قبائلی علاقوں (فاٹا) میں کیا کرنا ہے؟

shehr yar mehsoodماہر معدنیات ارشاد اللہ خان جن کی معدنیات نکالنے کی ایک کمپنی اس وقت بھی شمالی وزیرستان میں کام کر رہی ہے، کی ریسرچ کے مطابق شمالی وزیرستان میں کاپر،تیل گیس،سونا،یورینیم، کرومائیٹ، گیس اور کوئلے کے اتنے وسیع پیمانے پر ذخائر موجود ہیں کہ جس پر اگر تندہی سے کام ہو تو اس سے پاکستان کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ایشا، شمالی وزیرستان کا بہت ہی چھوٹا علاقہ ہے،اورارشاد اللہ خان کے مطابق صرف ایشا کے مقام پر تیل و گیس کے اتنے ذخائر موجود ہیں جس سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات چالیس سال تک پوری کی جاسکتی ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد ایک بات تواتر سے کہی جا رہی ہے کہ بلوچستان میں تیل و گیس کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں،جبکہ نئی تحقیق کے مطابق شمالی وزیرستان میں موجود ذخائر بلوچستان میں موجود ذخائر سے کئی گنا ذیادہ ہیں۔ ایک برطانوی پیٹرولیم کمپنی کی 1996 کے سروے کے مطابق شمالی وزیرستان میں مشرق وسطیٰ کے تیل و گیس سے ذیادہ کے ذخائر موجود ہیں۔ جنوبی وزیرستان، سوائے وانہ کے قریباً سارا ہی پہاڑی علاقہ ہے،اور یہاں جن ماہرین نے سروے کئے ہیں ان پر بھی اگر کام ہو تو ایک لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل کی کمی نہیں رہے گی۔ ارشاد اللہ خان صاحب نے ایک اور بات بطور خاص کہی تھی کہ یہاں حالات بہت جلد قابو میں ہوں گے جس کے بعد ان ذخائر پر باآسانی کام کیا جا سکے گا،جس سے یقیناًمتفق ہونا مشکل ہے،کیونکہ نائن الیون کے بعد یہاں کے لوگوں کو بڑی خوبصورتی سے گھیرنے کی کوشش تو کی گئی،یا با الفاظ دیگر قومی دائرے میں شامل کرنے کی کوشش تو ہوئی،لیکن مقامی لوگ اس لحاظ سے سخت ناراض ہیں اور ہم نے اکثر بتانے کی کوشش بھی کی ہے کہ اس کی ذمہ داری نظا م میں موجود خرابی کے علاوہ کرپشن پر بھی ڈالی جا سکتی ہے۔ہمارے ارباب اختیار یقیناً سوچ رہے ہیں کہ یہ لوگ وقت کے ساتھ سب کچھ بھول بھال کر ٹھیک ہو جائیں گے۔ یقیناً ایسا ممکن ہوتا لیکن افسوس کہ ہماری اجتماعی ذہنیت اتنی کرپٹ ہو چکی ہے جہاں جلد سے جلد کمائی کی خاطر کسی کو یہ دکھائی نہیں دیتا کہ میں جو کر رہا ہوں کوئی مجھے دیکھ بھی رہا ہے یا نہیں،بہرحال ہم جو کہنا چاہتے ہیں یا سمجھانا چاہتے ہیں وہ ہے یہاں کے لوگوں کی نفسیات ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈنڈے کے زور پر کچھ عرصے تک لوگوں کو سیدھا رکھا جا سکتا ہے، لیکن ہماری نظروں میں عقل سے عاری یہ مخلوق (قبائلی) بالکل ایک سٹیٹ کی پالیسی کے طرز پر زندگی گزارتے ہیں۔ بیشک یہ چیزیں قابل ستائش نہیں اور قبائل کو اپنی سوچ بدلنی چاہئے، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ چیزیں یہاں کے لوگوں کی طرز زندگی اور طرز سوچ کا حصہ اور ایک اٹل حقیقت ہیں۔ ذرا اس سوچ کی بات کی جائے جو میں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں،کچھ دن پہلے ایک نوجوان نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بناتھا، مجھ سمیت سب لوگ اندازہ لگا سکتے تھے کہ یہ کس کی کارستانی ہو سکتی ہے۔ فاتحہ خوانی میں مرحوم کے والد سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا آپ کی کوئی دشمنی ہے؟اگر نہیں تو یہ کس نے کیا اور کیوں کیا؟غم میں ڈوبے والد نے صرف اتنا کہا کہ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے،البتہ حالات خراب ہیں،کسی کی بھی کارستانی ہو سکتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ سونا کبھی خراب نہیں ہوتا۔(سونا کبھی خراب نہیں ہوتا) یعنی ہمارے ساتھ ہوئے عمل کا بدلہ ویسے ہی لینا تو ہے لیکن وقت اور سا ل کی کوئی قید نہیں۔ پچھلے دنوں آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد ملک میں ایک طوفان کھڑا کیا گیا تھا،لیکن بڑے بڑے بیڈرومز میں ٹی وی ریموٹ پکڑے تجزیہ کاروں اور جمہوریت کے علمبرداروں کو کیا پتہ کہ وادی شوال کیسا علاقہ ہے؟مکین اور لدھا میں پڑے سپاہی کن حالات میں آپریشنز کر رہے ہوتے ہوں گے؟اگر فرض کیا جائے کوئی آپریشن ہی نہیں ہو رہا ان روشن خیالوں کے بقول تو ان علاقوں میں صرف رہنے کا اندازہ کیا جائے جہاں صرف جنگل اور اونچے پہاڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔بخدا پچھلے دنوں کچھ سپاہیوں کو اونچے پہاڑ پر ضروریات زندگی کے سامان سمیت چڑتے ہوئے دیکھ کر دل پسیج گیا ،کہ مزے کون کر رہا ہے اور جیتے جی جہنم کا سامنا کون کر رہا ہے۔یقیناًان حالات کی مکمل ذمہ داری سول حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی، لیکن سوال یہ ہے کہ سول حکومت نے ان حالات میں کیا کیا ہے؟ اگر فاٹا جیسا علاقے صحیح طریقے سے ہینڈل نہ کیا گیا اور یہاں کے لوگوں پر توجہ نہ دی گئی تو یقین رکھئے کہ ملک کبھی ترقی کر سکے گا اور نہ ہی ان حالات سے نکل سکیں گے۔
گزرے وقتوں میں جو کچھ ہوا اس کا مداوا تو ممکن نہیں لیکن یہاں کے لوگوں کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہاں سے کوئی بھی خزانہ نکلے، اس کو آپ کے حالات زندگی بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ یہاں سے تعلق رکھنے والے وہ اعلی تعلیم یافتہ لوگ جو قبائلی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ یہاں کی ترقی بہتر تعلیم میں مضمر ہے،تو سوال یہ اتنے برسوں کی مار کے بعد سول حکومت نے کیا قدم اٹھایا ہے؟حال ہی میں پورے فاٹا کے لئے صرف ایک یونیورسٹی کا اعلان ہوا ہے، جبکہ صرف جنوبی وزیرستان کا رقبہ 6619 مربع کلومیٹر ہے۔اس بارے میں فنڈز کا بہانہ کیا جا سکتا ہے لیکن جو لاکھوں کروڑوں ڈالرز آئے ان قبائل کے نام پر وہ کس کے اکاو¿نٹ میں گئے؟ چلو مان لیتے ہیں کہ وہ قبائلیوں کے حالت زار پر خرچ ہوئے،تو سات ایجنسیوں کا اے ڈی ایف(ایجنسی ڈویلپمنٹ فنڈ) کی مد میں کتنے پیسے جمع ہوتے ہیں؟مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ویسے تو پولیٹیکل ایجنٹ کو مکمل بے اختیار کر دیا گیا ہے، لیکن خزانے کی چابیاں اب بھی ان کے ہاتھوں میں ہیں۔صرف خیبر ایجنسی کا اے ڈی ایف اگر ایمانداری سے جمع ہو توصرف ایک ماہ کے اے ڈی ایف سے ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی بنائی جا سکتی ہے۔ اگر ملکی قتصاد ی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ جس سے ایسے تعلیمی اداروں کا قیام ممکن ہو تو کم وقت میں بھی فاٹا کے اندر سے اتنا فنڈ جنریٹ کیا جا سکتا ہے کہ کافی کچھ ممکن ہے۔
افغانستان کی رسد کا ذریعہ قریباً پاکستان ہی ہے کیوں نہ تمام سات ایجنسیوں میں افغانستان تک لنک روڈز تعمیر کئے جائیں۔جنوبی وزیرستان کے محسود ایریا کواگر افغانستان تک لنک روڈ کے ذریعے ملایا جاتا ہے ،تو یقین مانئے کہ افغانستان کو سب سے آسانی سے سامان رسد پہنچایا جا سکتا ہے،اور اس سے اتنا فنڈ ملے گا کہ فاٹاتو چھوڑئے پورے ملک کو اس کا فائدہ پہنچے گا۔اس کے علاوہ مقامی لوگوں کو کاروبار کے موقع ملیں گے اور جب لوگوں کے مالی حالات بہتر ہوں گے تو کافی بہتری ممکن ہے۔ ایک قبائلی کے طور پر میری صرف ایک ہی سوچ ہے کہ یہاں کے لوگوں کے ذہنوں کو بدلنے کی ضرورت ہے، اور ان کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ آپ ہمارے اپنے ہیں جو کچھ ہوا، اس میں کچھ ہماری غلطی تھی اور کچھ آپ کی،آیئے ملک اور علاقے کی بہتری کے لئے ہاتھ ملا کر بڑھتے ہیں۔لیکن اس وقت جو طریقہ اپنایا گیا ہے اس سے کسی طور بھی متفق نہیں ہوا جا سکتا۔خاص کر سول حکومت کو خواب خرگوش سے نکلنا پڑے گا اور جو کام سول حکومتوں کے ہوتے ہیں وہ اپنے ہاتھوں میں لینے پڑیں گے ورنہ اتنے برس کی تکلیفوں کا نتیجہ مثبت کی بجائے منفی ہی نکلے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *