عمران خان ٹھیک کہتے ہیں

blacksmithتحریک انصاف کے عظیم رہنما عمران خان نے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل کو رونق بخشی ۔ اس موقع پر عظیم قائد عمران خان صاحب کے فرمودات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ خان صاحب ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور ہمیشہ ٹھیک کہتے ہیں۔
ہندوستان کے بعض صحافتی حلقوں میں خبر سامنے آئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے گزشتہ برس کھٹمنڈو میں سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ایک طویل ملاقات کی تھی جسے ذرائع ابلاغ سے چھپایا گیا تھا۔ عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ نواز شریف اور نریندر مودی بزدل ہیں۔ عمران خان صاحب ٹھیک کہتے ہیں۔ 2012ءمیں جب عمران خان صاحب ایک عظیم الشان جلوس لے کر وزیرستان جانا چاہتے تھے اور راستے ہی میں سے پلٹ آئے تھے تو خان صاحب نے نہایت بہادری کا ثبوت دیا تھا۔ 2012 ءہی میں جب پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم تھا تو عمران خان صاحب نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں رائے دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ عمران خان صاحب اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کی جانیں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر جب پختون خوا کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی دے کر بھی دہشت گردوں کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے ، پختون خوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور نے اپنی جان کی قربانی دی تھی ، ملک کے کونے کونے میں ہزاروں شہری شہید کیے جا چکے تھے ، خان صاحب کو دہشت گردی کے بارے میں دوٹوک مو¿قف اختیار کرنے میں تامل تھا۔ خان صاحب بہادری سے کام لے رہے تھے۔ میاں نواز شریف اور نریندر مودی بزدل ہیں۔
عمران خان صاحب نے اس خطاب میں یہ بھی فرمایا کہ لیڈر خفیہ ملاقاتیں نہیں کیا کرتے۔ عمران خان صاحب درست کہتے ہیں۔ دنیا بھر میں سیاسی مذاکرات کیمرے کے سامنے بیٹھ کے کیے جاتے ہیں۔ 1969 ءسے لے کر 1975 ءتک امریکا اور ویت نام میں خفیہ مذاکرات جاری تھے کیونکہ ہوچی منہ اور ہنری کسنجر چھوٹے رہنما تھے۔ جولائی 1971 ءمیں پاکستان نے چین اور امریکا میں خفیہ مذاکرات کرائے تھے ۔ ہنری کسنجر اسلام آباد سے بغیر اطلاع کے پیکنگ گئے تھے کیونکہ امریکا اور چین میں قیادت کا فقدان تھا۔ عمران خان صاحب نے 2014ءمیں دھرنا شروع کرنے سے پہلے لندن میں طاہر القادری صاحب سے ملاقات کی تھی جسے ذرائع ابلاغ سے خفیہ رکھا گیا تھا اور جب دھرنے کے دوران اس ملاقات کے شواہد سامنے آئے تو خان صاحب نے اسے سیاست کا حصہ قرار دیا تھا۔ عمران صاحب ٹھیک کہتے ہیں اور ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔
ایک خاص وضع قطع کے سیاسی رہنماﺅں کو پاکستان میں نیلسن منڈیلا کا نام لینے کا شوق پیدا ہوا ہے۔ سراج الحق صاحب بھی نیلسن منڈیلا کے مداح ہیں۔عمران خان صاحب بھی نیلسن منڈیلا کے مقام کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ ’میں نیلسن منڈیلا کو بڑا لیڈر سمجھتا ہوں۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی قیادت کی وجہ سے جنوبی افریقا کو بچایا‘۔فتو لوہار کو شک ہو رہا ہے کہ عمران صاحب نے نیلسن منڈیلا کی خودنوشت سوانح ”آزادی کے لیے طویل سفر“ نہیں پڑھی ورنہ انہیں علم ہوتا کہ نیلسن منڈیلا نے 1987 ءمیں نسل پرست بوتھا حکومت کے ساتھ جو مذاکرات شروع کیے تھے انہیں افریقن نیشنل کانگرس اے این سی کے رہنماﺅں سے بھی خفیہ رکھا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ اگرچہ عمران خان نیلسن منڈیلا کو بڑا لیڈر مانتے ہیں لیکن وہ خود ان سے بھی بڑے لیڈر ہیں کیونکہ نیلسن منڈیلا خفیہ مذاکرات کیا کرتے تھے عمران خان صاحب خفیہ مذاکرات نہیں کرتے۔ نیز یہ کہ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔
عمران خان صاحب نے یہ افسوس ناک خبر سنائی ہے کہ پاکستان میں قیادت کا بحران ہے ۔ اگر یہ بات درست ہے تو نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان ، پرویز خٹک ، جہانگیر ترین اور پشاور کے تعلیم یافتہ سیاسی رہنما مراد سعید بھی بڑے لیڈر نہیں ہیں۔ نیز یہ کہ جسٹس وجیہہ الدین اور جاوید ہاشمی کو تو عمران خان او ران کے ساتھی خود بھی قیادت کے مقام سے خارج کر چکے ہیں۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس ملک میں قائداعظم محمد علی جناح ، باچا خان ، عبدالصمد اچکزئی ، حسین شہید سہروردی اور ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی روایت موجود ہے وہاں عمران صاحب کو قیادت کا بحران نظر آتا ہے کیونکہ ان کی جماعت ضمنی انتخابات سے لے کر بلدیاتی انتخابات تک پے در پے شکست کھاتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ عمران خان صاحب ہمیشہ سچ بولتے ہیں او رٹھیک کہتے ہیں۔
عمران خان صاحب نے ایک پتے کا نقطہ یہ بیان کیا ہے کہ غربت کو ختم کرنے کے لیے امن پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہو ں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین نے سب سے پہلے ملک میں غربت کو ختم کیا۔ شاید خان صاحب کے علم میں نہیں کہ چین میں آج بھی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندہ ہے۔ نیز یہ کہ عمران خان صاحب برسوں جن طالبان کی حمایت کر تے رہے ہیں ان کی موجودگی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ عمران خان صاحب کو بیرونی دنیا کی ان مل اور بے جوڑ مثالیں دینے کا شوق ہے ۔پرانے وقتوں میں وہ ملائیشیا کے مہاتیر محمد کے گن گاتے تھے ۔ایک دفعہ پاکستان میں ان کی میزبانی بھی کی تھی۔ میزبانی تو عمران صاحب نے لیڈی ڈیانا کی بھی کی تھی مگر عمران خان صاحب جس کی میزبانی کرتے ہیں، اس کے برے دن آ جاتے ہیں، جس سے دوستی کرتے ہیں، اس کی لٹیا ڈوب جاتی ہے۔ جس کی تعریف کرتے ہیں ، اس کی بے عزتی خراب ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی خودنوشت میں حضرت علامہ اقبال کی خودی کے بہت سے حوالے دیے تھے لیکن ان کی اپنی کارکردگی کی روشنی میں ضمیر جعفری کا یہ قول عمران خان صاحب کی نذر کرنا چاہیے۔
حضرت اقبال کا شاہیں تو ہم سے اڑ چکا
اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو

عمران خان ٹھیک کہتے ہیں” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 3, 2015 at 10:58 PM
    Permalink

    نکتہ *

    حضرت اقبال کا شاہیں تو کب کا اڑ چکا *

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *