد مذہبی تصورات” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 4, 2015 at 1:00 AM
    Permalink

    پاکستان میں مذہب کے اس شدت پسندانہ فہم کی بڑی ذمہ داری مذہبی راہنماوں پر عاید ہوتی ہے،یہاں والدین کے بعد لوگ مولوی کی بات کو سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ نصاب تعلیم نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *