کیا اس ملک میں فرشتے بھی ختم ہو گئے ؟

فدا حسین

fida hussainتو قادر ِمطلق ہے مگر تیرے جہاں (پاکستان)میں کیا فرشتے ختم بھی ہوگئے ہیں؟ ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ لاچار و مجبور لوگوں کی غیب سے مدد فرماتاہے اور تو اورپاکستان کے وجود میں آنے کو بھی غیبی مدد کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے لیکن غریبوں کو کھانے کو دو وقت کی روٹی میسر نہ آئے ،بیمار ہو تو علاج کےلئے دوائی خریدنے کی سکت ختم ہو کر محض دعاو¿ں کا سہارا لینا پڑے تو ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات کا جنم لینا قدرتی امر ہے ۔عجب طرفہ تماشہ ہے کہ اس ملک میں جب کوئی سیاست دان بیمار ہو جائے تو فوری طور بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ ملالہ کو گولی لگی تو اسے بھی فورا بیرون ملک لے جایا گیا مگر ملک خدا داد پاکستان سے 68 برس سے غیر مشروط طور پرجڑے رہنے والے علاقہ گلگت بلتستان کا ایک سات سالہ یتیم بچہ ایک مہینے سے کومہ میں ہے۔ اس کی ماں خرچہ برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنے بچے کوہسپتال سے گھر منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی ہے لیکن تا دم تحریر اس بچے کا نہ کسی صاحب ثروت کو علم ہو سکا ہے اور نہ ہی کسی حکومتی شخص نے نوٹس لیا ہے۔ واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ 26 اکتوبر 2015ء کے زلزلے کے وقت گلگت کے نواحی گاو¿ں تھوئی یاسین سے تعلق رکھنے والا تیسری جماعت کاایک طالب علم محمد کاشف سکول سے گھر آرہا تھا ۔ زلزلے کے نتیجے میں پہاڑی سے گرنے والا پتھر لگنے سے یہ بچہ بے ہوش ہو کر کومے میں چلاگیا جس کو فوری طور پرگلگت ڈسٹرکٹ ہسپتال میں داخل کرا یاگیا جسے بعد ازاں پمز ہسپتال اسلام آباد ریفرکیا گیاجہاں پر اسے ایک ہفتے تک رکھا گیا۔ گلگت کے سینئر صحافی نزاکت کے مطابق انہیں اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے پچاس ہزار کی رقم دی گئی تھی وہ رقم ختم ہونے پر اس کی والدہ اپنے لخت جگر کو واپس گلگت لے کر گئی اور وہ معصوم پھول اس وقت اپنے کسی رشتہ دار کے گھر میں منتقل ہوکر دوبارہ کھلنے اور مرجھانے کے کشمکش میں ہے۔ وہ ماں کسی مسیحا کی منتظر ہے تاکہ اس کی گود اجڑنے سے بچ سکے۔
کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کا علاج کرے ؟ اس سوال کاجواب جاننے کے لئے ہمیں ماں ہی کے زوایہ نگاہ سے سوچنا چاہے کہ وہ اپنے لخت جگر کو بچانے کےلئے کس حد تک جا سکتی ہے؟ جب سے اس یتیم بچے کی اسلام آباد سے گلگت لے جانے کی خبر ملی ہے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا اس ملک میں فرشتے بھی ختم ہوگئے ہیں یا اس ملک کے فرشتے بھی صرف امراءکی مدد پر مامورہیں!  کیونکہ اب ایسے لوگوں کا علاج محض غیبی امداد ہی سے ممکن نظر آرہا ہے ورنہ حکومت نے غریبوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ جب ملالہ پر حملہ ہوتا ہے توفورا اسے ائر ایمبولینس کی مدد سے برمینگھم کے ہسپتال میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر میری یادداشت درست ہے تو متحدہ قومی مومنٹ کے رکن قومی اسمبلی عبدالرشید گوڈیل پر حملہ ہوا قومی خزانے سے خرچہ برداشت کرنے کا اعلان ہوا ۔ ہمارے حکمرانوں کے معمولی چیک اپ بھی امریکہ اور برطانیہ کے ہسپتالوں میں ہوتے ہیں۔ میں واضح کر دوں کہ نہ میں ملالہ کو وہاں لے جانے پر تنقید کررہا ہوں نہ رشید گوڈیل کی سرکاری خزانے سے علاج پر کیونکہ زندگی ہر ایک کی قیمتی ہے بلکہ میں تو اس یتیم بچے کے کومہ کی حالت میں اسلام آباد سے واپس گلگت محض خرچہ برداشت نہ ہونے کی سبب منتقل ہونے کے حوالے سے سوال کر رہا ہوں۔ کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے بچے اس سے بھی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کے والدین کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ علاج نہیں کرا پا رہے ہیں تو ذہن میں یہ سوال بھی تو آتاہی ہے کہ جو ریاست اپنے عام شہریوں کا علاج معالجہ نہ کر سکے تو اس ریاست اور شہریوں کے درمیان موجود عمرانی معاہدہ کی کیا حیثیت ہوگی؟ ریاست کا کام ہی ایسے لوگوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنا ہے ورنہ ملک کے طبقہ امرا کو تو چھینک بھی آئے توبیرون ملک علاج کے لئے چلے جاتے ہیں۔ اگرہمارے وزیر اعظم، صدر اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدداروں کے حج اور عمرہ پر جانے کی رقوم کو ایسے لوگوں پر خرچ کیا جائے تو شاید بہت سے لوگوں کی جان بچ جائے ۔کیونکہ ریاست ماں ہے اور ماں کےلئے تمام اولاد برابر ہوتی ہیں ۔

(فدا حسین گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی سے صحافت کی تعلیم پائی۔ اسلام آباد میں ریڈیو نیوز نیٹ ورک ایف ایم 99 کے ساتھ منسلک ہیں۔  ان سے 0345-5436054 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *