مارک زکربرگ ، بل گیٹس اور قطروں کے مسائل

jamil khanچہرے کی کتاب فیس بک کے مالک مارک زکربرگ نے بیٹی کی پیدائش پر اپنی دولت کا تقریباً ننانوے فیصد حصہ فلاحی کاموں کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا کرلیا، ہمارے ہاں احساسِ کمتری کے مارے بعض لوگوں نے گویا ایک طوفان کھڑا کردیا ہے۔ اب اتنی سی بات پر اپنے لوگوں کو طعنے مارنے کی بھلا کیا ضرورت تھی اور اس موقع پر یہ واویلا کرنا کیونکر ضروری تھا کہ ہمارے ملک میں ہے کوئی ایسا جو اس قدر خطیر رقم خیرات کرے؟
حالانکہ کس قدر عجیب بات ہے کہ بندہ اتنی بڑی رقم خیرات کرے اور ”جیوندا رہوے.... بھاگ لگے رہویں.... تہاڈے بچے جیویں....“ کی قبیل کی آوازیں نہ سنائی دیں تو کیا خاک اجر ملے گا۔
سنا ہے کہ اس قدر خطیر رقم دنیا بھر کے مستحق انسانوں کے لیے طبی مقاصد میں استعمال کی جائے گی۔ ہمارے ہاں طبی مسائل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تقریباً حل کر لیے گئے ہیں، اور جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بے گانگی¿ دنیاکا شعار کچھ زیادہ ہے، ہم حیات چار روزہ کے محض چار نکاح کوآخرت کی 72 حوروں پر ترجیح دے کر اپنا ایمان خراب نہیں کرسکتے۔
ہمارے ہاں اگر لوگوں کی بڑی تعداد ایسے امراض سے بھی فوت ہوجاتی ہے، جن کا علاج پچھلی صدی کی ابتدائی دہائیوں میں دریافت کرلیا گیا تھا تو پھر یہ ان کا نصیب ہے.... قدرت کی منشا میں کون دخل دے سکتا ہے، اور ہونی کو کون روک سکتا ہے۔
ہمارے ملک میں طب کے میدان میں شاندار ترقی ہوئی ہے، جس کا اندازہ کیبل پر چلنے والے نیم دو نیم حکیموں کے اشتہارات سے کوئی طفل مکتب بھی کرسکتا ہے، جن کے کشتہ اسٹین لیس سٹیل کا ایک زمانہ معترف ہے۔
ہمارے ہاں ہرقسم کی شاعرانہ و غیرشاعرانہ داد، اور سیاسی و غیرسیاسی خارش کے لیے استاد محمد اکرم کا تیل مجرب اور آزمودہ ہے اور گلی گلی آواز لگا کر فروخت ہورہا ہے۔
چنانچہ اب خیرات و صدقات کو طبی مسائل کے حل یا عوامی فلاح کے منصوبوں میں استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کا حق دار مساجد، مولویوں اور مذہبی اداروں کو ہی سمجھا جاتا ہے۔
اب دیکھئے ناں کہ ہمارے ملک کی ایک انتہائی دولت مند شخصیت نے خطیر رقم خرچ کرکے ایسی عالیشان مسجد تعمیر کی ہے، کہ سارا عالم عش عش کر ا±ٹھا ہے۔ یہ تو حاسدین نے ناحق مشہور کر رکھا ہے کہ ان کے اور ان جیسے دیگر کی وجہ سے ملک میں مکانات کی قیمت آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ہیں، اور پراپرٹی کے کاروبار میں کالے دھن کی بہت بڑی مقدار داخل ہوگئی ہے۔
رہ گئی بات مارک زکربرگ کی تو یوں بھی وہ نگوڑ مارا ابھی کل لونڈا ہی تو ہے۔ ذرا دنیا کی اونچ نیچ سیکھ لے تو عقل آجائے گی۔ لو بھلا بیٹی کی پیدائش پر اتنی رقم دان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہمارے ہاں تو عقیقے میں بیٹی کے لیے ایک ہی بکرا ذبح کرکے کام چل جاتا ہے۔ ہاں اگر خدا بیٹا عطا کردے تو پھر دو بکرے قربان کیے جاتے ہیں۔ یوں بھی اولادِ نرینہ کی خوشی دوگنی ہوتی ہے اور اکثر کو اللہ کے کرم و حکیم صاحب کے کشتوں کی مدد سے اور بعض کو جملہ احباب کی مشترکہ کوششوں سے کہیں جاکر نصیب ہوتی ہے۔
چلیں مان لیا کہ بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے، اور اللہ نے نواز بھی رکھا ہے تو لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے خیرات بانٹنے سے جو اجرو ثواب ملتا ہے، وہ یوں دور دراز کے ملکوں کے مسائل حل کرنے سے کہاں میسر آئے گا؟
لیکن دیارِ فرنگ میں مقیم کوئی کافر اس بات کا اندازہ کیسے لگاسکتا ہے؟
یہ تو مملکت خداداد کے باشندوں کے لیے اللہ پاک کا خاص انعام ہے۔ لوگوں کی بدحالی، مفلسی اور غربت کو اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھ کر جو تسکین مل سکتی ہے، وہ اس طرح کے فلاحی کاموں سے کیا خاک میسر آئے گی؟ بھکاریوں کی طویل قطاریں دیکھ کر کسی بھی صاحب ایمان کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوجاتا ہے اور دلِ مضطر کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ مہربان تو گدھا بھی پہلوان، وغیرہ وغیرہ۔
دوسرے ہمارے ہاں دو یا تین درجن افراد کے لیے مہینے بھر کا راشن بھی تقسیم کرنا ہو تو سینکڑوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں، پھر اگر بھگدڑ مچ جائے تو سبحان اللہ.... ثواب میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے، کہ بھگدڑ میں کچل کر مرنے والے شہادت کے مرتبے پر جو فائز ہوجاتے ہیں.... اور علمائے دین شرع متین بیان کرتے ہیں کہ شہیدوں سے حساب کتاب نہیں ہوتا اور جس جگہ کوئی شہید ہوتا ہے، وہاں اللہ کا نور برستا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
ہمیں جانتے ہیں کہ مارک کی دولت سے جس قسم کے فلاحی کام کیے جائیں گے، وہ بل گیٹس کی دولت سے کیے جانے والے فلاحی کاموں کی طرز سے کیا مختلف ہوں گے!
بل گیٹس کی امداد سے ہمارے ہاں پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے ہاں جابجا درو دیوار پر جلی حرفوں میں تحریر ہے کہ قطروں کے مسائل کے لیے قبلہ بڑے حکیم صاحب سے رجوع کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *